Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹروتھ سوشل: ٹرمپ کی پوسٹس تک ’’قبل از وقت رسائی‘‘ ایک لاکھ ڈالر ماہانہ میں فروخت، تنازع

Updated: August 03, 2026, 10:10 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سوشل میڈیا کمپنی ٹی ایم ٹی جی ٹیکنالوجی گروپ اینڈ ٹرمپ میڈیا نے Truth API کے نام سے ایک نئی سروس متعارف کرائی ہے، جس کے تحت وال اسٹریٹ کی ٹریڈنگ فرمز اور ادارہ جاتی صارفین ماہانہ ایک لاکھ ڈالر تک ادا کر کے Truth Social پر ٹرمپ کی پوسٹس تک عام صارفین سے پہلے اور انتہائی تیز رفتار رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس اقدام پر اپوزیشن سیاست دانوں، سابق ریگولیٹرز اور مالیاتی ماہرین نے مفادات کے ٹکراؤ، ممکنہ اندرونی معلومات (Insider Trading) اور مارکیٹ میں غیر مساوی رسائی کے خدشات ظاہر کیے ہیں، جبکہ کمپنی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

Donald Trump. Photo: INN
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ملکیت والی سوشل میڈیا کمپنی ٹی ایم ٹی جی ٹیکنالوجی گروپ اینڈ ٹرمپ میڈیا نے Truth API کے نام سے ایک نئی پریمیم سروس شروع کی ہے، جس کے ذریعے مالیاتی ادارے، ہیج فنڈز اور ہائی فریکوئنسی ٹریڈنگ کمپنیاں ماہانہ ایک لاکھ امریکی ڈالر تک ادا کر کے Truth Social پر شائع ہونے والی پوسٹس تک انتہائی تیز رفتار رسائی حاصل کر سکیں گی۔ چونکہ ٹرمپ اکثر اسی پلیٹ فارم کے ذریعے حکومتی پالیسیوں، ٹیرف، خارجہ امور اور دیگر اہم فیصلوں سے متعلق اعلانات کرتے ہیں، اس لیے اس سروس نے فوری طور پر ایک بڑا سیاسی اور اخلاقی تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ کمپنی کے عبوری چیف ایگزیکٹو کیون میک گرن نے سروس کے آغاز پر کہا کہ ’’Truth API کاروباری اداروں کو پلیٹ فارم پر موجود سب سے زیادہ مارکیٹ پر اثر انداز ہونے والی پوسٹس کا براہِ راست، لائسنس یافتہ اور ریئل ٹائم فیڈ فراہم کرے گا۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا:لائبریری سے۱۵۰؍ سال قبل لی گئی کتاب لوٹائی گئی، جرمانہ ۱۸؍ لاکھ۷۰؍ہزار

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی سوشل میڈیا پوسٹس ماضی میں اسٹاک مارکیٹ، کرنسی، توانائی اور دیگر مالیاتی منڈیوں پر فوری اثر ڈالتی رہی ہیں۔ ایسے میں اگر بڑے سرمایہ کاروں کو یہ معلومات عام صارفین سے چند لمحے پہلے بھی مل جائیں تو انہیں تجارتی لحاظ سے نمایاں برتری حاصل ہو سکتی ہے۔ اس اقدام پر شدید تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ امریکی سینیٹرز ایلزبتھ وارن اور ایڈم شف نے امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (SEC) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس سروس کی تحقیقات کرے۔ دونوں قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ اگر امریکی صدر کی مارکیٹ پر اثر انداز ہونے والی معلومات مخصوص خریداروں کو تجارتی مقصد سے فروخت کی جا رہی ہیں تو اس سے مالیاتی منڈیوں کی شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔ 

سابق SEC عہدیداروں اور قانونی ماہرین نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس ماڈل سے مفادات کے ٹکراؤ اور اندرونی معلومات سے متعلق قوانین پر سوالات کھڑے ہو سکتے ہیں، کیونکہ ٹرمپ ایک طرف ریاستی فیصلوں کا اعلان کرتے ہیں اور دوسری طرف اسی پلیٹ فارم کی مالک کمپنی میں ان کا بڑا مالی مفاد بھی موجود ہے۔  دوسری جانب ٹی ایم ٹی جی ٹیکنالوجی گروپ اینڈ ٹرمپ میڈیا نے ان تمام اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ Truth API کسی خفیہ معلومات تک رسائی نہیں دیتا بلکہ صرف عوامی پوسٹس کو زیادہ تیز رفتار اور لائسنس یافتہ انداز میں فراہم کرتا ہے، جیسا کہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی اپنے ڈیٹا فیڈز کے ذریعے کرتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق اس سروس کا مقصد صرف ایک نیا تجارتی ماڈل متعارف کرانا ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کی رائے اس معاملے پر منقسم ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ اس سروس سے بڑے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کو غیر معمولی فائدہ مل سکتا ہے، جبکہ دوسرے ماہرین کا خیال ہے کہ سوشل میڈیا پوسٹس پر مبنی تجارتی سگنلز ہمیشہ قابلِ اعتماد نہیں ہوتے اور ان کی عملی افادیت محدود ہو سکتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جاپان زلزلہ:۶۹؍ ہزار سے زائد گھروں اور تجارتی اداروں میں پانی کی قلت

اس نئی سروس نے امریکہ میں ایک بار پھر اس بحث کو تیز کر دیا ہے کہ آیا برسرِ اقتدار صدر کی جانب سے جاری ہونے والی معلومات کو نجی کاروباری ماڈل کے ذریعے منافع کمانے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے یا نہیں۔ توقع ہے کہ آئندہ دنوں میں اس معاملے پر سیاسی اور قانونی بحث مزید شدت اختیار کرے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK