Inquilab Logo Happiest Places to Work

کھیل فنڈ کی لوٹ سے کھلاڑیوں کا حوصلہ پست ہوتا ہے، حکومت ہیرا پھیری کو روکے

Updated: May 22, 2026, 5:03 PM IST | New Delhi

کانگریس نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کے لیے بنائے گئے نیشنل اسپورٹس ڈیولپمنٹ فنڈ (این ایس ڈی ایف) کا استعمال آئی اے ایس افسران کی رہائش گاہوں اور ویلفیئر ایسوسی ایشنوں میں اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر پر کیا جا رہا ہے۔

Sports.Photo:INN
کھیل۔ تصویر:آئی این این

کانگریس نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کے لیے بنائے گئے نیشنل اسپورٹس ڈیولپمنٹ فنڈ (این ایس ڈی ایف) کا استعمال آئی اے ایس افسران کی رہائش گاہوں اور ویلفیئر ایسوسی ایشنوں میں اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر پر کیا جا رہا ہے، جس سے کھلاڑیوں کا حوصلہ پست ہو رہا ہے اور حکومت کو اس مبینہ ہیرا پھیری کو فوری طور پر روکنا چاہیے۔
کانگریس کے محکمۂ مواصلات کے انچارج جےرام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اگست ۲۰۲۵ء میں تعلیم، خواتین، اطفال، نوجوانوں اور کھیلوں سے متعلق پارلیمانی قائمہ کمیٹی (اسٹینڈنگ کمیٹی) نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا کہ این ایس ڈی ایف میں عطیہ کی گئی رقم کا استعمال آئی اے ایس افسران کی رہائش گاہوں اور ویلفیئر ایسوسی ایشنوں میں اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر پر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک صحافی کی تحقیقات میں بابوؤں (افسرشاہوں) کے لیے بنائی گئی پرتعیش کھیلوں کی سہولیات کا انکشاف ہوا ہے۔ ان پروجیکٹوں کو اسی فنڈ سے مالی امداد فراہم کی گئی، جس سے ٹارگیٹ اولمپک پوڈیم اسکیم  (ٹاپس) کو مدد ملتی ہے، جو اولمپک میڈل جیتنے کی صلاحیت رکھنے والے ملک کے بہترین کھلاڑیوں کی مدد کے لیے حکومت کی اہم اسکیم ہے۔

یہ بھی پڑھئے:دہلی ہائی کورٹ نے ونیش پھوگاٹ کو نااہل قرار دینے پر ڈبلیو ایف آئی کو ڈانٹ پلائی

رمیش نے کہا کہ ایسے وقت میں جب ملک اولمپک کی مانیٹرنگ اور میزبانی کی امید کر رہا ہے، اس طرح کی ’’چھوٹی چھوٹی لوٹ‘‘ کھلاڑیوں کا حوصلہ توڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فنڈ کے استعمال کے طریقے کو دیکھتے ہوئے، این ایس ڈی ایف کو ملنے والا عطیہ مالی سال  ۲۴۔۲۰۲۳ءمیں  ۲۶ء۸۵؍ کروڑ روپے سے گھٹ کر مالی سال۲۶۔۲۰۲۵ء  میں ۰۲ء۳۷؍ کروڑ روپے رہ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ نے کانز میں ’’دی اپرنٹس‘‘ رُکوانے کی کوشش کی: سیباسٹین اسٹین کا دعویٰ


انہوں نے کہا کہ اس فنڈ کا انتظام ایک کونسل کرتی ہے، جس کی صدارت مرکزی وزیر کھیل کرتے ہیں، اس لیے صورتحال کو بہتر بنانا اب ان کی ذمہ داری ہے۔ کانگریس رہنما نے کہا کہ پہلے پارلیمانی کمیٹی کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا گیا تھا کہ اس میں اپوزیشن کے اراکین ہیں، لیکن اب وزارتِ کھیل کو اصلاحی کارروائی کرنی چاہیے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK