مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر۳۸؍ ہوگئی۔ بعض علاقوں میں درجہ حرارت ۳۷؍ڈگری سے تجاوز۔
ورکرس زلزلے میں تباہ ہونے والی ایک قدیم عمارت کا معائنہ کررہے ہیں۔ تصویر:پی ٹی آئی
جاپان کے جنوب مغربی صوبے کُوما موتو میں گزشتہ ہفتے آنے والے طاقتور زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر ۳۸؍ ہو گئی ہے جبکہ ہزاروں افراد اب بھی راحتی کیمپوں میں مقیم ہیں۔سرکاری نشریاتی ادارے این ایچ کے کی خبرکے مطابق اب تک ۳۶؍ ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ مزید ۲؍ اموات کے بارے میں جانچ جاری ہے کہ آیا ان کا تعلق گزشتہ منگل کے زلزلے سے ہے یا نہیں۔
زلزلے کے بعد۲۱۰؍ راحتی کیمپوں میں ۹؍ ہزار ۲۰۰؍ سے زائد افراد پناہ لئے ہوئے ہیں جبکہ ۳؍ہزار ۴۰۰؍ سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ کُوما موتو میں۶۹؍ ہزار سے زائد گھروں اور تجارتی اداروں کو اب بھی پینے کے پانی کی فراہمی بحال نہیں ہو سکی جبکہ متاثرہ طبی ادارے بتدریج معمول کی خدمات بحال کرنے میں مصروف ہیں۔
حکام کے مطابق شدید گرمی کے باعث سنیچر کوتقریباً۳۰؍ افراد کو ہیٹ اسٹروک جیسی علامات کے سبب اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعض علاقوں میں درجہ حرارت۳۷؍ ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نقصانات کا مکمل تخمینہ ابھی نہیں لگایا جا سکا اور معائنہ جاری رہنے کے باعث متاثرہ عمارتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
ریاستی حکومت نے بتایا کہ زلزلے کے فوراً بعد دھماکے سے متاثر ہونے والے ایون شاپنگ مال میںسنیچر کو تلاش اور امدادی کارروائیاں مکمل کر لی گئیں۔ اس حادثے میں ۷؍ ملازمین ہلاک اور ۵؍ دیگر زخمی ہوئے تھے۔
پیرو : مسافر طیارہ گرکرتباہ،۱۳؍ افراد کی موت
جنوبی پیرو میں نیسکا جیوگلیفس کی آثار قدیمہ کے پیچیدہ علاقے میں ایک چھوٹا سیاحتی طیارہ حادثہ کا شکار ہوگیا جس میں ۱۳؍ افراد ہلاک ہو گئے۔ آر پی پی ریڈیو کی رپورٹ کے مطابق ۱۳؍مہلوین میں ۱۱؍غیر ملکی سیاح تھے جن میں ۷؍ اطالوی، ۲؍ جرمن اور۲؍ ہسپانوی شامل تھے جبکہ دیگر ۲؍ مہلوکین طیارے کے عملے کے رکن تھے اور دونوں کا تعلق پیرو سے تھا۔حادثے کی وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی ہے۔طیارے کے عملے نے الارم بجایا جس کے بعد رابطہ منقطع ہو گیا۔ طیارہ گرنے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ جب امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو وہ صرف تمام افراد کی موت کی تصدیق ہی کر سکے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق نازکا لائنز کے قریب آثار قدیمہ کو ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد دیکھنے آتے ہیں اور یہ سیاحوں کیلئے پسندیدہ مقام تصور کیا جاتا ہے۔