Updated: June 02, 2026, 2:26 PM IST
|
Agency
| Ahmedabad
آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کے فائنل میں گجرات ٹائٹنز کیخلاف رائل چیلنجرز کی جیت میں کوہلی،راسخ سلام،بھونیشور کمار اور رجت پاٹیدار کی قائدانہ صلاحیت نے اہم رول ادا کیا۔
آر سی بی ٹیم۔ تصویر:ایکس
اتوار کو احمد آباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میںرائل چیلنجرز بنگلور اور گجرات ٹائٹنز کے درمیان کھیلے گئے فائنل مقابلے کے بعد آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کا اختتام ہوا۔ ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی آئی پی ایل نے روایت کے مطابق دنیا ئے کرکٹ کو ایسے کھلاڑیوں سے روشناس کرایا جنہیں زیادہ لوگ جانتے نہیں تھے۔ان کھلاڑیوں نے ملنے والے مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کیا اور آج یہ غیر معروف کھلاڑیوں کا نام گھر گھر پہنچ گیا ہے۔بات آئی پی ایل فائنل کی کریںتو اس میچ میں رائل چیلنجرز بنگلور مکمل طور پر گجرات ٹائٹنز پر حاوی نظر آئی۔بنگلور نے فائنل میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے گجرات کو شکست دے کر لگاتار دوسری مرتبہ آئی پی ایل کا خطاب جیت لیا۔ یوں تو بنگلو ر کی پوری ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن یہاں چند ایسے کھلاڑیوں کا تذکرہ ضروری ہے جنہوںنے رائل چیلنجرز کی جیت میں اہم رول ادا کیا۔
کوہلی کی وراٹ کارکردگی
وراٹ کوہلی نے ایک ماسٹر کلاس اننگز کھیلتے ہوئے بنگلور کو خطاب دلانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔گجرات کے خلاف فائنل میں اپنی اننگز سے انہوںنے ایک بار پھر ثابت کردیا کہ انہیں ’چیز ماسٹر‘ کیوں کہا جاتا ہے۔فائنل میں کوہلی نے فیلڈنگ کے دوران اپنے جارحانہ انداز سے ساتھی کھلاڑیوں میں جوش بھرنے کا کام بخوبی نبھایا ۔
انہوں نے میچ کے آغاز ہی میں آر سی بی کے گیند بازوں کی جانب سے گجرات ٹائٹنز کے اوپنرز شبھ من گل اور سائی سدرشن کی بڑی وکٹیں لینے پر انتہائی پُرجوش اور جوشیلے انداز میں جشن منا کر ٹیم کا حوصلہ بڑھایا۔ اس کے بعد۱۵۶؍کے ہدف کے تعاقب میں وینکٹیش ایر کے ساتھ پاور پلے میں شاندار آغازکیا۔کوہلی نے جارحانہ بلے بازی کرتے ہوئے اپنے آئی پی ایل کریئر کی تیز ترین نصف سنچری اسکور کی۔گجرات کے گیند باز راشد خان نے ایک ہی اوور میں ۲؍ وکٹیں لے کر بنگلور کو مشکل میں ڈال دیا تھالیکن وراٹ کوہلی نے پوری طرح میچ کا کنٹرول سنبھال لیا۔ وہ آخر تک کریز پر موجود رہے اور ۱۸؍ویں اوور کی آخری گیند پر لانگ آن کے اوپر سے وننگ سکسر لگا کر روایتی انداز میں میچ کا اختتام کیا۔
ڈار نے بلے بازوں کو ڈرایا
راسخ سلام ڈار نے گجرات ٹائٹنز کیخلاف فائنل میں بنگلور کیلئے ایک فیصلہ کن اور شاندار کردار ادا کیا، جس کی بدولت آر سی بی چمپئن شپ کا ٹائٹل اپنے نام کرنے میں کامیاب رہی۔زخمی یش دیال کی جگہ شامل ہونے کے بعد اس سیزن میں ایک بڑا کردار نبھانے والے جموں و کشمیر کے اس نوجوان تیز گیند باز نے ٹورنامنٹ میںایمرجنگ ہیرو بن کر دکھایا۔ فائنل میں جہاںبھونیشور کمار اور جوش ہیزل ووڈ جیسے تجربہ کار گیند بازوں نے کمان سنبھالی ہوئی تھی وہیں راسخ سلام نے گجرات کی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی۔ انہوں نے اپنے ۴؍اوور میں ۲۷؍ رن دے کر ۳؍ وکٹیں حاصل کیں۔ راسخ نے صرف تیز رفتاری پر انحصار نہیں کیا بلکہ احمد آباد کی ایسی پچ پر جہاں عام طور پر رن آسانی سے بنتے ہیں انہوں نے تیز یارکرز اور اپنے منفرد انداز کی دھیمی گیندوں کا بہترین استعمال کرتے ہوئے رنوں کی رفتار کو روک دیا۔راسخ کی حاصل کردہ تمام وکٹیں ایسے نازک موڑ پر آئیں جب گجرات ٹائٹنز میچ کا پانسہ پلٹنے اور تیزی سے رن بنانے کی کوشش کر رہی تھی ۔
راسخ سلام ڈار نے آئی پی ایل ۲۰۲۶ء کا اختتام آر سی بی کے دوسرے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیندباز (۱۲؍ میچوں میں ۱۹؍ وکٹیں) کے طور پر کیا اور وہ ٹورنامنٹ میں تمام اَن کیپڈ کھلاڑیوں میں سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند باز رہے۔
پاٹیدار کی قائدانہ صلاحیت
انڈین پریمیر لیگ ۲۰۲۶ءکے فائنل میں رجت پاٹیدار نے رائل چیلنجرز بنگلور کے کپتان اور لیڈر کے طور پر فیصلہ کن کردار ادا کیا اور ٹیم کو مسلسل دوسری بار آئی پی ایل کا خطاب دلانے میں اہم رول ادا کیا۔ گجرات کے خلاف فائنل میں ٹاس جیت کر رجت پاٹیدار نے پہلے فیلڈنگ کرنے کا ایک بڑا اور حیران کن فیصلہ کیا جس نے ماضی کے ان رجحانات کو چیلنج کیا جہاں فائنل جیسے بڑے دباؤ والے میچوں میں پہلے بلے بازی کرنے والی ٹیموں کو برتری حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے ایک اچھی پچ پر آغاز ہی میں وکٹیں لینے کیلئے اپنے بولنگ یونٹ پر بھروسہ کیا اور ان کا یہ فیصلہ بالکل درست ثابت ہوا کیونکہ بنگلور نے گجرات کو صرف۱۵۵؍کے معمولی اسکور پر روک دیا۔پاٹیدار نے گیندبازی میں تبدیلیاں بہت سوچ سمجھ کر کیں۔ انہوں نے رنوں کی رفتار کو روکنے کیلئے اپنے تیز گیند بازوںبشمول بھونیشور کمار، جوش ہیزل ووڈ، جیکب ڈفی اور راسخ سلام پر پورا بھروسہ کیا جس کے نتیجے میں پاور پلے کے اندر ہی شبھ من گل اور سائی سدرشن جیسے بڑے خطرات سے پیچھا چھڑا لیا اور گجرات کو میچ میں واپسی کا کوئی موقع نہیں ملا۔سابق کھلاڑیوں اور کمنٹیٹروں نے پاٹیدار کی پُرسکون لیکن انتہائی متحرک کپتانی کی تعریف کی اور ان کی فیصلہ لینے کی مہارت اور ٹیم کو جوڑ کر رکھنے کی صلاحیت کا موازنہ ایم ایس دھونی اور روہت شرما جیسے لیجنڈز سے کیا۔ انہوں نے بین الاقوامی کرکٹ کا بہت کم تجربہ ہونے کے باوجود، وراٹ کوہلی سمیت دنیا کے نامور سپر اسٹارز سے سجے ڈریسنگ روم کو انتہائی احترام کے ساتھ سنبھالا۔ پاٹیدار کی بہترین قیادت کی بدولت بنگلور نے فتح حاصل کر کے ٹرافی اٹھائی اور انہوں نے آئی پی ایل کی تاریخ کے صرف تیسرے ایسے کپتان کے طور پر اپنا نام درج کرایا جس نے کامیابی کے ساتھ اپنے اعزاز کا دفاع (مسلسل ۲؍ بار ٹرافی جیتنا) کیا۔ آئی پی ایل۲۰۲۶ء کے دوران پاٹیدار نے نہ صرف اپنی قائدانہ صلاحیت سے سب کو متاثر کیا بلکہ وہ مڈل اوورز میں بنگلور کے اہم ترین بلے باز ثابت ہوئے ۔ ان کھلاڑیوں کے علاوہ گیندباز بھونیشور کمار نے بھی بنگلور کی جیت میں اپنی گیندبازی سے اہم رول ادا کیا۔