یوکرین: اسکول پر بمباری،۶۰؍ افراد کے ہلاک ہونے کاخدشہ

Updated: May 09, 2022, 12:28 PM IST | Agency | Kyiv

لوہانسک کے بلوہوریوکا گاؤں کے اسکول پرروسی طیارے کی بمباری سے عمارت میں آگ لگ گئی

Smoke billows after the bombing in Mariupol.Picture:PTI/AP
ماریوپول میں بمباری کے بعد دھواں نظر آرہا ہے۔ تصویر:پی ٹی آئی / اےپی

يوکرين کے مشرقی علاقے لوہانسک میں ايک اسکول کی عمارت پر روسی بمباری کے نتيجے ميں۶۰؍ افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ روسی فورسیز نے سنیچر کی سہ پہر کو بلوگوریفکا نامی شہر میں ایک اسکول کی عمارت کو فضائی حملے کا نشانہ بنايا جس ميں۹۰؍ کے قریب افراد پناہ لئے ہوئے تھے۔ بمباری کے نتيجے ميں عمارت میں آگ لگ گئی ۔ بعد ازاں وہ منہدم ہوگئی۔ خبر لکھے جانے تک تک دو افراد کی ہلاکت کی تصديق ہو چکی ہے مگر لوہانسک ریجنل ملٹری ایڈمنسٹریشن کے سربراہ سیرہی ہیڈے نے خدشہ ظاہر کيا ہے کہ ملبے تلے دبے تقريباً ۶۰؍ افراد کے بچنے کا امکان نہیں ہے۔ ايمرجنسی سروسیز نے ۳۰؍ افراد کو نکال لیا جن ميں سے ۷؍ زخمی بتائے جا رہے ہيں۔ ملبے سے دو لاشیں بھی نکالی گئیں۔ سی این این کے مطابق روسی طیارے نے بلوہوریوکا گاؤں کے اسکول پر بمباری کی جس سے عمارت میں آگ لگ گئی۔ فائر فائٹرز کو آگ پر قابو پانے میں تقریباً ۴؍ گھنٹے لگے۔ ادھریوکرینی فورسیز نے ملک کے مشرقی شہر پوپاسنا  میں ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔  یہ بات لوہانسک ریجن کے گورنر کی طرف سے بتائی گئی ہے جس سے ان رپورٹس کی تصدیق ہو گئی ہے کہ یہ شہر روسی فورسیز کے قبضے میں چلا گیا ہے۔ روسی ری پبلک چیچنیا کے سربراہ رمضان قادروف نے قبل ازیں اعلان کیا تھا کہ ان کے فوجیوں نے پوپاسنا کے زیادہ تر حصے کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ لوہانسک کے گورنرسیرہی ہیڈے نے یوکرینی ٹیلی ویژن کو بتایا کہ یوکرینی فورسیز نے پسپائی اختیار کرتے ہوئے ایک محفوظ پوزیشن سنبھال لی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہاں سب کچھ تباہ ہو گیا ہے۔اسی دوران یوکرینی شہر ماریوپول میں موجود ایک اسٹیل پلانٹ کامپلکس میں پھنسے  خواتین، بچوں اور بزرگوں کو بحفاظت نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔   اس سلسلے میں یوکرین کی نائب وزیراعظم ارینا ویرشچک نے بتایا کہ اس طرح انسانی بنیادوں پر کیا جانے والا یہ آپریشن مکمل ہو گیا ہے۔ یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی نے بھی سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب  اپنے خطاب میں تصدیق کی کہ آزوفسٹال اسٹیل پلانٹ سے۳؍ سو  عام شہریوں کو نکالا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں پھنسے زخمیوں اور طبی عملہ کو نکالنے اور روسی فورسیز کے گھیرے میں آئے ہوئے ماریوپول کے شہریوں کے انخلاء کیلئے محفوظ راستے  فراہم کرنے کی کوشش جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK