• Sat, 14 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرائی نے ۳۱ء۷؍لاکھ غیر قانونی ٹیلی مارکیٹرز کو نوٹس جاری کر دیے

Updated: February 14, 2026, 1:04 PM IST | New Delhi

اسپیم کالز کے خلاف کریک ڈاؤن: ہندوستانی ٹیلی کام ریگولیٹری اتھاریٹی نے غیر ضروری کالز اورمیسیج (اسپیم) پر لگام کسنے کے لیے سال ۲۰۲۵ء کے دوران بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔

TRAI Image.Photo:INN
ٹرائی کی امیج ۔ تصویر:آئی این این

ہندوستانی ٹیلی کام ریگولیٹری اتھاریٹی  نے غیر ضروری کالز اورمیسیج (اسپیم) پر لگام کسنے کے لیے سال  ۲۰۲۵ء کے دوران بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔ اتھاریٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر ۷؍لاکھ ۳۱؍ ہزار سے زائد غیر قانونی ٹیلی مارکیٹرز کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
ٹرائی کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتایا گیا ہے کہ اسپیم نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے سخت اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر۴۷۳۰۷۵؍  اداروں پر ایک ماہ کے لیے مواصلاتی پابندیاں عائد کی گئیں۔ مسلسل خلاف ورزی کرنے والے۸۹۹۳۶؍ اداروں پر چھ ماہ کے لیے پابندی لگائی گئی۔ قوانین کی عدم پاسداری پر گزشتہ سال۱۸۴۴۸۲؍ ٹیلی کام کنکشن منقطع کیے گئے۔
واضح رہے کہ اگست ۲۰۲۴ء سے اب تک مجموعی طور پر۰۵ء۲۱؍ لاکھ سے زائد ٹیلی کام وسائل  کے کنکشن کاٹے جا چکے ہیں، جو ٹیلی کام نظام کو شفاف بنانے کی سمت میں ایک بڑی کامیابی ہے۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اب صارفین غیر ضروری کالز کے خلاف زیادہ متحرک ہو رہے ہیں۔ گزشتہ سال مختلف ذرائع سے  ۰۹ء۳۱؍لاکھ شکایات موصول ہوئیں۔ کل شکایات میں سے آدھی سے زیادہ یعنی ۰۷ء۱۷؍ لاکھ شکایات ڈو ناٹ ڈسٹرب  (ڈی این ڈی ) ایپلی کیشن کے ذریعے درج کرائی گئیں۔ ایک سال کے دوران ڈی این ڈی ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے رجحان میں۴۳ء۸۴؍ فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا، اور اب اس کے صارفین کی تعداد ۰۸ء۲۸؍ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اماراتی اولمپک رنر مریم الفارسی نے روزوں کے دوران ٹریننگ کے گر بتا دیے

 یورپی یونین کے لیے ہریانہ میں ورکنگ گروپ  کے قیام کا اعلان
 ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان ہونے والے آزاد تجارتی معاہدے کو ریاست کے لیے ایک تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے ہریانہ-یورپی یونین ورکنگ گروپ کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ سینی نئی دہلی میں ہریانہ-یورپی تجارتی انجمن کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:’’او رومیو ‘‘میں ترپتی ڈمری کا زبردست روپ، لیڈی ہٹ مین بن کر چونکایا

سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعلیٰ نے صنعت کاروں پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ۲۷؍ ممالک پر مشتمل یورپی یونین ایک وسیع اور خوشحال مارکیٹ ہے، جہاں اعلیٰ معیار اور قوتِ خرید کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ہریانہ کی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک براہِ راست رسائی حاصل ہوگی۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، ڈیٹا سائنس اور سپلائی چین مینجمنٹ جیسے شعبوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ کسانوں کے لیے بھی یہ معاہدہ سودمند ثابت ہوگا کیونکہ ہریانہ کے پھل، سبزیاں اور پروسیس شدہ غذائی مصنوعات اب برسلز، برلن اور پیرس جیسی بڑی مارکیٹوں تک پہنچ سکیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK