امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے درجنوں ممالک پر چین کو امریکی ٹیرف سے غیر قانونی طور پر بچنے میں مدد دینے کا الزام عائد کیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی حکومت کو سالانہ دسیوں ارب ڈالر کی آمدنی سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔
EPAPER
Updated: August 14, 2026, 7:10 PM IST | New York
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے درجنوں ممالک پر چین کو امریکی ٹیرف سے غیر قانونی طور پر بچنے میں مدد دینے کا الزام عائد کیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی حکومت کو سالانہ دسیوں ارب ڈالر کی آمدنی سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے درجنوں ممالک پر چین کو امریکی ٹیرف سے غیر قانونی طور پر بچنے میں مدد دینے کا الزام عائد کیا ہے، جس کے نتیجے میں امریکی حکومت کو سالانہ دسیوں ارب ڈالر کی آمدنی سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔جمعرات کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں وہائٹ ہاؤس نے کہا کہ ۴۰؍ سے زائد ممالک چینی مصنوعات کو غلط لیبلنگ کے ذریعے امریکہ پہنچانے والے ایک خفیہ لاجسٹکس نیٹ ورک میں شامل ہیں۔
دفتر برائے تجارتی و صنعتی پالیسی کے مطابق چین کو اس گریٹ ٹرانس شپمنٹ اسکیم میں مدد دینے والے بڑے ممالک میں یورپی یونین، میکسیکو، کینڈا،ہندوستان، جاپان اور جنوبی کوریا شامل ہیں۔ تجارتی پالیسی دفتر نے کہا کہ جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک، جن میں انڈونیشیا، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور کمبوڈیا شامل ہیں، بھی اس نیٹ ورک میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سامان کی منتقلی کے ذریعے چین سے آنے والی مصنوعات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی امریکی صنعتی شعبوں میں برقی آلات، انٹیگریٹڈ سرکٹس، ایلومینیم مصنوعات اور موٹر کے پرزے شامل ہیں۔ ٹرمپ کے مقرر کردہ پیٹر ناوارو کی سربراہی میں دفتر نے رپورٹ میں کہا کہ اس گریٹ ٹران شپمنٹ اسکیم کے باعث ضائع ہونے والا ہر ڈالر امریکی کارکنوں، صنعت کاروں اور ٹیکس دہندگان سے چوری ہونے والا ایک ڈالر ہے۔ واشنگٹن میں چینی سفارتخانے نے معمول کے دفتری اوقات کے بعد بھیجے گئے تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھئے:گیانا ایجمین نے جمائیکا کنگز مین کو چھ وکٹ سے ہرا دیا
رپورٹ میں جن درجنوں ممالک کا نام لیا گیا ہے، انہوں نے بھی اس کے الزامات پر تاحال عوامی طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ وہائٹ ہاؤس نے ٹران شپمنٹ میں سہولت فراہم کرنے والے ممالک کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خبردار کردیا گیا ہے ۔ امریکی سرحدی حکام نے نگرانی اور کارروائی مزید مؤثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کے ذریعے مال برداری کے اعداد و شمار اور دیگر معلومات کو مربوط کرنا شروع کردیا ہے۔ تجارتی پالیسی دفتر نے کہاکہ دنیا کے لیے پیغام سادہ ہے۔ ناقابلِ سراغ غیر قانونی ٹران شپمنٹ کا دور ختم ہوچکا ہے۔
دفتر کے مطابق جو چیز کبھی خاموش کاغذی کارروائی-لیبل تبدیل کرنے، دوبارہ پیک کرنے اور انوائس دوبارہ جاری کرنے-کی ایک تدبیر نظر آتی تھی، اب اقتصادی خودمختاری اور قومی عزم کا معاملہ بن چکی ہے۔ ٹرمپ نے گزشتہ سال جنوری میں دوبارہ وائٹ ہاؤس سنبھالنے کے بعد تحفظ پسند تجارتی پالیسیوں کی ایک وسیع سیریز کے ذریعے عالمی تجارت میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔
تجارتی محاذ پر تازہ اقدام کے طور پر ٹرمپ انتظامیہ نے درجنوں ایسے ممالک سے درآمدات پر ۱۰؍ سے ۵ء۱۲؍ فیصد تک محصولات عائد کرنے کا اعلان کیا ہے جن پر جبری مشقت کو نظر انداز کرنے کا الزام ہے۔ نیویارک، کیلیفورنیا اور کولوراڈو سمیت ڈیموکریٹس کے زیرِ انتظام ۲۵؍ امریکی ریاستوں کے ایک گروپ نے ان محصولات کو عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ ریاستوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ٹرمپ کے وسیع پیمانے پر عائد کیے گئے لبریشن ڈے محصولات دوبارہ نافذ کرنے کا بہانہ ہیں، جنہیں امریکی سپریم کورٹ نے فروری میں کالعدم قرار دے دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:’’آواراپن ۲‘‘ کیوں بنانا پڑی؟ مصنف بلال صدیقی نے راز سے پردہ اٹھایا
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے تجارتی امور کے ماہر اور پروفیسر امیتندو پالِت نے وائٹ ہاؤس کی رپورٹ کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ممالک کو امریکی مصنوعات کے لیے زیادہ مارکیٹ رسائی قبول کرنے پر مجبور کرنے کی تازہ ترین کوشش قرار دیا۔ پالِت نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ لبریشن ڈے محصولات کی قانونی حیثیت ختم ہونے سے ٹرمپ انتظامیہ کو بھاری نقصان ہوا ہے، نہ صرف اسے واپس کیے جانے والے محصولات کی صورت میں بلکہ ساکھ کے اعتبار سے بھی۔ انہوں نے کہا کہ اسی لیے انتظامیہ مارکیٹ تک رسائی کو ہتھیار بنانے کے لیے مزید اختراعی طریقے تلاش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام مختلف ممالک پر جبری مشقت کے استعمال کو محدود نہ کرنے پر عائد کیے گئے پہلے کے سیکشن ۳۰۱؍ محصولات کے بعد سامنے آیا ہے۔