دنیا میں فوجی ڈرونز کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے درمیان امریکہ اور ایران فوجی ڈرون برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک بن کر سامنے آئے ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار پر مبنی تازہ تجزیےمیں یہ بات سامنے آئی ہے۔
EPAPER
Updated: October 08, 2026, 4:04 PM IST | New York
دنیا میں فوجی ڈرونز کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے درمیان امریکہ اور ایران فوجی ڈرون برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک بن کر سامنے آئے ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار پر مبنی تازہ تجزیےمیں یہ بات سامنے آئی ہے۔
دنیا میں فوجی ڈرونز کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے درمیان امریکہ اور ایران فوجی ڈرون برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک بن کر سامنے آئے ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کے اعداد و شمار پر مبنی تازہ تجزیے کے مطابق۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۵ء کے درمیان دنیا بھر میں مجموعی طور پر۱۶۸۲۲؍ فوجی ڈرون برآمد کیے گئے، جن میں امریکہ نے۷۵۹۳؍ اور ایران نے ۶۸۰۰؍ڈرون فراہم کیے۔ اس طرح دونوں ممالک نے مل کر عالمی فوجی ڈرون برآمدات کا تقریباً ۸۶؍ فیصد حصہ حاصل کیا۔ امریکہ ۱ء۴۵؍ فیصد حصے کے ساتھ پہلے اور ایران ۴ء۴۰؍ فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ جرمنی ۱۰۰۰؍ ڈرونز اور۹ء۵؍ فیصد حصے کے ساتھ تیسرے نمبر پر تھا۔ پولینڈ ۶۹۰؍ اور ترکی ۳۸۱؍ فوجی ڈرونز کے ساتھ بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر رہے۔
یہ بھی پڑھئے:آئی ایم ایف نے عالمی معیشت کو توانائی کے جھٹکوں، اے آئی کی طلب سے خبردار کیا
اعداد و شمار کے مطابق امریکہ اور ایران کی فوجی ڈرون برآمدات بنیادی طور پر یوکرین جنگ کے مخالف سمتوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۵ء کے دوران امریکہ کی جانب سے برآمد کیے گئے فوجی ڈرونز میں سے تقریباً ۹۵؍ فیصد یوکرین پہنچے جبکہ ایران کے برآمد کردہ ڈرونز میں تقریباً ۹۹؍ فیصد روس کو فراہم کیے گئے۔ اس طرح ڈرون ٹیکنالوجی نے نہ صرف جنگی حکمت عملی کو تبدیل کیا ہے بلکہ عالمی دفاعی تجارت اور جغرافیائی سیاست میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
امریکی برآمدات میں سال بہ سال نمایاں اتار چڑھاؤ بھی دیکھنے میں آیا۔ امریکہ نے ۲۰۲۲ء میں ۱۰۱۰؍ فوجی ڈرون برآمد کیے، جو ۲۰۲۳ء میں بڑھ کر ۲۹۶۲؍ اور ۲۰۲۴ء میں ۳۲۱۹؍ ہوگئے، تاہم ۲۰۲۵ء میں یہ تعداد تیزی سے کم ہوکر ۴۰۲؍ رہ گئی۔ اس کے برعکس ایران نے۲۰۲۲ ءمیں ۷۳۵؍ ڈرون برآمد کیے، جبکہ ۲۰۲۳ء میں یہ تعداد۲۰۱۳، ۲۰۲۴ء میں ۲۰۳۲؍ اور ۲۰۲۵ء میں ۲۰۰۲۱؍ رہی۔ ۲۰۲۵ء میں ایران دنیا کا سب سے بڑا فوجی ڈرون برآمد کنندہ بن گیا اور اس کی سالانہ برآمدات امریکہ سے تقریباً پانچ گنا زیادہ تھیں۔
۲۰۲۵ء میں امریکی ڈرونز کے بڑے خریداروں میں تائیوان بھی نمایاں رہا، جسے ۲۹۱؍ ایسے ڈرونز فراہم کیے گئے جنہیں ایک مرتبہ استعمال ہونے والے حملہ آور ہتھیاروں کے طور پر شمار کیا جاتا ہے۔ یوکرین کو بھی برطانیہ کی مالی معاونت سے ۱۰۰؍امریکی ساختہ ایسے ڈرون فراہم کیے گئے۔ اس دوران یورپی ممالک نے یوکرین کے لیے امریکی سپلائی میں آنے والی کمی کو کسی حد تک پورا کرنے کی کوشش کی۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ ایس آئی پی آر آئی کے فوجی ڈرون کے اعداد و شمار ہر قسم کے چھوٹے یا تجارتی ڈرونز کی نمائندگی نہیں کرتے ۔ اس ڈیٹا میں عام طور پر کم از کم ۱۵۰؍ کلوگرام وزن رکھنے والے ڈرون طیارے، ایک طرفہ حملہ کرنے والے ڈرون اور ایسے ’لوئٹرنگ میونیشن‘ شامل ہیں جو ہدف پر حملہ کرکے خود بھی تباہ ہوجاتے ہیں۔ چھوٹے ایف پی وی اور عام تجارتی ڈرونز بڑی حد تک اس شمار میں شامل نہیں ہیں۔
ایس آئی پی آر آئی کے مطابق مسلح بغیر پائلٹ فضائی نظام کی مانگ اور پھیلاؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ جدید جنگوں میں یہ ڈرون نگرانی، جاسوسی، ہدف کی نشاندہی، طویل فاصلے تک حملوں اور بڑے پیمانے پر حملہ آور کارروائیوں کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔ ان کی نسبتاً کم لاگت، مختلف نوعیت کے مشنز انجام دینے کی صلاحیت اور تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی نے انہیں جدید جنگی حکمت عملی کا اہم حصہ بنا دیا ہے۔