امریکی اپیل کورٹ کا کہنا ہے کہ فلسطین حامی کارکن محمود خلیل کی رہائی کا حکم دینے کا جج کو اختیار نہیں تھا، اس فیصلے کے بعد خلیل کی دوبارہ گرفتاری کا امکان پیدا ہوگیا جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ان کی ملک بدری کی کوشش کر رہی ہے۔
EPAPER
Updated: January 16, 2026, 2:07 PM IST | Washington
امریکی اپیل کورٹ کا کہنا ہے کہ فلسطین حامی کارکن محمود خلیل کی رہائی کا حکم دینے کا جج کو اختیار نہیں تھا، اس فیصلے کے بعد خلیل کی دوبارہ گرفتاری کا امکان پیدا ہوگیا جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ان کی ملک بدری کی کوشش کر رہی ہے۔
ایک امریکی وفاقی اپیل کورٹ نے جمعرات کو فیصلہ دیا کہ ’’جج کو فلسطین حامی کارکن محمود خلیل کی رہائی کا حکم دینے کا اختیار نہیں تھا‘‘۔فلاڈیلفیا میں واقع تھرڈ سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے ایک کے مقابلے دو کے فیصلے میں کہا کہ وفاقی امیگریشن قانون نے ٹرائل کورٹ کے اختیارات ختم کر دیے تھے کہ وہ خلیل کی حراست کے خلاف چیلنج پر غور کر سکے، اور کیس خارج کرنے کا حکم دیا۔اس فیصلے سے یہ امکان پھر سے پیدا ہو گیا کہ خلیل کو دوبارہ حراست میں لیا جا سکتا ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ ان کی ملک بدری کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کیلئے سزائے موت کے بل کو ابتدائی منظوری
واضح رہے کہ خلیل، جو امریکہ کے قانونی رہائشی اور کولمبیا یونیورسٹی کے سابق گریجویٹ طالب علم ہیں، کو مارچ میں نیویارک سٹی میں امیگریشن افسران نے وارنٹ کے بغیر حراست میں لیا تھا اور انہیں لوئیزیانا کی ایک حراستی مرکزمنتقل کر دیا گیا تھا، جہاں انہیں مہینوں تک رکھا گیا۔ٹرمپ انتظامیہ نے بغیر ثبوت کے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی موجودگی امریکی خارجہ پالیسی کے لیے خطرہ ہے، لیکن نیو جرسی کے نیوارک میں وفاقی ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج مائیکل ای فاربیارز نے جون میں انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا اور حکومت کو انہیں حراست میں لینے یا ملک بدر کرنے سے منع کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئئے: ایران احتجاج: ایران کی عدلیہ نے مظاہرین کی سزائے موت کی رپورٹس کی تردید کی
بعد ازاں خلیل نے ٹرمپ انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ انہیں دوبارہ حراست میں لے کر فلسطین حامی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے،جبکہ ان کے وکلاء نے اکتوبر میں تھرڈ سرکٹ کورٹ آف اپیلز میں ان کی حراست کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔خلیل کی قانونی ٹیم نے ججوں سے درخواست کی کہ وہ زیریں عدالتوں کے فیصلوں کو برقرار رکھیں جن میں حکومت کی کارروائیوں کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا اور انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔