• Fri, 02 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹلی: غزہ جنگ پر بنی ڈاکیومنٹری ’نازا‘ ریلیز، پہلے دو دن میں ۱۱؍ لاکھ یورو کمائے

Updated: October 02, 2026, 12:05 PM IST | Rome

غزہ جنگ پر بنائی گئی دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ نے اٹلی کے باکس آفس پر شاندار آغاز کرتے ہوئے ریلیز کے ابتدائی دو دنوں میں تقریباً ۱۱؍ لاکھ یورو کی کمائی کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کرلی۔ فلم کو ۲۸؍ سے ۳۰؍ ستمبر تک ۵۱۵؍ تھیٹروں میں دکھایا گیا تھا، تاہم زبردست عوامی دلچسپی کے باعث اس کی نمائش جاری ہے۔

Directors of the documentary film "Naza". Photo: INN
دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ کے ہدایتکار۔ تصویر: آئی این این

غزہ جنگ پر بنائی گئی دستاویزی فلم ’’نازا‘‘ نے اٹلی کے باکس آفس پر ریلیز کے ابتدائی دو دنوں میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ اٹلی کے باکس آفس ٹریکر سینی ٹیل کے مطابق منگل تک فلم کی مجموعی ٹکٹ فروخت تقریباً ۱۱؍ لاکھ یورو (۱۲؍ لاکھ ۴؍ ہزار ڈالر) تک پہنچ گئی۔ فلم نے پیر کو ۴؍ لاکھ ۵۱؍ ہزار ۸۷۲؍ یورو کی ٹکٹ فروخت اور ۶۰؍ ہزار ۴۶۷؍ ناظرین کے ساتھ پہلے نمبر پر آغاز کیا۔ سینی ٹیل کے اعداد و شمار کے مطابق اسی روز ’’ایونجرز: اینڈ گیم‘‘ کی دوبارہ نمائش سے ایک لاکھ ۷۹؍ ہزار ۶۱۲؍ یورو کی آمدنی ہوئی، یعنی فلم ’’نازا‘‘ کی کمائی اس کے دو گنا سے بھی زیادہ رہی۔ فلم منگل کو بھی پہلے نمبر پر رہی اور اس روز مزید ۶؍ لاکھ ۲۳؍ ہزار ۱۶۴؍ یورو کمائے جبکہ ۸۳؍ ہزار سے زائد افراد نے اسے دیکھا۔ اس طرح فلم کی مجموعی آمدنی ۱۰؍ لاکھ ۹۶؍ ہزار ۸۱۶؍ یورو ہوگئی اور اسے دیکھنے والے ناظرین کی تعداد ایک لاکھ ۴۶؍ ہزار ۷۲۰؍ تک پہنچ گئی۔

یہ بھی پڑھئے: فلائی دبئی کی پرواز کوہائی جیکنگ سے بچانے والے اسمیت مچھر ہیرو قرار

فلم ’’نازا‘‘ کو ابتدا میں ۲۸؍ سے ۳۰؍ ستمبر تک تین روزہ سنیما ایونٹ کے طور پر اٹلی کے ۵۱۵؍ تھیٹروں میں ریلیز کیا گیا تھا، جن میں سے کئی ہاؤس فل ہوگئے۔ زبردست عوامی دلچسپی کے باعث ابتدائی شیڈول ختم ہونے کے بعد بھی فلم کی نمائش جاری ہے۔ آسکر ایوارڈ یافتہ اسرائیلی فلم سازوں یووال ابراہم اور ریچل سور نے اس دستاویزی فلم کی ہدایتکاری کی ہے۔ فلم میں غزہ میں فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں کا جائزہ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس اہلکاروں کی گواہیوں کے ذریعے لیا گیا ہے۔ فلم کو تل ابیب کی چھتوں پر تین سال کے دوران خفیہ طور پر فلمایا گیا۔ اس میں اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس سے وابستہ ۲۴؍ افراد کی گواہیاں شامل ہیں۔ ان افراد کے تحفظ کیلئے ان کی شناخت، آواز اور ظاہری شکل کو ڈیجیٹل طریقے سے تبدیل کیا گیا ہے۔ فلم میں شامل اسرائیلی فوجی اہلکار ایسے نظاموں کے بارے میں بتاتے ہیں جن کے ذریعے متوقع شہری ہلاکتوں کے باوجود اہداف کی شناخت، نگرانی اور ان پر حملے کیے جاتے تھے۔ بعض اہلکاروں نے بتایا کہ انہوں نے غزہ میں رہائشی علاقوں کو، جہاں لوگ پناہ لے رہے تھے، آگ لگائے جانے اور خوراک کی تقسیم کے دوران فلسطینیوں کو ہلاک کیے جانے کے واقعات دیکھے۔

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب کا ہر دشمن پاکستان کا دشمن ہے: پاکستان

فلم کا نام ’’نازا‘‘ اسرائیلی فوج کی انٹیلی جنس ایجنسی امان کی جانب سے استعمال کیے جانے والے ایک مخفف سے لیا گیا ہے، جو کسی فضائی حملے میں متوقع طور پر ہلاک ہونے والے شہریوں کی تعداد کو ظاہر کرتا ہے۔ فلم ’’نازا‘‘ نے حال ہی میں وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں خصوصی جیوری انعام بھی حاصل کیا، جہاں اس کے پریمیئر کے موقع پر تقریباً ۲۵؍ منٹ تک کھڑے ہو کر فلم کی پذیرائی کی گئی۔ تاہم اس دستاویزی فلم کو اسرائیلی حکام کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامین نیتن یاہو نے رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ وہ فلم کی نمائش کے بعد ان لوگوں کے خلاف قانون سازی کیلئے اقدامات کریں گے جو اسرائیلی فوجیوں کو ’’بدنام‘‘ کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK