Updated: February 13, 2026, 2:31 PM IST
| Gaza
اقوام متحدہ کی تنظیم برائے فلسطینی امداد ( انروا) نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں غزہ کے ۹۰؍ فیصد اسکول مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں، اس کے علاوہ جو اسکول ابھی تک قائم ہیں، انہیں بڑے پیمانے پر پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کے سبب بچے عارضی تعلیمی مراکز یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔
اقوام متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی امدادی ایجنسی (انروا) نے جمعرات کو بتایا کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی دو سالہ جارحیت کے دوران تقریباً۹۰؍ فیصد اسکول کی عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں ایجنسی نے کہا کہ جو اسکول ابھی تک قائم ہیں، انہیں بڑے پیمانے پر پناہ گاہوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بچے عارضی تعلیمی مراکز یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وسیع پیمانے پر تباہی کے باوجود ان کی ٹیمیں تعلیمی معاونت فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: حماس نے غزہ پر بین الاقوامی سرپرستی کو مسترد کر دیا
غزہ کی وزارت صحت کے مطابق،۱۰؍ اکتوبر۲۰۲۵ء کو جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم ۵۹۱؍ فلسطینی شہید اور۱۵۷۸؍ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ساتھ ہی اسرائیل کے ذریعے امن معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی جارہی ہے، جبکہ امن معاہدے میں درج کئی شرائط سے اسرائیل مکر گیا ہے۔جس میں غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر امداد کی وافر مقدار کی ترسیل بھی تھی۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی غزہ پر جارحیت جو ۸؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کو شروع ہوئی اور دو سال جاری رہی، میں۷۲۰۰۰؍ سے زائد فلسطینی شہید اور۱۷۱۰۰۰؍ سے زائد زخمی ہوئے، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اس جنگ نے غزہ کے تقریباً ۹۰؍ فیصد شہری نظام کو تباہ کر دیا۔اس کے علاوہ اسرائیل کے ذریعے خطے کی ناکہ بندی نے وہاں پہنچنے والی امداد کو مسدود کردیا ، جس کے سبب علاقے میں کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے، اور مریضوں کا علاج مشکل ہوگیا ہے، اس کے علاوہ پورے غزہ میں جابجا کوڑے کے انبار نے صحت کے مسائل پیدا کردئے ہیں، اور اس علاقے کو انسانوں کیلئے ناقابل رہائش بنادیا ہے۔