امریکہ ،ایران سے جوہری معاہدے کیلئے راضی

Updated: August 27, 2022, 12:19 PM IST | Agency | Washington

وہائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی منظوری دیں گے اگر یہ قومی سلامتی کے مفاد میں ہے

US President Joe Biden.Picture:INN
امریکی صدر جو بائیڈن ۔ تصویر:آئی این این

وہائٹ ہاؤس نے جمعرات کی شام کہا ہےکہ امریکی صدر جو بائیڈن ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی منظوری دیں گے اگر یہ قومی سلامتی کے مفاد میں ہے۔وہائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی جوہری معاہدے کے حوالے سے تمام حالات سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ قبل ازیں ویانا میں بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے نمائندے میخائل الیانوف نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کے مسودے میں ترمیم کی کوئی بھی تجویز مذاکرات کو طول دے گی۔انہوں نے کہا کہ ’’شرکاء کو کثیر جہتی سفارت کاری کے معمول کے مطابق متن میں تبدیلی کی درخواست کرنے کا حق ہے۔‘‘ الیانوف نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے مزید کہا۔ ہمیں صبر کرنا چاہیے۔قبل ازیں تہران نے تصدیق کی تھی کہ وہ ایٹمی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے جتنی امریکا اور یورپ کو ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاسداران انقلاب کو دہشت گردوں کی فہرست سے نکالنا جوہری مذاکرات کی شرط نہیں ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ایرانی حکومت کی ایکسپیڈینسی کونسل جوہری معاہدے کے فارمولے سے متعلق مشاہدات پر امریکی ردعمل کا مطالعہ کر رہی ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اگر کونسل نے امریکی جواب کی منظوری دی تو جوہری معاہدے پر دستخط ۵؍ستمبر کو ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ اسے جوہری معاہدے کے حتمی متن پر کئے گئے تبصروں پر امریکی ردعمل موصول ہو گیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ تہران نے امریکی ردعمل کا بغور مطالعہ شروع کر دیا ہے اور اس کی رائے یورپی رابطہ کار تک پہنچائی جائے گی۔ بدھ کو امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جوہری معاہدے میں باہمی واپسی کے لئے سفارتی راستے پر گامزن ہے۔محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بتایا کہ ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی باہمی واپسی امریکہ کے مفاد میں ہے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنے کیلئے سفارت کاری بہترین آپشن ہے۔ اطلاع کے مطابق  واشنگٹن نے یورپی تجویز کے جواب میں تہران کی جانب سے رکھی گئی تمام اضافی شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK