بابری مسجد کیس کا حوالہ دیا،کہا: ایک خاص طبقہ کی بالادستی اور دوسروں کو قانونی طور پر بے بس ،بے عزت کرنے کی کوشش ہورہی ہے، بی جےپی تلملا گئی، کارروائی کا مطالبہ کیا
EPAPER
Updated: November 30, 2025, 9:06 AM IST | Bhopal
بابری مسجد کیس کا حوالہ دیا،کہا: ایک خاص طبقہ کی بالادستی اور دوسروں کو قانونی طور پر بے بس ،بے عزت کرنے کی کوشش ہورہی ہے، بی جےپی تلملا گئی، کارروائی کا مطالبہ کیا
بھوپال میں سنیچر کو جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کی پہلی نشست میں مولانا محمود اسعد مدنی کے کلیدی صدارتی خطاب ہنگامہ مچ گیاہے۔ مولانا نے ملک کے حالات پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کئی عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ تاثر عام ہوگیاہے کہ عدالتیں حکومتوں کے دباؤ میں کام کر رہی ہیں۔انہوں نے بطور خاص بابری مسجد کیس اور طلاق ثلاثہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا۔ مولانا نے ’پلیس آف ورشپ ایکٹ‘ کو نظر انداز کرکے گیان واپی اور شاہی عیدگاہ مسجدوں کے خلاف مقدمات پر سماعت پر بھی تنقید کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ سپریم کورٹ اسی وقت تک ’سپریم ‘ کہلانے کا حق ہے جب تک کہ وہ آئین کے مطابق کام کرے۔ان کے اس بیان پر بی جےپی اوراس کے ہم نوا میڈیا نے واویلا مچانا شروع کردیا ہے۔ زعفرانی محاذ نے مولانا کے بیان کو حیرت انگیز طور پرسماج میں انتشار پھیلانےوالا اور سپریم کورٹ کی توہین قرار دیا اور کارروائی کی مانگ کی۔ بی جےپی لیڈر سمبت پاترا نے اس پر باقاعدہ پریس کانفرنس کی اور کہا کہ سپریم کورٹ کو از خود مولانا کے بیان کا نوٹس لینا چاہئے۔
عدالتوں کے تعلق سے مولانا نے کیا کہا؟
انہوں نے کہا کہ ’’ہر حکمراں کا اولین فرض اپنی رعایا کو انصاف فراہم کرنا ، ملک میں امن وامان کا قیام اور جرائم سے پاک معاشرہ کی تشکیل ہے۔ ‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ ’’جرائم سے پاک معاشرہ کی تشکیل انصاف کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے با لخصو ص بابری مسجد اور طلاق ثلاثہ جیسے بہت سے مسئلوں پر فیصلوں کے بعد یہ تاثر عام ہورہا ہے کہ عدالتیں حکومتوں کے دباؤ میں کام کرتی ہیں۔‘‘ مولانا نے فکر مندی کا اظہار کیا کہ ’’اقلیتوں کے آئینی حقوق اور دستور ہند کے اصولوں کی تشریح کی ایسی مثالیں سامنے آئی ہیں جنہوں نے عدالتوں کے کردار پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔‘‘ پلیس آف ورشپ ایکٹ کو نظر انداز کرکے مساجد پر کئے جانےوالے دعوؤں کے مقدمات کو سماعت کیلئے منظور کئے جانےکو بھی اس کی ایک مثال قرار دیتے ہوئے مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ’’یاد رکھئے کہ سپریم کورٹ اسی وقت تک ’سپریم ‘ کہلانے کا مستحق ہے جب تک آئین کی پیروی کرے اور (شہریوں کے) قانونی حقوق کا خیال رکھے۔ اگر وہ ایسا نہیں کریگی تووہ اخلاقی طور پر بھی سپریم کہلانے کی حقدار نہیں ہے ۔ ‘‘
بی جےپی اوراس کے ہمنواؤںکااعتراض
مولانا کے بیان پر اعتراض کرتے ہوئے بی جےپی کے ترجمان سمبت پاترا نے اسے ’’غیر ذمہ دارانہ اور نامناسب‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ہندوستان کی عدالتیں مذہب کی بنیاد پر فیصلے نہیں سناتیں۔اس کےساتھ ہی انہوں نے سپریم کورٹ سے اس معالے کا از خود نوٹس لینے کی اپیل کی۔ دہشت گردی کے نام پر الفلاح یونیورسٹی کو نشانہ بنائے جانےا ور لفظ جہاد کے غلط استعمال کے تعلق سےمولانا محمود مدنی کے بیان پر سمبت پاترا نے کہا کہ ’’دنیا نے دیکھا ہے کہ لوگوں نے جہاد کے نام پر ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر میں کس طرح دہشت گردی کو فروغ دیا ہے۔‘‘
مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک
اس سے قبل مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارے ملک کے آئین نے ہمیں اپنے مذہب پر چلنے اور اس کی تبلیغ کی اجازت دی ہے۔لیکن قانون میں ترمیم کے ذریعہ اس بنیادی حق کو ختم کیا جارہا ہے۔اس قانون کو اس طرح استعمال کیا جارہا ہے کہ مذہب کی تبلیغ کا جرم اور سزا کا سبب بن جائے۔دوسری طرف’گھر واپسی کے نام پر‘ ہندو دھرم میں شامل کرنے والوں کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ایک خاص مذہبی سمت کی طرف ملک اور سماج کو دھکیلا جارہا ہے۔
جہاد کے تعلق سے غلط فہمی پھیلانےوالوں پر تنقید
مولانا مدنی نے ’’لو جہاد‘‘ جیسی من گھڑت اصطلاحات پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام دشمن عناصر نے جہاد جیسی مقدس دینی اصطلاح کو گالی اور تشدد کا ہم معنی بنا دیا ہے، اور لو جہاد، لینڈ جہاد، تعلیم جہاد، تھوک جہاد جیسے الفاظ کے ذریعے مسلمانوں کو بدنام اور ان کے مذہب کی توہین کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افسوس کہ حکومت اور میڈیا کے بعض ذمہ دار بھی ایسے الفاظ کے استعمال سے گریز نہیں کرتے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسلام میں جہاد ایک مقدس فریضہ ہے، جس کا مقصد ظلم کا خاتمہ، انسانیت کی حفاظت اور امن کا قیام ہے، اور قتال کی صورت بھی ظلم و فساد روکنے کے لیے ہی مشروع ہے۔
ہندوستان میں جہاد موضوع بحث ہی نہیں
ہندوستان کے پس منظر میں مولانا مدنی نے کہا کہ ’’ہندوستان جمہوری و سیکولر ملک ہے جہاں اسلامی ریاست کا تصور موجود نہیں، اس لیے یہاں جہاد کے نام پر کوئی بحث ہی نہیں۔ مسلمان آئینی طور پر پابند ہیں اور حکومت شہری حقوق کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ مشکل حالات اگر پیش آئیں تو صبر کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قرآن کریم سے صبر کی رہنمائی ملتی ہے۔