• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کی آئیووا میں انتخابی مہم، مشی گن کے ترقی پسند لیڈر کو ’جہادی‘ کہا

Updated: October 23, 2026, 4:06 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آئیووا میں انتخابی مہم کے دوران مسلمان ڈیموکریٹ لیڈر عبدل السید کو ’جہادی‘ قرار دیا ہے، جبکہ تازہ سروے میں ان کی مقبولیت کم ہوکر ۳۳؍ فیصد رہ گئی ہے۔

Donald Trump and Abdul El-Sayed. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ اور عبدل السید۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آئیووا میں انتخابی مہم کے دوران ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند لیڈر عبدل السید کو ’’جہادی‘‘ کہتے ہوئے ان کا مذاق اڑایا۔ عبدل السید مشی گن سے امریکی سینیٹ کے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں۔ ٹرمپ آئیووا کے شہر سیوکس سٹی میں ریپبلکن امیدوار ایشلے ہنسن کی حمایت میں جلسے سے خطاب کر رہے تھے، جو ڈیموکریٹ امیدوار جوش ٹوریک کے خلاف سینیٹ کا انتخاب لڑ رہی ہیں۔ صدر نے اس دورے سے قبل اخبار ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کو اپنے طیارے میں سفر کرنے سے روک دیا تھا۔ اس کی وجہ اخبار کے وائٹ ہاؤس نامہ نگار اینڈریو فینبرگ کے ساتھ ٹرمپ کی تلخ کلامی بتائی گئی ہے۔ جلسے میں ٹرمپ نے ٹوریک کا موازنہ عبدل السید، ٹیکساس کے ڈیموکریٹک امیدوار جیمز ٹالاریکو اور مینیسوٹا کی ڈیموکریٹک رکنِ کانگریس الہان عمر جیسے سیاست دانوں سے کیا، جنہیں انہوں نے ’’انتہا پسند‘‘ قرار دیا۔ ٹرمپ نے کہا، ’’مشی گن نامی جگہ سے تعلق رکھنے والے صاحب کا کیا؟ وہ ایک جہادی ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: آنگ سان سوچی کی پانچ سال سے زائد عرصے بعد بیٹے سے پہلی بار فون پر گفتگو

مسلمان عبدل السید نے ہفتے کے اختتام پر مشی گن کے شہر کیرو میں ایک عوامی اجتماع کے دوران مسلم برادرہڈ سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔ ایک شخص نے ان سے اس تنظیم کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا تو السید نے جواب دیا کہ اس سوال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کی وفاداری امریکی آئین کے بجائے کسی اور چیز سے وابستہ ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے سیوکس سٹی میں آئیووا کے گورنر کے ریپبلکن امیدوار زیک لان کی بھی حمایت کی، جو ڈیموکریٹ روب سینڈ کے مقابلے میں انتخاب لڑ رہے ہیں۔ حالیہ میریسٹ سروے کے مطابق دونوں مقابلے سخت ہیں۔ ٹوریک کو ہنسن پر ۴۸؍ کے مقابلے میں ۴۵؍ فیصد جبکہ سینڈ کو لان پر ۵۲؍ کے مقابلے میں ۴۵؍ فیصد ووٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ دوسری جانب، فینبرگ نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس نے بدھ کی شام انہیں مطلع کیا کہ وہ اگلے روز کے دورے میں صحافیوں کے پرنٹ پول کا حصہ نہیں ہوں گے، حالانکہ ان کی باری پہلے سے طے تھی۔ فینبرگ کے مطابق یہ فیصلہ منگل کو اوول آفس میں ٹرمپ سے سوالات کرنے کے بعد انہیں سزا دینے کے مترادف تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کام کسی صدر یا انتظامیہ سے دوستی کرنا نہیں بلکہ صحافتی ذمہ داری ادا کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ، اسرائیل کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کے منصوبے تیار: رپورٹ

ٹرمپ ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی کامیابی کیلئے اپنے حامیوں سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ وسط مدتی انتخابات کو ایسے سمجھیں جیسے خود ٹرمپ امیدوار ہوں۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ اگر ریپبلکنز کانگریس پر اپنا کنٹرول برقرار رکھتے ہیں تو امریکی شہریوں کو پانچ ہزار ڈالر کے چیک دیے جاسکتے ہیں۔ ناقدین نے اس وعدے کو ووٹروں کو لبھانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ٹرمپ کی انتخابی ریلیوں میں مظاہرین کے نعرے بھی مسلسل خلل ڈال رہے ہیں۔ صدر نے بعض مواقع پر طنزیہ جملوں اور ذاتی نوعیت کے مذاق سے جواب دیا، جبکہ شمالی کیرولائنا کے ایک جلسے میں مظاہرین کا موازنہ پیرس کے ہنگامہ آرائی کرنے والوں سے کیا۔ اس دوران ٹرمپ کی مقبولیت بھی دباؤ میں ہے۔ اے بی سی، ’واشنگٹن پوسٹ‘ اور اِپسوس کے تازہ سروے میں ان کی عوامی مقبولیت صرف ۳۳؍ فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ان کی انتظامیہ کو ایران کے ساتھ غیر مقبول جنگ، مسلسل مہنگائی اور امیگریشن کے خلاف سخت کارروائیوں پر بھی تنقید کا سامنا ہے، جنہیں متعدد امریکی ضرورت سے زیادہ سخت سمجھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK