دہلی میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ۲؍ ہزار پولیس اہلکار تعینات، ڈرون سے نگرانی، لکھنؤ، حیدر آباد اور سری نگر میں بھی سخت انتظامات۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 9:23 AM IST | Lucknow
دہلی میں امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ۲؍ ہزار پولیس اہلکار تعینات، ڈرون سے نگرانی، لکھنؤ، حیدر آباد اور سری نگر میں بھی سخت انتظامات۔
ملک بھر میں آج یوم عاشورہ اورشہادت حسین ؓکی مناسبت سے نکالے جانے والے جلوس کی تیاریاںمکمل کرلی گئی ہیں۔حیدر آبا د ، لکھنؤ ، سری نگراور دیگر شہروں سے آج برآمدہونے والے ماتمی جلوس کیلئے پولیس نے سخت سیکوریٹی انتظامات کئے ہیں۔ اس سے قبل کئی شہروں میں ۸؍ اور۹؍ محرم کو جلوس نکالے گئے،تاہم آج بڑے جلوس کیلئے بڑے پیمانے پرانتظامات کئے گئے ہیں۔دہلی پولیس نے محرم کے موقع پر آج نکالے جانے والے تعزیہ جلوس کیلئے خصوصی تیاریاں کی ہیں۔ جلوس کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے ڈرون سے نگرانی کی جائے گی اوربڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات رہیں گے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ شمال مشرقی دہلی اور شمالی دہلی میں جلوس کے دوران۲؍ ہزار سے زیادہ پولیس اہلکار تعینات کئے جائیں گے۔
اس کے پیش نظر پولیس نے سیکوریٹی کے وسیع انتظامات کئے ہیں۔ پولیس نے علاقے کی سرکردہ شخصیات اورمقامی امن کمیٹی کے اراکین کے ساتھ میٹنگیں بھی کی ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جلوس کے دوران کوئی خلل ،افرا تفری اور نا خوشگوار واقعہ نہ ہو۔
لکھنؤ میں ٹریفک میں تبدیلی، سخت سیکوریٹی
لکھنؤ میں آج عاشورہ کا جلوس نکالا جائے گاجس کی وجہ سے پرانے لکھنؤ میں ٹریفک کا رخ موڑ دیا گیا ہے۔ جلوس صبح۱۰؍ بجے ناظم صاحب امام باڑہ سے شروع ہو کر بازارخلا سے ہوتا ہوا دوپہرڈھائی بجے تال کٹورہ پر اختتام پذیر ہوگا۔ ٹریفک پولیس نے صبح ۷؍بجے سے ڈائیورژن پلان پر عمل درآمدشروع کردیا تھا۔ مزید برآں، مہانگر اور تیلی باغ کے علاقوں میں تعزیہ کے جلوس کی وجہ سے رخ موڑ دیا گیا ہے۔
عزاداروں کا علی گنج مہلوکین کو خراج عقیدت
اس سے قبل راجدھانی لکھنؤ میں آٹھویں محرم کا تاریخی جلوس دریا والی مسجد سے شروع ہو کر چوک علاقے میں واقع غفران مآب امام باڑہ پہنچا۔ جلوس آصفی امام باڑہ اور رومی دروازہ سے ہوتا ہوااپنے روایتی راستے پر آگے بڑھا۔ جلوس میں سیکڑوں عزاداروں نے شرکت کی اور حضرت عباس علمدارؓ کو خراج عقیدت پیش کیا۔اس موقع پر معروف مذہبی رہنما مولانا کلب جواد نقوی نے واضح کیا کہ لکھنؤ کا یہ جلوس تاریخی ہےجس میں لکھنؤ اور آس پاس کے علاقوں کے تمام مذاہب کے لوگ شرکت کرتے ہیں۔ اس موقع پر عزاداروں اور جلوس کے شرکاء نے علی گنج کوچنگ سینٹر آتشزدگی میں جان گنوانے والوں کو بھی خراج عقیدت پیش کیا ۔ جلوس کے راستے میں پانی کے متعدد اسٹال لگائے گئے تھے۔ بہت سے اسٹالز پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تصاویر کے ساتھ امریکی حملے میں جاں بحق ہونے والی طالبات کی تصاویر بھی تھیں۔اس کے علاوہ آج سری نگر، حیدرآباداوردیگر کئی چھوٹے بڑے شہروںمیںامام حسینؓ کی یاد میںجلوس برآمد ہوگا جس کیلئے مقامی سطح پرشہری انتظامیہ اورپولیس نے سیکوریٹی کے سخت انتظا مات کئے ہیں۔سری نگر میں ۱۰؍ محرم کا جلوس بوٹہ کدل لال بازار سے امام باڑہ زڈی بل تک نکالا جائے گا۔ حیدر آباد میںماتمی جلوس کو’بی بی کا علم ‘کہاجاتا ہے۔ جلوس کا آغاز دابیر پورہ سے ہوتا ہے اورچادر گھاٹ (مسجد الٰہی) پرختم ہوتا ہے ۔ داؤدی بوہرہ جماعت نے بھی کئی شہروں میںامام حسین ؓکی شہادت کو یاد کیا اور شام غریباںکا انعقاد کیا جن میںبچے اوربڑے سبھی شریک ہوئے ۔