Updated: October 23, 2026, 2:04 PM IST
| Tehran
ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی صورت میں خلیجی خطے کے سات ممالک میں امریکی مفادات سے وابستہ توانائی، ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب، ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید حملوں کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ جنگ کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں اور امریکی سیاست پر بھی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
ایران کی سپریم نیشنل سیکوریٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو تہران خلیجی خطے کے سات ممالک میں امریکہ سے وابستہ توانائی، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے اس ضمن میں ’’سرخ لکیروں کی کوئی پابندی نہیں‘‘ کی حکمتِ عملی کا حوالہ دیا، جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ امریکہ ایران پر دوبارہ حملہ کرسکتا ہے۔ جمعرات کو سرکاری ٹی وی ’پریس ٹی وی‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے رضائی نے کہا کہ اس خطے میں امریکی معیشت کی سرگرمیوں کا بڑا حصہ اسی خطے سے گزرتا ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ میں ڈیٹا سینٹرز اور مصنوعی ذہانت کی تنصیبات میں امریکہ کی بڑی سرمایہ کاری کی جانب اشارہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: آنگ سان سوچی کی پانچ سال سے زائد عرصے بعد بیٹے سے پہلی بار فون پر گفتگو
رضائی کے مطابق، اس غیر مستحکم خطے میں امریکہ سے وابستہ دو ٹریلین ڈالر سے زیادہ مالیت کا ٹیکنالوجی انفراسٹرکچر خطرے میں پڑ سکتا ہے، اگر دونوں فریقوں کے درمیان دوبارہ جنگ چھڑ گئی۔ انہوں نے خبردار کیا، ’’ہم نے ابھی تک ان تنصیبات کو اپنے اہداف میں شامل نہیں کیا ہے، لیکن اگر جنگ شروع ہوئی تو ان میں سے متعدد کیبلز، ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت کی تنصیبات اور بہت سے دیگر مقامات تباہ کردیے جائیں گے۔‘‘ ’ڈراپ سائٹ نیوز‘ کو دیے گئے ایک الگ انٹرویو میں رضائی نے کہا کہ ایران نے ثالثوں کے ذریعے سات شرائط پیش کی ہیں اور ان کی تکمیل تک نہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا اور نہ ہی مذاکرات بحال کیے جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جاری تنازع اور علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں کو مستحکم ہونے میں تین سال تک لگ سکتے ہیں۔
دوسری جانب، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے معاملے پر نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی ووٹرز کی رائے منقسم ہے۔ انہوں نے جنگ کے سیاسی اثرات کا اعتراف کیا، تاہم اصرار کیا کہ فوجی حملے بہت پہلے کیے جانے چاہئیں تھے۔ جنگ کے انتخابی نتائج پر ممکنہ اثرات کے بارے میں ٹرمپ نے کہا، ’’ایک لحاظ سے لوگ اسے پسند کرتے ہیں کیونکہ میں وہ کام کررہا ہوں جو دوسرے صدور کو بہت پہلے کرلینا چاہیے تھا۔ دوسری جانب، ممکن ہے کہ وہ اسے پسند نہ کریں۔ اس کی ایک قیمت چکانی پڑتی ہے، جس کا مجھے حملے کا فیصلہ کرتے ہی اندازہ ہوگیا تھا، لیکن ہم ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دے سکتے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’ایران کے خلاف جنگ اور ہم نے انہیں بری طرح نقصان پہنچایا ہے، اور ممکن ہے کہ ہم مزید کچھ کارروائی کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ، اسرائیل کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کے منصوبے تیار: رپورٹ
ٹرمپ کے یہ بیانات ۲۸؍ فروری ۲۰۲۶ء کو ایران کے شہری، فوجی اور جوہری مقامات پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد سامنے آئے۔ واشنگٹن نے اس کارروائی کو ’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کا نام دیا تھا۔ ابتدائی حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای اور کئی دیگر اعلیٰ عہدیدار ہلاک ہوئے، جبکہ سیکڑوں شہری بھی جان سے گئے۔ ایران نے جواباً اسرائیلی اہداف اور خلیجی خطے میں امریکی مفادات پر میزائل اور ڈرون حملے کیے اور آبنائے ہرمز میں بار بار خلل پیدا کیا۔ یہ تنازع اب آٹھویں ماہ میں داخل ہوچکا ہے۔ جون میں پاکستان میں طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کا مقصد جنگ بندی اور تجارتی جہاز رانی بحال کرنا تھا، تاہم اختلافات کے باعث یہ کوشش بڑی حد تک ناکام ہوگئی اور وقفے وقفے سے حملے جاری رہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں امریکہ اور دیگر ممالک میں خام تیل اور ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اکتوبر کے متعدد سروے کے مطابق، معاشی انتظام، مہنگائی اور ایران جنگ پر وسیع عوامی ناراضی کے درمیان ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح کم ہوکر ۳۰؍ سے ۳۶؍ فیصد رہ گئی ہے۔