• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مادورو کی گرفتاری سے قبل ٹرمپ نے اے آئی چیٹ بوٹ ’گروک‘ سے مشورہ لیا: رپورٹ

Updated: October 02, 2026, 3:02 PM IST | Washington

وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کیلئے امریکی فوجی کارروائی سے تقریباً ایک ماہ قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایلون مسک کے اے آئی چیٹ بوٹ ’’گروک‘‘ سے وینزویلا میں ممکنہ عوامی ردعمل کے بارے میں سوالات کیے تھے۔ ’ٹائم‘ کی رپورٹ کے مطابق گروک نے مادورو کی گرفتاری پر عوامی جشن کی پیش گوئی کی تھی، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس جواب نے امریکی صدر کے فوجی فیصلے کو متاثر کیا یا نہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

جنوری ۲۰۲۶ء میں امریکہ نے وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کرکے امریکہ منتقل کیا، جہاں انہیں وفاقی سطح پر منشیات سے متعلق دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا کرنا ہے۔ وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر امریکی حملہ اور مادورو کی گرفتاری صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور امریکی ریاستی مشینری کا فوری طور پر بنایا گیا منصوبہ نہیں تھا، بلکہ اس کیلئے کئی ماہ تک منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ دراصل ٹرمپ نے ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک کے ٹرمپ انتظامیہ میں محکمۂ حکومتی کارکردگی (DOGE) سے الگ ہونے کے تقریباً ۷؍ ماہ بعد ان سے ایک خفیہ ملاقات بھی کی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، مشرق وسطیٰ میں ۹؍ ہزار امریکی فوجی بھیجے

’ٹائم‘ میگزین کی ایک رپورٹ، جس میں ایک امریکی عہدیدار کا حوالہ دیا گیا ہے، کے مطابق مادورو پر حملے اور ان کی گرفتاری سے صرف ایک ماہ قبل دسمبر ۲۰۲۵ء میں ٹرمپ نے ایلون مسک کے مصنوعی ذہانت پر مبنی چیٹ بوٹ ’گروک‘ سے کئی گھنٹوں تک سوالات کیے۔ ان میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ اگر امریکی فوج وینزویلا پر حملہ کرکے اس کے صدر کو گرفتار کرلے تو وینزویلا کے عوام کا ردعمل کیا ہوگا۔ چیٹ بوٹ نے جواب دیا کہ مادورو کو اقتدار سے ہٹائے جانے پر ملک میں جشن منایا جائے گا۔ اگرچہ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ گروک نے براہِ راست امریکی فوجی کارروائی پر اثر ڈالا، تاہم رپورٹ حکومت کے فیصلہ سازی کے عمل میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے کردار کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ بعد ازاں جب امریکی فوج نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر حملہ کرکے مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کرلیا اور ملک میں جشن منایا گیا تو اطلاعات کے مطابق ٹرمپ گروک کی بظاہر درست پیش گوئی سے متاثر ہوئے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ گروک کے جوابات نے ٹرمپ کے فیصلے کو کس حد تک متاثر کیا۔

یہ بھی پڑھئے: اٹلی: غزہ جنگ پر بنی ڈاکیومنٹری ’نازا‘ ریلیز، پہلے دو دن میں ۱۱؍ لاکھ یورو کمائے

مشن ’آپریشن ایبسولیوٹ ریزولو‘

یہ کارروائی دو گھنٹے اور ۲۰؍ منٹ تک جاری رہی اور اسے فضائی، زمینی اور بحری ذرائع سے انجام دیا گیا۔ اس کارروائی کا پیمانہ اور جس انداز میں اسے انتہائی درستگی کے ساتھ انجام دیا گیا، اسے غیر معمولی قرار دیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے فلوریڈا میں واقع اپنی رہائش گاہ ’مارا لاگو‘ میں فوجی جرنیلوں کے ہمراہ کراکس میں جاری پیچیدہ گرفتاری کی کارروائی کو براہِ راست دیکھا۔ انہوں نے ’فاکس نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’اگر آپ دیکھتے کہ کیا ہوا، میرا مطلب ہے، میں اسے لفظی طور پر ایسے دیکھ رہا تھا جیسے کوئی ٹی وی شو دیکھ رہا ہوں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK