Updated: August 14, 2026, 6:00 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بحریہ کو اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں میں برقی مقناطیسی طیارہ لانچ سسٹم ختم کرکے پرانے بھاپ سے چلنے والے کیٹپلٹ نظام پر واپس جانے کی ہدایت کی ہے۔ دفاعی حکام اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے اخراجات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بحریہ کو اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں میں برقی مقناطیسی طیارہ لانچ سسٹم ختم کرکے پرانے بھاپ سے چلنے والے کیٹپلٹ نظام پر واپس جانے کی ہدایت کی ہے۔ دفاعی حکام اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے اخراجات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتے ہیں۔
یہ حکم مستقبل میں تیار کیے جانے والے فورڈ کلاس طیارہ بردار بحری جہازوں پر لاگو ہوگا، جن میں زیرِ تعمیر ڈورس ملر بھی شامل ہے۔ ٹرمپ چاہتے ہیں کہ ان بحری جہازوں میں بحریہ کے جدید الیکٹرو میگنیٹک ایئرکرافٹ لانچ سسٹم (ای ایم اے ایل ایس) اور جدید ہتھیاروں کی لفٹوں کے بجائے بھاپ سے چلنے والے کیٹپلٹ اور ہائیڈرولک نظام نصب کیے جائیں۔فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے جاری کردہ ایک یادداشت میں ٹرمپ نے کہا کہ محکمہ جنگ کو بحری بیڑے کے حجم میں اضافے کے ساتھ بحری صنعتی بنیاد میں پیداواری صلاحیت اور مسابقت دونوں بحال کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طریقہ کار میں آزمودہ اور قابلِ اعتماد ٹیکنالوجی پر انحصار کیا جائے گا، جبکہ قلیل مدت میں غیر ملکی جہاز ساز کمپنیوں سے خریداری کا راستہ بھی کھولا جائے گا۔ ساتھ ہی ملکی جہاز سازی کی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانے پر توجہ دی جائے گی، جیسا کہ انتظامیہ نے آئس بریکرز سمیت دیگر بڑے دفاعی منصوبوں میں کیا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے ای ایم اے ایل ایس پر تنقید نئی نہیں۔ وہ اپنی پہلی مدتِ صدارت سے ہی امریکی بحریہ کے سب سے بڑے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ پر استعمال ہونے والے اس نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں اور اسے ضرورت سے زیادہ پیچیدہ اور مہنگا قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ پنسلوانیا میں ایک دفاعی اجلاس کے دوران بھی اسی نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:’’دی ٹریٹرز ۲‘‘ سے باہر ہونے کے بعد منور فاروقی نے شرکا کو کہا ’’غیر محفوظ‘‘
ہر کوئی اس تبدیلی سے متفق نہیں ہے۔ کیلیفورنیا کی کمپنی جنرل ایٹومکس، جس کے پاس ڈورس ملر کے لیے ای ایم اے ایل ایس اور ایڈوانسڈ اریسٹنگ گیئر تیار کرنے کا ۲ء۱؍ ارب ڈالر کا معاہدہ ہے، نے جمعرات کو جاری بیان میں فیصلے کی مخالفت کی۔ کمپنی نے کہا کہ جہاز کی تعمیر تقریباً نصف مکمل ہوچکی ہے اور اس مرحلے پر سمت تبدیل کرنے سے اخراجات، تعمیراتی شیڈول اور مختلف نظاموں کو باہم مربوط کرنے میں سنگین مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ ہِل کی رپورٹ کے مطابق کمپنی نے خبردار کیا کہ اس تبدیلی سے طیارہ بردار جہازوں کی تیاری اور امریکہ کی تکنیکی برتری بھی متاثر ہوسکتی ہے، جس سے مخالف ممالک کو برتری حاصل کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں نے بھی اس اقدام کو غیر مؤثر اور رقم کا ضیاع قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای ایم اے ایل ایس طیاروں کو زیادہ ہموار انداز میں لانچ کرکے ان پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرتا ہے۔ اس کے علاوہ برقی مقناطیسی نظام نسبتاً ہلکا، توانائی اور پانی کے استعمال میں زیادہ مؤثر اور بھاپ سے چلنے والے متبادل کے مقابلے میں کم دیکھ بھال اور افرادی قوت کا تقاضا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایگا سواتیک نے الینا رباکینا کو ہرا کر اس سیزن کا اپنا پہلا خطاب جیتا
۱۳؍ ارب ڈالر سے زائد کی لاگت سے تیار ہونے والا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ اس وقت ۱۱؍ ماہ کی تعیناتی کے بعد مرمت کے لیے ورجینیا کے ہیمپٹن روڈز میں موجود ہے۔ اس تعیناتی میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے کی کارروائی اور ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق آپریشنز بھی شامل تھے۔ اس فیصلے کو سینیٹ کے ڈیموکریٹس کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔ ایریزونا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مارک کیلی، جو سابق نیوی ٹیسٹ پائلٹ اور سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن ہیں، نے ایکس پر کہا کہ ان کے اپنے تجربے، طیارہ بردار جہازوں سے سیکڑوں بار طیارے لانچ کرنے اور ایروناٹیکل انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری کے باوجود وہ بحریہ کو یہ بتانے کا دعویٰ نہیں کریں گے کہ اپنے بحری جہازوں کی انجینئرنگ کیسے کی جائے۔