اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک ایسے بل کو پہلی منظوری دی ہے جس کے تحت ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے واقعات میں مبینہ طور پر شامل فلسطینیوں کے لیے خصوصی عدالتی نظام، سزائے موت، اپیل کے حق کی نفی اور قیدیوں کے تبادلے پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: January 15, 2026, 6:07 PM IST | Tel Aviv
اسرائیلی پارلیمنٹ نے ایک ایسے بل کو پہلی منظوری دی ہے جس کے تحت ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے واقعات میں مبینہ طور پر شامل فلسطینیوں کے لیے خصوصی عدالتی نظام، سزائے موت، اپیل کے حق کی نفی اور قیدیوں کے تبادلے پر پابندی کی تجویز دی گئی ہے۔
اسرائیل میں فلسطینی قیدیوں سے متعلق ایک انتہائی متنازع قانون سازی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ نے پیر کو ایک بل کو پہلی بحث میں میں منظور کیا، جس کے حق میں ۱۹؍ ووٹ پڑے۔ یہ پیش رفت اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کے اے این کی رپورٹ کے مطابق سامنے آئی ہے۔ اس بل کو اسرائیل کے وزیرِ انصاف یارف لیون (حکمراں لیکیود پارٹی)، آئینی کمیٹی کے چیئرمین شمسا روتھمان (انتہا پسند مذہبی صیہونیت پارٹی) اور اسرائیل بیتینو کی رکن پارلیمنٹ یولیا مالنوسکی نے مشترکہ طور پر پیش کیا۔ مجوزہ قانون کے تحت ۷؍ اکتوبر ۲۰۲۳ء کے حملے میں مبینہ طور پر ملوث سیکڑوں فلسطینی شہریوں کے لیے ایک علاحدہ عدالتی نظام قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ حملہ اسرائیلی تاریخ کی سب سے بڑی سیکوریٹی ناکامیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بل کے مطابق ایک خصوصی عدالت تشکیل دی جائے گی جس کی سربراہی ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ کورٹ جج کرے گا، اور اسے نسل کشی، ریاستی خودمختاری کے خلاف جرائم، جنگ کے دوران دشمن کی مدد اور دہشت گردی سے متعلق مقدمات میں وسیع اختیارات حاصل ہوں گے۔
اس مسودہ قانون میں سزائے موت کی شق شامل کی گئی ہے اور ساتھ ہی اپیل کے کسی بھی حق کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مزید یہ کہ اس عدالتی نظام کے تحت سزا پانے والے ملزمان کو مستقبل میں کسی بھی قیدیوں کے تبادلے یا سیاسی مذاکرات سے خارج کر دیا جائے گا۔ بل میں عدالتی کارروائی کی براہِ راست ریکارڈنگ اور مخصوص ویب سائٹ پر نشریات، نیز ریاستی آرکائیو میں مکمل ریکارڈ محفوظ کرنے کی بھی شرط رکھی گئی ہے۔ یہ بل اب پارلیمنٹ کی آئینی کمیٹی کے پاس جائے گا، جس کے بعد اسے مزید دو مباحثوں سے گزرنا ہوگا تاکہ یہ باقاعدہ قانون بن سکے۔ اسرائیلی حکام نے تاحال ۷؍ اکتوبر کے واقعات کے سلسلے میں زیرِ حراست فلسطینیوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں۔ تاہم جیلوں کے نگران انتہا پسند وزیر بین گوئیر پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ ان کے دور میں فلسطینی قیدیوں کے لیے حالات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
فلسطینی وکیل اور سابق جج سعید العویوی نے اس اقدام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’قانونی پھانسی کی طرف پیش رفت دراصل ان اقدامات کو قانونی شکل دے رہی ہے جو پہلے ہی بغیر کسی جواب دہی کے کیے جا رہے تھے۔‘‘ ان کے مطابق یہ قانون فلسطینیوں کے قانونی حقوق پر ایک اور کاری ضرب ہے۔ جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی قیدی یا زیرِ قبضہ علاقوں کے تحفظ یافتہ افراد کو سزائے موت دینا ممنوع ہے۔