Updated: October 02, 2026, 4:04 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو کی آئندہ انتخابات میں دوبارہ انتخاب کیلئے براہِ راست حمایت کرنے سے گریز کیا ہے۔ ’ٹائم‘ میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ وہ اب سیاسی حمایت کے معاملات میں شامل نہیں ہیں، تاہم انہوں نے اسرائیل کے دفاع میں مدد جاری رکھنے پر زور دیا۔ انہوں نے نیتن یاہو کے ممکنہ حریف گادی آئزن کوٹ کے بارے میں بھی کہا کہ انہوں نے ان کے بارے میں کوئی بری بات نہیں سنی، جبکہ نیتن یاہو کو کم تر نہ سمجھنے کی بات کہی۔
نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ کی فائل فوٹو۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اکتوبر میں ہونے والے انتخابات سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو کی دوبارہ انتخاب کیلئے حمایت کرنے سے گریز کیا ہے۔ اناطولیہ ایجنسی کے مطابق ٹرمپ نے ’ٹائم‘ میگزین کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اپنے دیرینہ اتحادی نیتن یاہو کی براہِ راست حمایت کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب سیاسی حمایت کے معاملات میں شامل نہیں ہوتے۔ پیر کو کیے گئے انٹرویو میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا ۲۷؍ اکتوبر کو ہونے والے انتخابات میں نیتن یاہو کو ایک اور مدت کیلئے موقع دیا جانا چاہئے تو انہوں نے کہا، ’’میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اب میں سیاست میں شامل نہیں ہوں، سوائے اس کے کہ ہم مقبول ہیں۔۔۔‘‘ جب ان سے واضح مؤقف اختیار کرنے کیلئے دوبارہ سوال کیا گیا تو امریکی صدر نے براہِ راست حمایت کا اعلان کرنے کے بجائے اسرائیل کیلئے اپنی حمایت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا، ’’نہیں، میری بنیادی توجہ یہ ہے کہ میں اسرائیل کے دفاع میں ان کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: مکہ: مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی افواہ، سیکوریٹی حکام نے تردید کی
اپوزیشن امیدوار سے متعلق تبصرہ
ٹرمپ نے اس کے بجائے اسرائیلی عوام میں اپنی مقبولیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی کی پالیسیوں کے باعث اسرائیل میں ان کی مقبولیت ’’تقریباً ۹۹؍ فیصد‘‘ ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا واشنگٹن اپوزیشن امیدوار اور سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ کے ساتھ زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرسکتا ہے تو ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے آئزن کوٹ کے بارے میں ’’بری باتیں نہیں سنی ہیں‘‘، تاہم انہوں نے نیتن یاہو کو نظر انداز نہ کرنے کی بات کہی۔ ٹرمپ نے کہا، ’’لوگوں نے کئی بار ببی (نیتن یاہو) کو سیاسی طور پر ختم سمجھا ہے، بالکل اسی طرح جیسے انہوں نے کئی بار مجھے بھی ختم سمجھا۔ میں ببی کو کم تر نہیں سمجھوں گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: زیادہ اسکرین ٹائم کے سبب بچوں کی نشوونما متاثر: تحقیق
علاقائی جنگ کے باعث اتحاد میں تناؤ
ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اور لبنان و غزہ میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں کے درمیان گزشتہ چند ماہ کے دوران ٹرمپ اور نیتن یاہو کے تعلقات میں بھی تناؤ بڑھا ہے۔ ٹرمپ کی پہلی صدارتی مدت کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان قریبی تعلقات رہے تھے۔ اس عرصے میں امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کیا گیا اور واشنگٹن نے ابراہیم معاہدوں کے ذریعے اسرائیل اور بعض عرب ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرانے میں کردار ادا کیا تھا۔ تاہم خطے میں تنازع کے پھیلنے کے ساتھ دونوں رہنماؤں کے درمیان اختلافات اور تناؤ میں اضافہ ہوا ہے۔