• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آپ ہیں حافظ عبدالحنان، عمر ۸۶؍سال، تراویح کا ۶۹؍واں سال

Updated: February 27, 2026, 12:58 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

محلہ مِردگان (بجنور)کی جامع مسجد میں ۲۷؍روزہ تراویح پڑھا رہے ہیں، خدمت ِ قرآن کے طویل سفر میں ۱۰؍سال ممبئی میں بھی پڑھا چکے ہیں۔

Hafiz Waqari Abdul Hanan led Taraweeh prayers at Nakhoda Mohalla Mosque for 10 years. Photo: INN
حافظ وقاری عبدالحنان نے ناخدا محلہ مسجد میں ۱۰؍ برس تک تراویح پڑھائی تھی۔ تصویر: آئی این این

عمر کی ۸۶؍ویں بہار دیکھنے والے حافظ وقاری عبدالحنان۶۹؍ سال سے تراویح پڑھارہے ہیں۔ وہ فی الوقت ضلع بجنور کی محلہ مِردگان میں واقع جامع مسجد میں ۲۷؍روزہ تراویح پڑھارہے ہیں جہاں وہ ۶۳؍سال سے خطیب و امام بھی ہیں۔ اس مسجد میں امامت وخطابت کے دوران ۱۰؍برس تک تراویح ۱۹۸۱ء سے ۱۹۹۰ء تک ناخدا محلہ، ممبئی کی مسجد میں پڑھائی تھی۔ انہیں یوسف پٹیل نے بلوایا تھا۔ 
طویل العمری کے باوجود قاری صاحب کے تراویح پڑھانے کے معمول میں کوئی فرق نہیں آیا۔ پہلی تراویح ۱۹۵۹ء میں مرکز مسجد بجنور میں سنائی تھی۔ اس کے بعد ۴؍سال سبزی منڈی والی مسجد بجنور، اس کے بعد۱۸؍ سال مردگان بجنور کی مسجد میں ، اس کے بعد ۱۰؍ سال ممبئی میں، اس کے بعد ۳۵؍سال سے مردگان کی جامع مسجد میں سنارہے ہیں۔ مردگان کی مسجد میں تراوریح پڑھانے کا مجموعی دورانیہ ۵۳؍ سال کا ہوچکا ہے۔ 
محلہ مردگان کی جامع مسجد میں ۱۸؍سال پڑھانے کے بعد کچھ لوگ مخالف ہوگئےتھے۔ اسی اثناء میں حضوراکرم ؐکی خواب میں زیارت ہوئی، آپؐ نے اپنے دستِ مبارک سے میرا ہاتھ دبایا۔ اس کی تعبیر مولانا مقبول الرحمٰن سیوہاروی ؒنے یہ دی تھی کہ تمہاری پیشگی حفاظت ہوچکی ہے۔ اسی سال یوسف پٹیل نے مجھے ممبئی بلوالیا تھا۔ یہ پوچھنے پر کہ کیا آپ کا یوسف پٹیل سے پہلے سے تعلق تھا تو ان کا کہنا تھاکہ ’’میرا یوسف پٹیل سے تعلق نہیں تھا مگر بجنور کے لوگ وہاں رہتےتھے، انہوں نے تذکرہ کیا ہوگا۔ ‘‘
قاری عبدالحنان نے حفظ کی تعلیم ہادی شاہ مسجد بجنور میں حافظ محمد اسحاق صاحب سے اور تجوید وقرأت قاری غریب نواز ؒسے سیکھی جو کھار جامع مسجد میں تراویح پڑھاتے تھے۔ قار ی عبدالحنان بتاتے ہیں کہ ۱۹۵۷ء میں حضرت شیخ الاسلام مولانا سیدحسین احمد مدنیؒ بجنور آئے تھے تومیرے سر پر ہاتھ رکھ کردعا فرمائی تھی۔ اسی طرح جب تک دارالعلوم میں زیر تعلیم رہے، صدر گیٹ سے متصل مسجد میں دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلا م قاری محمد طیبؒ کے ساتھ نائب امام کی ذمہ داری ادا کرتے رہے۔ دارالعلوم میں طالب علمی اور نائب امام کی ذمہ داری ادا کرنے کے دوران ان کی یہ خوش بختی رہی کہ ایک مرتبہ دفتر محاسبی کے ناظم نے بلوایا اور کہا کہ وضو کرکے آؤ، پھر صندوقچہ منگوایا اور کہا کہ اس میں سرکار دوعالم ؐکا رومال مبارک ہے، اس پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ لو، ( اب معلوم ہوا ہے کہ وہ رومالِ مبارک مقفل کردیا گیاہے)۔ 
یہ پوچھنے پر کہ اس استقامت کا بنیادی سبب کیا ہے تو قاری عبدالحنان نے کہاکہ اس میں تین چیزیں شامل ہیں ۔ اول زیارت نبی کریم ؐ، دوسرے آقائے دوعالم ؐکا رومال مبارک کا میرے ہاتھوں سے مس ہونا اور تیسرے حضرت مدنی ؒکا دست ِ شفقت اور خصوصی دعا۔ اب یہی دعا ہے کہ اللہ پاک ایمان پرخاتمہ فرمائے۔ 
قاری عبدالحنان کا یومیہ دس پارے تلاوت معمول ہے اور جب بجنور سے دہلی کابذریعہ بس سفر ہوتا ہے تو اس میں ۲۵؍ پاروں کی تلاوت کرلیتے ہیں۔ یومیہ ۱۰؍ پارے کی تلاوت کے معمول کے تعلق سے انہوں نے ایک سبق آموز واقعہ سنایا۔ ممبئی میں تراویح کے سنانے کے دوران تصوف واصلاح کی غرض سے معروف بزرگ مولانا عبدالحلیمؒ جونپوری سے تعلق ہوا۔ مولانا نے بیعت کرنے کے بعد اوراد اور وظائف بتائے مگر کچھ عرصہ گزر نے کے بعد حافظ عبدالحنا ن نے اپنے شیخ سے کہاکہ تسبیحات کی پابندی ممکن نہیں ہوتی اورنہ ہی اس کےلئے یکسوئی ہورہی ہے۔ اس پرمولانا عبدالحلیم ؒ نے پوچھا کہ پھرکس چیز پرآپ کی طبیعت جم رہی ہے توانہوں نے کہاکہ تلاوتِ قرآن کریم پر۔ اس پرمولانا نے کہا کہ آپ ۱۰؍پارے یومیہ تلاوت کا معمول بنالیں، چنانچہ یہ میرا معمول بن گیا۔ 
نئے حفاظ کو قاری عبدالحنان نے مشورہ دیا کہ قرآن کو مضبوطی سے پکڑیں اور اسے ذریعہ ٔمعاش نہ بنائیں ، ان شاء اللہ ساری چیزیں خود ملیں گی۔ خود قاری صاحب کی غیور اورخود دار طبیعت کا حال یہ ہے کہ ۶۳؍سالہ امامت وخطابت کے دوران کسی متولی کے گھر نہیں گئے۔ 
طالب علمی کے زما نے میں دارالعلوم میں فخرالمحدثین مولانا فخرالدین سے بخاری شریف، مولانا فخرالحسنؒ، علامہ ابراہیم بلیاویؒ، مولانا بشیر احمد خانؒ، میاں اختر حسین ؒاور مولانا عبدالاحدؒ وغیرہ جیسے جیدعلماء وماہرین ِ فن سےمختلف علوم وفنون کی کتابیں پڑھیں اورکسبِ فیض کیا۔ وہ قاسمی ہیں مگر عوام الناس میں قاری صاحب سے ہی مشہور ہیں۔ 
قاری عبدالحنان کی شخصیت کایہ اثر ہے کہ وہ بجنور شہر و اطراف کے علاقوں میں سماجی تعلیمی اور سیاسی جماعتوں میں خصوصی طور پر فلاحی، بھائی چارہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے نمایاں رول ادا کرتے رہے ہیں۔ برادران وطن بھی آپ کو ادب و احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ فسادات اور ہنگامی حالات میں سرکاری اہلکار اور پولیس محکمہ کے ساتھ قیام ِ امن کی کوششوں میں آپ کا نمایاں رول رہا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK