Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ کے بیان سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ

Updated: March 10, 2026, 3:07 PM IST | New York

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے اشارے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل ۸ء۴؍ فیصد کمی سے۲۷ء۹۴؍ ڈالرپر آ گیا۔

Oil Import.Photo:INN
تیل کی درآمد۔ تصویر:آئی این این

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کے اشارے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل ۸ء۴؍ فیصد کمی سے۲۷ء۹۴؍ ڈالرپر آ گیا۔  تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑی گراوٹ دیکھی گئی، لندن برینٹ خام تیل اکیس فیصد سے زائد کمی کے ساتھ ۲۷ء۹۴؍سینٹ پر آگیا۔ 
اسی طرح امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی تقریبا اکیس اعشاریہ پانچ فیصد کمی کے ساتھ نوے ڈالر ستائیس سینٹ پر ٹریڈ کر رہا ہے۔گزشتہ روز لندن برینٹ خام تیل ایک سو انیس ڈالر سے اوپر اور امریکی خام تیل ایک سو انیس ڈالر پچاس سینٹ پر تھا۔  غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی کی خبروں کی وجہ سے خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ 
دوسرے جانب صدر ٹرمپ کی ایران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔ 
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ اب اپنی تکمیل کو پہنچ گئی ہے، جس کے بعد سپلائی لائنز میں بہتری کی امید پیدا ہوئی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا۔  تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں اور صدر ٹرمپ کے دعوے کے مطابق ایران کے خلاف عسکری اہداف مکمل ہو جاتے ہیں، تو عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں مزید مستحکم یا کم ہو سکتی ہیں، جس کا فائدہ براہِ راست صارفین کو پہنچے گا۔
ایران کے خلاف جنگ امریکہ کو مہنگی پڑ رہی ہے
 ایران کے خلاف جنگ امریکہ کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے اور امریکی عوام اپنے ٹیکسز کی رقم کے بے دریغ خرچ پر نالاں ہیں۔  ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو آج ۱۱؍ واں روز ہے۔ دعوؤں کے برعکس ایران کے خلاف یہ جنگ بھاری اخراجات کے باعث امریکہ کو بہت مہنگی پڑ رہی ہے اور امریکی عوام اپنے ٹیکسز کے پیسے کا یوں زیاں دیکھ کر ٹرمپ انتظامیہ سے تنگ آگئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:طاہر راج بھسین نے وکرم فڈنیس کی نئی فلم کی شوٹنگ مکمل کی

ایران جنگ سے متعلق سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز نے چشم کشا رپورٹ جاری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکی ٹیکس دہندگان کو ایران کے خلاف جنگ روزانہ ۸۹۰؍ ملین ڈالرز کی پڑی رہی ہے۔  رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران کیخلاف فضائی کارروائیوں پر روزانہ تقریباً ۳۰؍ ملین ڈالرز خرچ ہو رہے ہیں۔ فوجی نقل وحرکت اور مشقوں پر ۱۵؍ ملین ڈالرز یومیہ جب کہ زمینی کارروائیوں پر۶ء۱؍ ملین ڈال رروزانہ کے اخراجات ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا میں پانچ ایرانی خواتین فٹبالرز کو سیاسی پناہ ملی


امریکہ دھماکوں، بموں، میزائلوں اور توپ خانے پر تقریباً۵ء۱؍ ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے والے انٹرسیپٹر سسٹمز پر  ۷ء۱؍ ارب ڈالر خرچ ہوئے۔  رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر جنگ ۲؍ ماہ تک جاری رہی تو اس کی لاگت ۹۵؍ ارب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے۔  ایک سروے میں امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد ایران جنگ کے خلاف ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ٹرمپ حکومت جنگ پر جنگ پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالرز کو امریکی عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK