Updated: August 22, 2026, 10:04 PM IST
| Brussels
بیلجیم کے شاہ فلپ کے بھائی، شہزادہ لارینٹ کا بیٹا ثابت ہونے کے بعد ۲۶ سالہ کلیمنٹ وانڈنکرخوو کو شاہی لقب استعمال کرنے کا حق اور اپنے والد کی وراثت میں سے حصہ ملا ہے، اگرچہ انہیں کوئی شاہی وظیفہ (الاؤنس) نہیں ملے گا اور نہ ہی وہ تخت کے جانشینوں کی فہرست میں شامل ہوں گے۔
شہزادہ لارینٹ اور شہزادہ کلیمنٹ وانڈنکرخوو۔ تصویر: ایکس
ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کے ذریعے شاہ فلپ کے بھائی، شہزادہ لارینٹ کا بیٹا ثابت ہونے کے بعد ایک سابق کار سیلزمین کو باضابطہ طور پر بیلجیم کے شہزادے کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔ ۲۶ سالہ کلیمنٹ وانڈنکرخوو اپنے والد سے لاعلمی میں پلے بڑھے تاوقتیکہ ان کی والدہ نے ۱۶ سال کی عمر میں انہیں سچ بتایا اور اسے راز رکھنے کا عہد لیا۔
’سوائر میگ‘ (Soir Mag) کے مطابق، باضابطہ شناخت کی تقریب تقریباً ۶ ماہ قبل منعقد ہوئی تھی۔ وانڈنکرخوو اگست ۲۰۰۰ء میں شہزادہ لارینٹ اور فلیمش ماڈل و گلوکارہ آئرس وانڈنکرخوو (جنہیں ان کے اسٹیج کے نام وینڈی وان وانٹن کے طور پر جانا جاتا ہے) کے تعلق کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے۔ شہزادے کی ان سے ملاقات ۱۹۹۰ء کی دہائی میں پیرس کے ایک فیشن شو کے دوران ہوئی تھی، جس کے بعد انہوں نے ۲۰۰۳ء میں کلیئر کومبس سے شادی کر لی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: اعلیٰ تعلیم یافتہ شہریوں کا ریکارڈ اخراج، ’برین ڈرین‘ کا خطرہ بڑھ گیا
’دی ٹائمز‘ کے مطابق، اس باضابطہ شناخت نے وانڈنکرخوو کو شاہی لقب استعمال کرنے کا حق اور اپنے والد کی وراثت میں سے حصہ فراہم کیا ہے، اگرچہ انہیں کوئی شاہی وظیفہ (الاؤنس) نہیں ملے گا اور نہ ہی وہ تخت کے جانشینوں کی فہرست میں شامل ہوں گے۔
اپنے والد کی طرف سے عوامی سطح پر تسلیم کئے جانے کے بعد، انہیں گزشتہ ستمبر میں ایک فلیمش ٹی وی دستاویزی فلم (ڈاکیومنٹری) میں دکھایا گیا تھا۔ دونوں کے تعلق کی تصدیق کرنے والے ڈی این اے ٹیسٹ کے بارے میں بتاتے ہوئے انہوں نے وی ٹی ایم (VTM) کو بتایا کہ ”ہم ایک ساتھ اسپتال گئے، مجھے یاد ہے کہ انہوں نے کہا تھا، ’میں پہلے ٹیسٹ کرواؤں گا تاکہ تم خود کو پُرسکون محسوس کرو۔‘ اس ٹیسٹ کا نتیجہ ۵ء۹۹ فیصد میچ کے ساتھ مثبت آیا۔
یہ بھی پڑھئے: متحدہ عرب امارات: ہر۵۰؍ میں سے ایک بچہ ڈجیٹل شناخت کی چوری کا شکار
بیلجیم کے روزنامے ’نیوز بلیڈ‘ (Nieuwsblad) سے بات کرتے ہوئے وانڈنکرخوو نے کہا کہ وہ شاہی خاندانی نام ”وان ساکسن-کوبرگ“ (van Saksen-Coburg) اپنانے کے بارے میں اب بھی غیر یقینی کا شکار ہیں، انہوں نے کہا کہ ”مجھے وانڈنکرخوو نام پر فخر ہے۔ اس خاندانی نام کو چھوڑنا ان تمام قربانیوں سے غداری ہوگی جو میری والدہ نے میرے لئے دی ہیں۔“
انہوں نے اپنے بچپن کے جذباتی کرب کے بارے میں بھی کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ برسوں تک اپنے والد کی شناخت کے سوال اور سچائی معلوم ہونے کے بعد اس راز کو سنبھالنے کے بوجھ تلے دبے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ”اسکول کے بعد، میں ایک کار سیلزمین بن گیا۔ مجھے وہ کام پسند تھا اور میں نے اسے اچھی طرح سے کیا۔ لیکن خوف کے دورے (panic attacks) مجھے پریشان کر رہے تھے۔“
یہ بھی پڑھئے: اٹلی کے۱۲۳؍ سال پرانے ساحل کی پالیسی پر تنازع مگرسیاحوں کی تعداد میں اضافہ
اب، اپنے حقیقی والد کے ساتھ تعلق قائم ہونے کے بعد، وہ کم پریشان محسوس کرتے ہیں اور مالی فوائد حاصل کرنے کی تلاش میں نہیں ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”اس وقت میرے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ میں ایک ایسا بیٹا ہوں جسے اپنے باپ کو جاننے کی اجازت مل گئی ہے۔“