آسٹریلیا نے ایرانی خواتین فٹ بال ٹیم کے ان پانچ اراکین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے جاری کر دیے ہیں جنہوں نے میچ سے قبل قومی ترانہ گانے سے انکار کرنے کے بعد یہاں سیاسی پناہ کی درخواست کی تھی۔
EPAPER
Updated: March 10, 2026, 1:58 PM IST | Canberra
آسٹریلیا نے ایرانی خواتین فٹ بال ٹیم کے ان پانچ اراکین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے جاری کر دیے ہیں جنہوں نے میچ سے قبل قومی ترانہ گانے سے انکار کرنے کے بعد یہاں سیاسی پناہ کی درخواست کی تھی۔
آسٹریلیا نے ایرانی خواتین فٹ بال ٹیم کے ان پانچ اراکین کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ویزے جاری کر دیے ہیں جنہوں نے میچ سے قبل قومی ترانہ گانے سے انکار کرنے کے بعد یہاں سیاسی پناہ کی درخواست کی تھی۔ ایران نے ان خواتین کھلاڑیوں کو جنگ کے دوران غدار قرار دیا تھا۔
آسٹریلیائی وزیر اعظم انتھونی البانی نے کینبرا میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ آسٹریلیائی باشندے ان بہادر خواتین کی حالت زار پر شدید غمزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہاں محفوظ ہیں اور انہیں گھر جیسا محسوس کرنا چاہئے۔
آسٹریلیائی وزارت داخلہ نے ٹیم کے پانچ اراکین کی شناخت کپتان زہرہ غنباری، مڈفیلڈر فاطمہ پسندیدہ، زہرہ سربیلی علیشاہ، مونا حمودی اور عاطفہ رمضان زادہ کے طور پر کی ہے۔ آسٹریلیا کے وزیر داخلہ ٹونی برک نے کہا کہ باقی ایرانی کھلاڑی گولڈ کوسٹ کے ہوٹل میں موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہوں نے ٹیم کے دیگر اراکین کو بھی آسٹریلیا میں رہنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
ایرانی خواتین فٹ بال ٹیم آسٹریلیا کے شہر کوئنز لینڈ میں ہونے والے اے ایف سی خواتین کے ایشیائی کپ ۲۰۲۶ء میں شرکت کر رہی تھی۔ جنوبی کوریا کے خلاف ٹورنامنٹ کے افتتاحی میچ میں ٹیم کی کھلاڑیوں نے ایرانی قومی ترانہ گانے سے انکار کر دیا اور خاموشی سے کھڑی رہیں۔ اس اقدام کو ایرانی حکومت کے خلاف احتجاج کے طور پر دیکھا گیا۔
اس کے بعد ایران کے سرکاری میڈیا نے کھلاڑیوں کو ’’جنگ کے دوران غدار‘‘ قرار دیا اور ان کے اقدام کو ’’ذلت کی انتہا‘‘ قرار دیا۔ اتوار کے روز ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے بعد، کھلاڑیوں کو ایران واپس جانا تھا، لیکن ان کی سلامتی پر بین الاقوامی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:ایران سے جنگ جلد ختم ہو گی: ڈونالڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آسٹریلیا کی جانب سے انہیں انسانی بنیادوں پر ویزے دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ’’درست‘‘ قدم قرار دیا۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر کہا کہ انہوں نے البانیز سے صورتحال کے بارے میں براہ راست بات کی ہے اور وہ حساس صورتحال سے بحسن وخوبی نمٹ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:بارسلونا کی ۲۲؍ویں فتح، خطاب کی دوڑ میں پوزیشن مزید مستحکم
صدر ٹرمپ نے پہلے خبردار کیا تھا کہ اگر کھلاڑیوں کو ایران واپس بھیجا گیا تو ان کے ساتھ بدسلوکی یا سزائے موت بھی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے آسٹریلیا کو خبردار کیا کہ کھلاڑیوں کو واپس بھیجنا ’’خوفناک انسانی غلطی‘‘ ہوگی۔ ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ اگر آسٹریلیا نے خواتین کھلاڑیوں کو پناہ نہیں دی تو امریکہ انہیں پناہ دینے کے لیے تیار ہے۔