مرمت کے بعد ٹیبل فین سے سکھانے کی تصویر نے حکومت کو مذاق کا موضوع بنا دیا، ہائی وے بنانے والی کمپنی نے دفاع کیا کہ اس سے گیلی سڑک جلد سوکھے گی۔
EPAPER
Updated: August 08, 2026, 10:21 AM IST | Kanpur
مرمت کے بعد ٹیبل فین سے سکھانے کی تصویر نے حکومت کو مذاق کا موضوع بنا دیا، ہائی وے بنانے والی کمپنی نے دفاع کیا کہ اس سے گیلی سڑک جلد سوکھے گی۔
کانپور (ایجنسی): لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے کی تعمیر کے معیار پر پہلے ہی سوالات اٹھ رہے تھے لیکن اب سڑک کی مرمت کے دوران مزدوروں کی جانب سے تازہ بچھائے گئے’’ بٹومین‘‘ کو خشک کرنے کیلئے ٹیبل فین کے استعمال کا ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد یہ منصوبہ ایک بار پھر مذاق کا موضوع بن گیا ہے۔ تقریباً ۴۲۰۰؍کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کئے گئے اس ایکسپریس وے کو ابھی کھلے چند ہی ہفتے گزرے ہیں، مگر سڑک کے مختلف حصوں میں خرابیوں اور مرمت کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ گزشتہ ۱۸؍ دن میںاس ہائی وے پر ۸۴؍ جگہوں پر گڑھے پڑ گئے ہیں۔
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے ایکس پر ایک ویڈیو شیئر کیاجس میں ایکسپریس وے کے کنارے ٹیبل فین اور ایگزاسٹ فین لگے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس پر طنز کیا کہ یہ بی جے پی طرز کی ’ترقی‘ کی نئی لہر ہے۔ جس سڑک کا افتتاح چند روز قبل ہوا تھا، اسے اتنی جلدی مرمت کی ضرورت پڑ گئی اور اب مرمت کے کام کو ’ایکسپریس اسپیڈ‘ سے خشک کرنے کیلئےٹیبل فین کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کون شخص ایسے ایکسپریس وے پر سفر کرنے کا خطرہ مول لے گا جو افتتاح کے صرف دو تین ہفتوں بعد ہی خراب ہونا شروع ہوگیا ہو ۔
اس معاملے میں سب سے زیادہ تنقید تعمیراتی کمپنی پی این سی انفراٹیک پر ہو رہی ہے۔ سڑک کی تعمیر کے معیار سے متعلق متعدد شکایات کے بعدنیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا یعنی این ایچ اے آئی نے کمپنی کو ’نان پرفارمر‘ قرار دینے کی کارروائی شروع کر دی ہے۔تاہم پی این سی انفراٹیک کے جنرل منیجر انگولوری ستیانارائن نے پنکھوں کے استعمال کا دفاع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بارش کے وقفے وقفے سے جاری رہنے کے باعث سڑک کی سطح پر نمی موجود تھی اور پنکھوں کا مقصد اس نمی کو دور کرنا اور بٹومین کی تہوں کو جلد سیٹ ہونے میں مدد دینا تھا۔لیکن مسئلہ صرف پنکھوں تک محدود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پارلیمنٹ احاطے میں ’’امیت شاہ لاپتہ‘‘ کا پوسٹر،ایوان سے ہنوز غیر حاضر
اطلاعات کے مطابق افتتاح کے بعد محض ۲۲؍ دن کے دوران ایکسپریس وے کے مختلف حصوں میں سڑک دھنسنے یا نئی خرابیاں پیدا ہونے کے کم از کم ۹؍واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ مرمت کے لئے ۸۰؍ سے زیادہ مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے۔این ایچ اے آئی کے ریکارڈ کے مطابق اب تک ۸۴؍ خراب مقامات کی نشاندہی ہو چکی ہے۔ ان میں۳۹؍لکھنؤ کی سمت جانے والی سڑک پر جبکہ ۴۵؍کانپور کی جانب جانے والے کیریج وے پر ہیں۔ بعض مقامات پر معمولی پیوند کاری سے کام چلایا گیا لیکن کچھ حصوں میں سڑک کے دھنس جانے کے باعث مکمل تعمیر نو کرنا پڑی۔اس معاملے کا سب سے سنگین واقعہ ۳۰؍ جولائی کو پیش آیا، جب بجری سے لدا ایک ٹرک سڑک کے خراب حصے میں دھنس گیا۔
اس کے بعد تقریباً ایک ہزار مربع فٹ رقبے کی سڑک کو تقریباً دو فٹ کی گہرائی تک کھود کر دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ حیرت انگیز طور پر مرمت کے کچھ ہی عرصے بعد اس حصے میں دوبارہ دراڑیں پڑنے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے سڑک کے اندرونی ڈھانچے اور تعمیراتی معیار پر مزید سوالات اٹھ گئے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہنگامی مرمت کے دوران پنکھوں جیسے آلات کے ذریعے سطحی نمی کو کم کرنا ممکن ہے لیکن کسی بھی ایکسپریس وے کی پائیداری کا انحصار صرف سطح کو خشک کرنے پر نہیں ہوتا۔ سڑک کی مضبوطی کے لئے معیاری تعمیراتی مواد، مناسب کمپیکشن، مؤثر نکاسیٔ آب اور مقررہ انجینئرنگ اصولوں پر سختی سے عمل ضروری ہے۔این ایچ اے آئی کے اترپردیش کے چیف جنرل منیجر اور ریجنل افسر گوتم وشال نے واضح کیا کہ مرمت کا تمام خرچ تعمیراتی کمپنی کو خود برداشت کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی این سی انفراٹیک کو بہترین معیار کے مواد سے ایکسپریس وے کی مرمت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور این ایچ اے آئی اس کام کے لیے کمپنی کو کوئی ادائیگی نہیں کرے گا۔ادھر این ایچ اے آئی نے اس منصوبے سے وابستہ بعض اعلیٰ افسران اور کمپنی کے خلاف کارروائی کا بھی اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھئے: شیوسینا بنام شیوسینا کیس حتمی مرحلہ میں داخل، اُدھو خیمہ پُراُمید
منصوبے کے موجودہ پروجیکٹ ڈائریکٹر نکول پرکاش ورما کو ان کے اصل محکمے میں واپس بھیج دیا گیا ہے۔این ایچ اے آئی کے بیان کے مطابق سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر سوربھ چورسیا کے خلاف بھی چارج شیٹ جاری کی جا رہی ہے۔ ان کے دور میں منصوبے کی تعمیر کا ایک بڑا حصہ مکمل ہوا تھا۔ موجودہ پروجیکٹ ڈائریکٹر نکول پرکاش ورما کے خلاف بھی اپنی ذمہ داریوں کی مبینہ غفلت برتنے پر کارروائی کی جا رہی ہے۔یوں ایکسپریس وے کا معاملہ محض سڑک کی سطح پر پڑنے والی دراڑوں کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ اس نے پورے منصوبے کے تعمیراتی معیار، نگرانی کے نظام اور ذمہ داری طے کرنے کے طریقۂ کار پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔