عبداللہ بن عبدالمطلب ۱۹۷۹ء میں ۳؍ بڑھئی اور ۳؍ سناروں کی ٹیم کے سربراہ تھے۔ ۴۷؍ سال بعد خادم حرمین شریفین کے مہمان کی حیثیت سے مکہ پہنچے۔
EPAPER
Updated: September 29, 2026, 10:13 PM IST | Makkah
عبداللہ بن عبدالمطلب ۱۹۷۹ء میں ۳؍ بڑھئی اور ۳؍ سناروں کی ٹیم کے سربراہ تھے۔ ۴۷؍ سال بعد خادم حرمین شریفین کے مہمان کی حیثیت سے مکہ پہنچے۔
۱۹۷۹ء میں خانۂ کعبہ کے موجودہ سنہری دروازے کی تیاری میں اہم کردار ادا کرنے والے ۷۸؍ سالہ تھائی مسلمان فنکار عبداللہ بن عبدالمطلب کئی دہائیوں بعد سعودی عرب واپس پہنچ گئے ہیں۔ تھائی لینڈ میں پروفیسر خطاوت ناکناوا کے نام سے معروف عبداللہ اس مرتبہ ایک فنکار کی حیثیت سے نہیں بلکہ خادم حرمین شریفین کے مہمان پروگرام کے تحت سعودی عرب آئے ہیں۔ مدینہ منورہ میں قیام کے دوران انہوں نے اس دروازے کی تیاری سے متعلق اپنی یادیں بھی بیان کیں۔ عبداللہ کے مطابق ۱۹۷۹ء میں شاہ خالد بن عبدالعزیز کے دور میں خانۂ کعبہ کے لیے نیا دروازہ تیار کرنے کا منصوبہ شروع ہوا۔ اس کام میں ان کے ساتھ تھائی لینڈ سے ۳؍ بڑھئی اور ۳؍ سنار سعودی عرب آئے تھے۔ عبداللہ عربی زبان جاننے کی وجہ سے اس ٹیم کے مترجم بھی تھے اور کام کی نگرانی میں بھی اہم ذمہ داری ادا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مکہ کے معروف سنار شیخ احمد ابراہیم بدر اور ان کے رشتہ دار حسن حریری اس منصوبے سے وابستہ تھے۔
عبداللہ بن عبدالمطلب کعبہ کے دروازے کو ڈیزائن کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
انہوں نے بتایا کہ ٹیم نے سب سے پہلے خانۂ کعبہ کے دروازے کی پیمائش کی۔ اس مرحلے میں شامی ماہرِ تعمیرات منیر الجندی نے دروازے کا نقشہ تیار کیا، جبکہ لکڑی کا بنیادی ڈھانچہ مکہ میں قائم ایک چھوٹی ورکشاپ میں تیار کیا گیا۔ عبداللہ کے مطابق ٹیم نے پہلے لکڑی کا دروازہ مکمل کیا، اس کے بعد اس پر سونے کی تہ چڑھانے کا مرحلہ شروع ہوا۔ دروازے کے بنیادی ڈھانچے کے لیے تھائی لکڑی استعمال کی گئی۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق یہ اعلیٰ معیار کی ساگوان کی لکڑی تھی، جسے تھائی لینڈ میں میکا مونگ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس مضبوط ڈھانچے کو تقریباً ۲۸۰؍ کلو گرام خالص سونے کا وزن برداشت کرنے کے قابل بنایا گیا۔ بعد میں دروازے کو سونے سے آراستہ کیا گیا اور اس پر انتہائی باریک نقش و نگار بنائے گئے۔ دروازے کی تزئین میں اللہ تعالیٰ کے ۱۵؍ اسمائے حسنیٰ بھی شامل کیے گئے۔ عبداللہ کے مطابق ۶؍ نام ایک جانب، ۶؍ دوسری جانب جبکہ ۳؍ نام اوپر کندہ کیے گئے۔ قرآن کی آیات تحریر کرنے کی ذمہ داری شیخ عبدالرحیم امین مکی نے انجام دی۔ عبداللہ نے بتایا کہ اس وقت شیخ کی عمر تقریباً ۸۵؍ برس تھی اور طبیعت خراب رہنے کے باوجود وہ وقفے وقفے سے اسپتال جاتے اور پھر واپس آکر تحریری کام مکمل کرتے رہے۔
نئے دروازے کی تنصیب اکتوبر ۱۹۷۹ء میں ہوئی۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق پرانا دروازہ اتارا گیا اور نیا دروازہ ۲۲؍ ذوالقعدہ ۱۳۹۹؍ ہجری کو اپنی جگہ نصب کیا گیا۔ عبداللہ نے بتایا کہ اس دوران مسجد الحرام میں زائرین معمول کے مطابق طواف کررہے تھے اور اوپر ماہرین دروازے کی تنصیب میں مصروف تھے۔ عبداللہ کے مطابق پورا کام ایک ہفتے سے کچھ زیادہ عرصے میں مکمل ہوا۔ انہوں نے اس منصوبے کو اپنی زندگی کے اہم ترین تجربات میں شمار کیا اور بتایا کہ اس وقت انہیں اندازہ تھا کہ وہ ایک غیر معمولی مذہبی اور تاریخی کام کا حصہ بن رہے ہیں۔ ان کے بقول اس منصوبے میں شامل افراد نے خاموشی سے اپنی ذمہ داری ادا کی اور کام مکمل ہونے کے بعد اپنی زندگیوں میں واپس لوٹ گئے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران جنگ بندی مذاکرات کی بحالی کیلئے ثالثی کوششیں تیز: رپورٹ
عبداللہ کا سعودی عرب واپس آنا کئی دہائیوں بعد اس تاریخی کام سے ان کے تعلق کو دوبارہ نمایاں کر رہا ہے۔ مدینہ منورہ میں ایک ملاقات کے دوران انہوں نے اپنے ماضی کے تجربات بیان کیے اور بتایا کہ وہ تھائی لینڈ میں عربی زبان سے واقف افراد میں نمایاں تھے۔ یہی زبان دانی بالآخر انہیں ۱۹۷۹ء میں سعودی عرب لے آئی، جہاں انہوں نے تھائی کاریگروں اور سعودی ماہرین کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کیا۔ اب ۷۸؍ سال کی عمر میں عبداللہ ایک مرتبہ پھر سعودی عرب میں موجود ہیں، جہاں ان کی اس واپسی نے تقریباً نصف صدی قبل خانۂ کعبہ کے موجودہ دروازے کی تیاری میں حصہ لینے والی ایک خاموش ٹیم کی داستان کو دوبارہ منظر عام پر لایا ہے۔ سعودی عرب میں شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ان کی ملاقات بھی متوقع ہے۔ تاہم، حتمی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئی ہیں۔