• Fri, 27 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران کی فوجی صلاحیت دیکھ کر امریکہ محتاط،مذاکرات کا آغاز

Updated: February 26, 2026, 11:23 PM IST | Tehran

مشرق وسطیٰ کےماہرین نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ پہلے حملہ کرنے کا خطرہ مول نہ لے، اس کے نتائج غیر متوقع ہوسکتے ہیں،امریکہ اپنی فوج بھی نہیں اتارنا چاہتا ، اسی لئے جنیوا میںفیصلہ کن گفتگو کی جارہی ہے

Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi talking to his Omani counterpart. (Photo: Agency)
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اپنے عمانی ہم منصب سے گفتگو کرتے ہوئے۔(تصویر: ایجنسی)

گزشتہ آٹھ مہینوں میں جب سے ٹرمپ  انتظامیہ نے ایران کے جوہری مقامات پر بمباری کی، دنیا اور خصوصاً مشرق وسطیٰ کا  منظرنامہ خاصا بدل چکا ہے۔ اسی وجہ سے اب  امریکہ ایران کے خلاف اتنا طومار باندھنے کے باوجود حملہ کرنے کے معاملے میں محتاط ہوگیا ہے۔ اب تک امریکہ نے ایران کی عسکری طاقت کا جتنا اندازہ لگایا ہے اس سے واضح ہو رہا ہے کہ ٹرمپ حکومت ایران کے خلاف کھل کر جارحیت نہیں کرنا چاہتی بلکہ وہ مذاکرات کے راستے سے ہی کوئی راستہ نکالنا چاہتی ہے۔ یہی وجہ  ہے کہ جمعرات سے جنیوا میں عمان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان تیسرے دور کے مذاکرات جو فیصلہ کن  ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ ناکام ہوئے تو پھر امریکہ حملہ کرسکتا ہے۔ اس کے باوجود سوال یہی اٹھ رہا ہے کہ کیا واقعی امریکہ حملہ کرے گا ؟
  وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اغوا کرنے اور وہاں اپنی مرضی چلانے کے باوجود امریکہ ایران کے تئیں ایسی کوئی غلطی نہیں کرسکتا۔ٹرمپ تہران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں جنگی طیاروں اور جنگی بحری جہازوں کی ایک غیر معمولی تعداد تعینات کر رہے ہیں۔ ایسی فوجی نقل و حرکت جو عراق جنگ کے بعد پہلی مرتبہ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ اگر مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں تو ٹرمپ ایک بڑے حملے کی دھمکی دے رہے ہیں، حتیٰ کہ ایرانی نظام کی تبدیلی بھی ممکنہ ہدف کے طور پر زیرغور ہے۔گزشتہ سال مختلف ماہرین سے سوال کیا گیا تھا اور اب انہی ماہرین سے دوبارہ رائے لی گئی ہے کہ وہ ٹرمپ کی تازہ پیش رفت، فوجی کارروائی کے ممکنہ فوائد اور خطرات، اور گزشتہ تجربات کی روشنی میں اپنی بدلتی ہوئی آرا کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ان کی مجموعی رائے یہ ہے کہ ٹرمپ شاید اس بار ایسے خطرات مول لینے جا رہے ہیں جو نہ صرف غیرمتوقع ہوں گے بلکہ پہلے سے کہیں زیادہ تباہ کن بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ 
 یہ انتہائی غیر متوقع ہے کہ ایران امریکہ کے ان مطالبات کو تسلیم کرے گا جن میں یورینیم افزودگی پوری طرح بند کرنے  ، بیلسٹک میزائل پروگرام کا خاتمہ اور خطے میں اپنے حمایت یافتہ گروپس کی مدد روکنا شامل ہے۔ تہران ان میں کسی بھی مطالبہ کو تسلیم نہیں کرےگا  ۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ امریکی فوجی دبائو کب تک برقرار رہے گا کیوں کہ امریکی افواج کی یہ وسیع تعیناتی غیر معینہ مدت تک برقرار نہیں رکھی جا سکتی۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق اس مرتبہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو صدر ٹرمپ محدود نوعیت کی فوجی کارروائی سے ابتدا کریں گےلیکن جب یہ حکمت عملی ناکام ہوگی تو پھر بڑا حملہ کیا جاسکتا ہے

 امریکہ کو وینزویلا جیسی کارروائی کرنے کیلئے  انتہائی درست انٹیلی جنس درکار ہوںگی، جو جون میں دستیاب معلومات کے مقابلے میں اب زیادہ مشکل  ہے۔ماہرین کے مطابق اگر حملہ کیا جاتا ہے تو سب سے پہلے ایران کی میزائل صلاحیت کو جامع طور پر نشانہ بنانا ناگزیر ہوگا۔ اگر ایران کے پاس جواب دینے کی صلاحیت باقی رہی تو وہ خطے میں امریکی اڈوں، اتحادی ممالک اور اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہےلیکن ایک بات تقریباً طے ہے کہ امریکہ زمینی افواج ایران نہیں بھیجے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایرانی قیادت کو ہٹا بھی دیا جائے تو امریکہ کے پاس بعد کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوئی عملی صلاحیت نہیں ہوگی۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں غیر یقینی صورتحال سب سے زیادہ خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔یہ پیش گوئی کرنا ناممکن ہے کہ اس کے  بعد کیا ہوگا۔  امریکہ ایرانی سپریم لیڈر کواسی طرح گرفتار یا سرینڈر نہیں کروا سکتا جس طرح دیگر ممالک میں کارروائیاں کی گئیں۔ ایران ایک مضبوط ریاستی ڈھانچہ رکھتا ہے، اور اس کے پاس جوابی کارروائی کی متعدد سطحیں موجود ہیں۔ ممکن ہے کہ یہی وہ لمحہ ہو جب ایران یہ طے کر لے کہ اب اس کے نظام کی بقا واقعی خطرے میں ہے ۔ اگر تہران اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ یہ وجود کی جنگ ہے، تو اس کا ردعمل انتہائی سخت ہو سکتا ہے۔اس صورت میں خطہ ایک وسیع جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، عالمی توانائی منڈیاں متاثر ہو سکتی ہیں  اور امریکہ کو ایک طویل اور غیر متوقع بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔  دریں اثناءامریکہ اور ایران کے درمیان سوئٹزرلینڈ کے شہر جینوا میں نئے بالواسطہ مذاکرات شروع ہو رہے ہیں، جن کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور ممکنہ تصادم کو روکنا ہے۔   ایرانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، جنہوں نے ان مذاکرات کو ’تاریخی موقع‘ قرار دیا ہے۔امریکی وفد میں خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں۔ عمان اس پورے عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ اس سے قبل بھی دونوں ممالک کے درمیان عمان اور جنیوا میں بات چیت ہو چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK