محمد اور فاطمہ نے اپنی شادی کے موقع پر مہمانوں کو قیمتی تحائف یا زیورات سے منع کرتے ہوئے ایک منفرد درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر مہمان اپنے ساتھ ایک یتیم بچے کو لے کر آئے۔
EPAPER
Updated: April 04, 2026, 2:17 PM IST | İstanbul
محمد اور فاطمہ نے اپنی شادی کے موقع پر مہمانوں کو قیمتی تحائف یا زیورات سے منع کرتے ہوئے ایک منفرد درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر مہمان اپنے ساتھ ایک یتیم بچے کو لے کر آئے۔
ترک شہر شانلی اورفہ سے انسانیت، محبت اور ہمدردی کی ایک خوبصورت مثال سامنے آئی ہے، جہاں ایک نوبیاہتا جوڑے نے اپنی شادی کو ایک یادگار سماجی پیغام میں بدل دیا۔ محمد اور فاطمہ نے اپنی شادی کے موقع پر مہمانوں کو قیمتی تحائف یا زیورات سے منع کرتے ہوئے ایک منفرد درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ ہر مہمان اپنے ساتھ ایک یتیم بچے کو لے کر آئے۔ اس انوکھے اور انسان دوست فیصلے کے نتیجے میں شادی کی تقریب میں تقریباً ۱۰۰؍ یتیم بچوں نے شرکت کی۔
محمد اور فاطمہ نے نہ صرف ان بچوں کی نہایت گرمجوشی اور خوشدلی سے ضیافت کی بلکہ انہیں تحائف بھی دئیے جس سے تقریب کا ماحول خوشیوں سے بھر گیا۔ ان بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھر گئیں۔ مہمانوں کی جانب سے لائے گئے تحائف بھی ان یتیم بچوں میں تقسیم کردئیے گئے جس نے ان کی خوشیوں کو دوبالا کر دیا۔
اس تقریب کے دوران ان بچوں کو تحائف بھی دئیے گئے جن سے وہ کافی خوش نظر آئے۔ تصویر: آئی این این
دلہا محمد نے کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ یہ تقریب عام شادیوں جیسی تقریب نہ بنے اسی لئے انہوں نے فاطمہ کے ساتھ مل کر یہ منصوبہ بنایا اور اپنے کئی قریبی رشتہ داروں کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جنہوں نے ان کی درخواست کو قبول کیا۔ اس تقریب کا ویڈیو دنیا بھر میں دیکھا گیا اور اس حسن عمل کی ستائش کی گئی ۔