امریکی محکمہ انصاف نے ایپسٹین فائل کے مزید دستاویزات جاری کئے، جن میں ٹرمپ کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات قائم کئے گئے ہیں،اس کے علاوہ متاثرہ کے بیان سے بلیک میل اور مالی جرائم کا بھی علم ہوتا ہے۔
EPAPER
Updated: March 06, 2026, 10:05 PM IST | Washington
امریکی محکمہ انصاف نے ایپسٹین فائل کے مزید دستاویزات جاری کئے، جن میں ٹرمپ کے خلاف جنسی زیادتی کے الزامات قائم کئے گئے ہیں،اس کے علاوہ متاثرہ کے بیان سے بلیک میل اور مالی جرائم کا بھی علم ہوتا ہے۔
امریکی محکمہ انصاف نے گیسلین میکسویل کے خلاف مقدمے کے شواہد کی فہرست سے گمشدہ انٹرویوز جاری کر دیے ہیں۔ یہ انٹرویوز صرف ایک خاتون کے ہیں جس کے ساتھ مبینہ طور پر ایپسٹین اور بعد ازاں۱۹۸۰ء کی دہائی میں ٹرمپ نے زیادتی کی جب وہ نابالغ تھی۔ماخذ کا الزام ہے کہ ایپسٹین نے ذاتی طور پر ٹرمپ سے ملوانے کے لیے لے گیا، جبکہ ٹرمپ اسے اس کی لڑکوں جیسی شکل و صورت کی وجہ سے پسند نہیں کرتے تھے۔ اس نے کہا کہ اس کی ٹرمپ کے ساتھ تین علیحدہ ملاقاتیں ہوئیں اور وہ ان پر تفصیل سے بات کرنے کو تیارہے۔ ایک موقع پر ٹرمپ نے خلاف فطرت عمل سے انکار اسے مارا۔
یہ بھ پڑھئے: ایران جنگ میں پھنسے ٹرمپ کی مشکلات بڑھنے والی ہیں
متاثرہ کے مطابق ٹرمپ اور ایپسٹین کے درمیان ایک دلچسپ تعلق تھا۔ ان کے درمیان حسد تھا، لیکن پھر بھی، ان کے درمیان ایک برابری کا رشتہ تھا۔ ایپسٹین نوجوان لڑکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کچھ مخصوص الفاظ استعمال کرتا تھا جیسے ’’غیر آلودہ‘‘، ’’بے زار‘‘ ، اور ’’تازہ گوشت،‘‘ وغیرہ ۔ متاثرہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ٹرمپ کو کیسینو کے ذریعے منی لانڈرنگ اور غیر قانونی تعمیراتی اجازت نامے رکھنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا۔جبکہ اگر یہ سچ ہے تو جنسی زیادتی کے الزامات سے ہٹ کر مبینہ مالی جرائم کا براہ راست علم ہونے کی نشاندہی کرے گا۔ بعد ازاں متاثرہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس کی ماں کو اس کی تصاویر کے ساتھ بلیک میل کیا گیا تھا۔ اس کی ماں نے اپنی فرم سے غبن کرکے ان تصاویر کو خریدنے کے لیے رقم ادا کی۔ ماخذ نے ایک شخص جم اٹکنز کی نشاندہی کی، جس نے مبینہ طور پر اس کی ماں کو اس کی رئیل اسٹیٹ کاروبار سے رقم غبن کرنے پر مجبور کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین اسرائیلی بلیک میل نیٹ ورک کا حصہ تھا:ایری بین میناشے کا دعویٰ
واضح رہے یہ اکتوبر۲۰۱۹ء میں چوتھے ایف بی آئی انٹرویو تک، متاثرہ نے نوٹ کرتے ہوئے کہ حدودِ قانون ختم ہو چکی ہو گی براہ راست سوال کیا کہ کیا کوئی فائدہ ہے جاری کرنے کا، یہ وقت۲۰۲۰ء کے انتخابات سے عین پہلے کا تھا، جس سے یہ سوالات اٹھتے ہیں کہ یہ انٹرویوز کیوں کرائے گئے جب تفتیش کاروں کو بظاہر معلوم تھا کہ مقدمہ چلانا ممکن نہیں ہو سکتا۔ ایک مثال میں، اس نے ذکر کیا کہ اس کے وکیل کو ایک پراسرار کال موصول ہوئی جس میں انتخابات سے قبل ’’پتے چھپانے‘‘ کے ارادوں کا ذکر کیا گیا تھا۔