• Fri, 25 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یواین: نیتن یاہو کی تقریر سے قبل ۷۷؍ وفود ہال سے نکل گئے

Updated: September 25, 2026, 2:28 PM IST | New York

اسرائیلی وزیر اعظم نے واک آؤٹ کرنے والے مندوبین کو ’’اخلاقی بزدل‘‘ قرار دیا، جبکہ اپنی تقریر میں ایران، غزہ، قطر، ترکی اور مغربی ممالک کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: INN
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو۔ تصویر:آئی این این

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے آغاز پر درجنوں ممالک کے نمائندے اجلاس ہال سے باہر نکل گئے۔ اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے ۷۷؍ وفود کے ہال سے غیر حاضر یا تقریر کے دوران باہر جانے کی اطلاع دی گئی ہے۔ رائٹرز نے بھی تصدیق کی کہ نیتن یاہو کے خطاب کے آغاز پر بڑی تعداد میں مندوبین ہال سے باہر چلے گئے۔ اقوام متحدہ کے ۸۱؍ ویں جنرل اسمبلی اجلاس کا عمومی مباحثہ ۲۲؍ سے ۲۶؍ ستمبر اور پھر ۲۸؍ ستمبر تک جاری ہے۔ ۲۴؍ ستمبر کو جنرل اسمبلی ہال میں ہونے والے اجلاس میں نیتن یاہو نے خطاب کیا، جبکہ اقوام متحدہ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ ۸۱؍ ویں جنرل اسمبلی کا ۹؍ واں اجلاس تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: اننت اور پریناز نے کانسے کے تمغے پر نشانہ لگایا

نیتن یاہو جب خطاب کے لیے روسٹرم کی جانب بڑھے تو متعدد وفود اپنی نشستوں سے اٹھ کر ہال سے باہر نکل گئے۔ اسی دوران ہال میں اسرائیلی وفد کے حامیوں کی جانب سے نعرے بھی لگائے گئے، جبکہ جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمٰن نے متعدد مرتبہ نظم برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ رائٹرز کے مطابق واک آؤٹ کے بعد ہال کی متعدد نشستیں خالی نظر آئیں۔ نیتن یاہو نے اپنی تقریر کے ابتدائی جملوں ہی میں واک آؤٹ کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر کوئی اور اخلاقی بزدل ابھی تک اس ہال سے نہیں نکلا تو براہ کرم وہ بھی چلا جائے۔‘‘ یہ جملہ انہوں نے خطاب شروع کرنے سے پہلے کہا۔ 
اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دفاع کیا اور کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنا ان کے لیے بطور وزیر اعظم ’’آسان ترین فیصلوں‘‘ میں سے ایک تھا۔ ان کے مطابق اگر اسرائیل نے ایسا نہ کیا ہوتا تو ’’ہم سب مر چکے ہوتے۔‘‘ ایران نے اس معاملے پر اسرائیلی موقف کو مسترد کیا ہے اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ایک روز قبل جنرل اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے جوہری معاملے پر ’’دوہرے معیار‘‘ کی شکایت کی تھی۔ نیتن یاہو نے واک آؤٹ کرنے والے ممالک کے حوالے سے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل ایران کے خلاف کارروائی کرکے دراصل ان ہی ممالک کا دفاع کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ممالک کے کئی لیڈر نجی طور پر اسرائیل کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: سعودی عرب : مکہ معظمہ کے لیے ’ممکنہ خطرے‘ کا انتباہ جاری

انہوں نے اپنی تقریر میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر ہونے والی تنقید کو بھی مسترد کیا۔ نیتن یاہو نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنے دفاع کے لیے کارروائی کررہا ہے۔ اسرائیل نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے، جبکہ فلسطینی حکام اور متعدد بین الاقوامی اداروں کی جانب سے غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں پر شدید اعتراضات سامنے آتے رہے ہیں۔ نیتن یاہو نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کو بھی براہ راست مخاطب کیا، جنہوں نے اس سے قبل نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیا تھا اور ان کی گرفتاری کی حمایت کی تھی۔ نیتن یاہو نے ممدانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’آپ مجھے خاموش نہیں کراسکتے۔‘‘ ممدانی نے جواب میں نیتن یاہو کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ان کا مقصد فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو ’’صاف ستھرا‘‘ دکھانا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں برطانیہ اور فرانس سمیت بعض مغربی ممالک کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان ممالک نے حالیہ عرصے میں اسرائیل کی پالیسیوں، خصوصاً مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں اور فلسطینی علاقوں سے متعلق اقدامات پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ نیتن یاہو نے ان ممالک پر اسرائیل کے خلاف ’’نوآبادیات‘‘ کا الزام عائد کرنے پر اعتراض کیا اور برطانیہ و فرانس کی نوآبادیاتی تاریخ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے قطر اور ترکی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور ایران کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کئی محاذوں پر بیک وقت لڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق غزہ، مغربی کنارہ، شام، لبنان، ایران، یمن میں حوثی گروپ اور عراق میں موجود مسلح گروہ اس جنگ کے مختلف محاذ ہیں۔ 

نیتن یاہو نے خطاب کے دوران ایران کے لیے اسٹارلنک کا ایک آلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ وہ اسے ایرانی وفد کے لیے چھوڑنا چاہتے ہیں تاکہ ایرانی شہری انٹرنیٹ کے ذریعے ’’آزادیٔ اظہار‘‘ حاصل کرسکیں۔ انہوں نے ایرانی حکومت کے خلاف سخت زبان استعمال کرتے ہوئے پیش گوئی کی کہ ایک دن ایرانی عوام آزاد ہوں گے اور موجودہ حکومت ختم ہوجائے گی۔ یہ نیتن یاہو کا سیاسی دعویٰ تھا۔ اس موقع پر اقوام متحدہ کے باہر بھی احتجاج ہوا۔ امریکی تنظیم جیوش وائس فار پیس سے وابستہ مظاہرین نے نیتن یاہو کے دورے اور ان کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے خلاف احتجاج کیا۔ ادھر ہال میں موجود اسرائیلی حامیوں نے نیتن یاہو کی حمایت میں نعرے لگائے۔ یتن یاہو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب غزہ کی جنگ اور اسرائیل کی علاقائی فوجی کارروائیوں پر بین الاقوامی سطح پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK