خسرہ پرقابو پانےکیلئے شہرو مضافات میں بچوں کوبُوسٹرڈوز دیا جائےگا

Updated: November 28, 2022, 11:36 AM IST | Kazim Sheikh and Shahab Ansari | Govandi

آج سے خصوصی مہم کے تحت ایک لاکھ ۳۸؍ ہزار بچوں کو ٹیکہ لگانے کی کارروائی شروع ہونے کا امکان۔ وبا کی روک تھام کیلئے تاریخ میں پہلی مرتبہ ۹؍ ماہ سے کم عمر کے بچوں کو بھی خسرہ کا ٹیکہ لگایا جائے گا

A special project is being done by BMC to control measles.Picture:INN
خسرہ پر قابو پانے کیلئے بی ایم سی کی جانب سے خصوصی مہم شروع کی جارہی ہے۔ تصویر :آئی این این

 مرکزی وزارت صحت کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے خسرہ کی وبا کی روک تھام کیلئے بی ایم سی نے ان علاقوں میں جہاں خسرہ کے معاملات پائے گئے ہیں، سوا لاکھ سے زائد بچوں کو خسرہ کا بُوسٹرڈوز(اضافی ٹیکہ) دینے کا فیصلہ کیا ہے۔  اس مہم کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ۶؍مہینے سے ۹؍ مہینوں کے درمیان کی عمر کے بچوں کو بھی ٹیکہ دیا جائے گا۔ اب تک ۹؍ ماہ سے ۵؍سال کے عمر کے بچوں کو یہ ٹیکے لگایا جاتا تھا لیکن اس وقت جو وبا پھیلی ہوئی ہے ،اس میں ۹؍ فیصد بچوں کی عمریں ۹؍ مہینوں سے کم ہے۔ مزید یہ کہ اب تک اس بیماری سے جن ۱۳؍ بچوں کی موت ہوئی ہے، ان میں سے ۲؍ بچوں کی عمریں ۹؍ ماہ سے کم تھی جس کی بنیاد پر ایمرجنسی حالات کے طور پر ۶؍ ماہ سے ۹؍ ماہ کے درمیان  کے بچوں کو بھی ٹیکہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔  اس مہم کے دوران بی ایم سی ایک لاکھ ۳۸؍ہزار بچوں کو ٹیکہ لگائے گی جن میںوہ بچے بھی شامل ہیں جنہیں ’’نیشنل ویکسی نیشن شیڈول‘‘ میں ضروری قرار دیئے گئے خسرہ کے ایک یا دونوں ٹیکے پہلے ہی لگائے جاچکے ہیں۔اس وبا کی روک تھام کیلئے بی ایم سی نے مختلف علاقوں کا سروے کیا تھا  جس کی رپورٹ کی بنیاد پر شہری انتظامیہ نے خسرہ سے بُری طرح متاثر علاقوں کا انتخاب کیا ہے جہاں خصوصی مہم کے تحت بوسٹرڈوزدیا جائے گا۔بی ایم سی سروے کے دوران تقریباً ۴؍ ہزار ایسے بچے سامنے آئے ہیں جنہیں خسرہ کا ایک بھی ٹیکہ نہیں لگا ہے اور اس مہم میں ان بچوں کو بھی ٹیکہ لگایا جائے گا۔ واضح رہے کہ مرکزی وزارت صحت کی جانب سے متنبہ کیا گیا ہے کہ ممبئی اور آس پاس کے علاقوں میں خسرہ کی وبا آئندہ ۲؍ مہینوں میں مزید بڑھ سکتی ہے جس کی وجہ سے ٹیکہ کاری کی خصوصی مہم کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ریاستی حکومت نے بھی اسے منظوری دے دی ہے نیز تمام اضلاع کو ’ایڈوائزری‘ بھیج دی ہے جس کے تحت اب بچوں کو خسرہ کی اضافی خوراک دی جائے گی اور ۹؍ماہ سے کم عمر کے بچوں کو ایک خوراک پیر ۲۸؍ نومبر(آج) سے دینے کا امکان ہے۔
 گوونڈی میں ایم ایسٹ وارڈ کے محکمۂ صحت کے ایک افسر کے مطابق اس تناظر میں ریاستی محکمۂ صحت کے پرنسپل سیکریٹری سنجے کھنڈارے نے تمام اضلاع کو ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خسرہ کی وبا پر قابوپانے کیلئے  مرکزی حکومت کی ہدایات کے مطابق ممبئی میں ایک لاکھ ۳۸؍ ہزار بچوں کو پیر سے ایم آر ویکسین کا بوسٹرڈوز دیا جائے گا۔  محکمۂ صحت کے ایک سینئر افسر کے مطابق یہ بوسٹر ڈوز۳۳؍ ہیلتھ پوسٹ کے ذریعہ دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی  ساتھ۱۳؍ہیلتھ  پوسٹ پر ۶؍ماہ سے ۹؍ ماہ کی عمر کے ۳؍ ہزار ۴۹۶؍ بچوں کو خسرہ سے بچانے کیلئے احتیاطی خوراک دی جائے گی۔ یہ خوراک ان علاقوں میں دی جائے گی، جہاں ۹؍ ماہ سے کم عمر کے تقریباً۹؍فیصد بچے خسرہ کا شکار ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ حکومت اور شہری انتظامیہ کا وبا کو جانچنے کا اپنا ایک الگ طریقہ ہے جس کی بنیاد پر موجودہ وبا کو ایک وبا کے بجائے ایک سے زیادہ وبا گنا جاتا ہے۔ مثلاً بی ایم سی کے مطابق گوونڈی میں اس سال خسرہ کی وبا پھیلنے کے کئی معاملات ہوچکے ہیں۔ اسی تکنیکی بنیاد پر حکومت اور بی ایم سی نے دعویٰ کیا ہے کہ پوری ریاست میں اس سال خسرہ کی وبا پھیلنے کے ۵۲؍ معاملات ہوئے ہیں جن میں سے سب سے زیادہ معاملات ممبئی میں ہوئے ہیں جن کی تعداد ۲۲؍ بتائی گئی ہے۔ اس کے بعدمالیگائوں میں ۱۱؍ اور بھیونڈی میں ۱۰؍ مرتبہ یہ وباء پھیلنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ایک سینئر ہیلتھ افسر کے مطابق خسرہ پر قابوپانے کیلئے ضروری ہے کہ غذا کی کمی کے شکار بچوں کو ٹیکہ لگانے پر زیادہ توجہ دی جانی چاہئے کیونکہ ایسے بچوں کا اس بیماری سے جلد متاثر ہونے کا زیادہ خدشہ رہتاہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیکہ لگانے کیلئے آنگن واڑی کے ورکروں کو میونسپل  افسران کی مدد کرنے کی ہدایت دی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK