یوکرین کی برطانیہ نے حمایت کا اعلان کیا، جس کے سبب روس اور برطانیہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے، روس نے برطانیہ سے اپنے سفیر آندرے کیلن کو واپس بلا لیا ہے اور ان کی جگہ کسی نامزدگی کا اعلان نہیں کیا۔
EPAPER
Updated: August 23, 2026, 7:24 PM IST | Kremlin
یوکرین کی برطانیہ نے حمایت کا اعلان کیا، جس کے سبب روس اور برطانیہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے، روس نے برطانیہ سے اپنے سفیر آندرے کیلن کو واپس بلا لیا ہے اور ان کی جگہ کسی نامزدگی کا اعلان نہیں کیا۔
یوکرین کی برطانیہ نے حمایت کا اعلان کیا، جس کے سبب روس اور برطانیہ میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے، روس نے برطانیہ سے اپنے سفیر آندرے کیلن کو واپس بلا لیا ہے اور ان کی جگہ کسی نامزدگی کا اعلان نہیں کیا۔ جس سے سفارتی تعلقات میں مزید کمی آگئی ہے۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین کو برطانیہ کی حمایت کے باعث روس-برطانیہ کشیدگی بڑھ رہی ہے۔کریملن نے برطانیہ میں اپنے سفیر کو واپس بلا کر یوکرین جنگ میں برطانوی حمایت پر کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے۔ برطانیہ کے اخبار دی ٹائمز نے خبر دی کہ سات سال سے زائد عرصے تک برطانیہ میں روس کے سفیر رہنے والے آندرے کیلن نے۲۱؍ جولائی کو اپنا سفارتی عہدہ چھوڑا۔ ماسکو نے ان کی جگہ کے لیے دفتر خارجہ کو کوئی امیدوار نامزد نہیں کیا، اور سفارت خانے کے عملے کو علم نہیں کہ کب کوئی جانشین مقرر کیا جائے گا۔یہ صورتحال اس پس منظر میں ہے جب برطانیہ کے وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ برطانیہ ’’یوکرین کی سو فیصد حمایت‘‘ جاری رکھے گا، جبکہ ماسکو نے یوکرین کی جانب سے روسی سرزمین میں گہرے حملوں کے لیے برطانوی ڈرونز کے استعمال کی اطلاع پر نتائج کی دھمکی دی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: نوجوان امریکی یہودیوں میں اسرائیل سے بےرغبتی، سیاسی، مذہبی حلقوں میں تشویش: سروے
بعد ازاں، ایک حملے میں ۱۰؍ روسی ہلاک ہونے کے بعد روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی یوکرین کو خبردار کیا کہ اس نے ’’تباہی کا دروازہ‘‘ کھول دیا ہے۔ اس سے قبل، لندن میں روسی سفارت خانے نے غیر متعینہ نتائج کی دھمکی دی تھی۔روسی سفارت خانے کے ترجمان نے کہا، ’’انہوں نے برطانیہ اس امید پر چھوڑا کہ اگر برطانیہ اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے تو ممکنہ طور پر زیادہ تعمیری اور باوقار مکالمہ بحال ہو سکتا ہے، اور مزید کہا کہ کریملن نے ابھی تک کوئی متبادل امیدوار پیش نہیں کیا۔ ‘‘تاہم اس وقت سفارت خانے کی سربراہی چارج ڈی افیئرز کر رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بیلجیم: ڈی این اے ٹیسٹ سے شاہی خون ثابت ہونے کے بعد ایک سابق کار سیلزمین شہزادہ بن گیا
ذہن نشین رہے کہ اس سے قبل جون۲۰۲۴ء میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا تھا، ’’سفارتی تعلقات کی سطح کم کرنا ان ریاستوں کے لیے ایک معیاری عمل ہے جو غیر دوستانہ یا مخاصمانہ مظاہر کا سامنا کرتی ہیں۔‘‘ مزید برآں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد لٹویا، لتھوانیا اور ایسٹونیا کے ساتھ بھی سفارتی تعلقات کم کیے گئے تھے۔روسی صدر ولادیمیر پوتن نے یوکرین کو خبردار کیا کہ’’ وہ اس کی معاشی بنیادوں پر یوکرینی ڈرون حملوں کے جواب میں اس کے انتہائی حساس اقتصادی شعبوں کے خلاف جوابی مہم شروع کریں گے، اور کہا کہ ان حملوں نےتباہی کا دروازہ کھول دیا ہے۔‘‘ سنیچر کو پوتن نے کہا کہ’’ روس یوکرین کے حملوں کا جواب دے گا۔کیف کی حکومت ہماری معیشت کو نقصان پہنچانا چاہتی تھی۔ اس نے کیا کیا؟ اس نے خود یہ پینڈورا کا ڈبہ کھول دیا۔ ٹھیک ہے، تو اب آپ کے انتہائی حساس اقتصادی شعبوں کو نشانہ بنانے والے جواب کا انتظار کریں۔