تبلیغی جماعت کے ۲۰؍ اراکین بری، کورٹ نے کہا کہ ان کیخلاف ثبوت کا شائبہ تک نہیں

Updated: October 21, 2020, 9:08 AM IST | Staff Reporter | Mumbai

ممبئی پولیس کو اندھیری کورٹ میں ہزیمت کاسامنا، ۷؍ ماہ تک بے گناہی کی سزا بھگتنے کے بعد کرغیزستان اور انڈونیشیا کے شہری وطن واپسی کیلئے آزاد

Tablighi Jamat - Pic : PTI
تبلیغی جماعت ۔ تصویر : پی ٹی آئی

تبلیغی جماعت کے ۲۰؍ غیر ملکی  اراکین کو اندھیری میں واقع میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے پیر کو یہ کہتے ہوئے تمام الزامات سے بری کردیا کہ ان کے خلاف ثبوت کا شائبہ تک نہیں ہے۔ انڈونیشیا اور کرغیزستان  سے تعلق رکھنے والے جماعت کے ان اراکین    پر کورونا وائرس پھیلانے، امتناع کے بعد بھی مسجد میں اکھٹا ہونے اور لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیاگیاتھا۔ کورٹ نے دو الگ الگ مقدموں کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام ۲۰؍ اراکین کو بری کر دیا  ۔۷؍ ماہ تک ممبئی میں پھنس کر رہ جانے اور قیدوبند کی صعوبتیں تک برداشت کرنے والے جماعت کے یہ  اراکین  اب  وطن لوٹ سکتے ہیں۔
  پولیس سب انسپکٹر  درگیش ہریش چندر سالونکے نے بامبے پولیس ایکٹ کی دفعہ ۳۷(۳) جو اسی قانون کے سیکشن ۱۳۵؍ کے تحت قابل تعزیر جرم  ہے،  کے تحت  اور تعزیرات ہند، فارینرس ایکٹ ، وبائی امراض سے متعلق قانون اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت تبلیغی جماعت کے مذکورہ اراکین کو ۵؍ اپریل  ۲۰۲۰ء کو گرفتار کیاتھا۔ اندھیری کورٹ میں میٹروپولیٹن  مجسٹریٹ آر آر خان نے ملزمین کو بری کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ’’استغاثہ کے پاس ماخوذ کئے گئے افراد کے خلاف ثبوت کا شائبہ تک نہیں ہے ۔‘‘ انہوں  نے کہا ہے کہ ’’استغاثہ  نے ایسا کوئی قانونی ثبوت پیش نہیں کیا جس سے ثابت ہوکہ ملزم بنائے گئے افراد نے بامبے ایکٹ کے سیکشن ۳۷؍ کے تحت جاری کئے گئے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔‘‘کورٹ  نے تسلیم کیا کہ کسی بھی گواہ   نے  ملزمین کو بھیڑ کی شکل میں کہیں جمع ہوتے ہوئے  یا احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہیں  دیکھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK