Updated: June 02, 2026, 1:54 PM IST
|
Agency
| Mumbai
رائل چیلنجرز بنگلور کو نئی شناخت دینےوالے بوبات کا پس منظر روایتی کرکٹر کا نہیں ،اسپورٹس سائنس اور تعلیم کا ہے، وہ اسپورٹس ٹیچر اور لیکچرار رہ چکے ہیں۔
محمد بوبات۔ تصویر:آئی این این
انڈین پریمیر لیگ میں اکثر شہرت کھلاڑیوں اور کوچیزکے حصے میں آتی ہے لیکن ہر کامیاب ٹیم کے پیچھے کچھ ایسے دماغ بھی ہوتے ہیں جو منظر کے پیچھے رہ کر پوری مشینری کو چلاتے ہیں۔ رائل چیلنجرس بنگلور (آر سی بی) کے لئے محمد بوبات ایسا ہی ایک نام ہیں۔ انگلینڈ کرکٹ کے کامیاب انتظامی نظام سے آنے والے بوبات نے صرف کھلاڑیوں کے انتخاب میں ہی نہیں بلکہ آر سی بی کی پوری کرکٹ سوچ کو بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ برسوں میں آر سی بی کی مستقل مزاجی، بہتر منصوبہ بندی اور فتوحات کے پیچھے ان کی حکمت عملی کو بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ محمد بوبات کی پیدائش اور تعلیم و تربیت تو انگلینڈ میں ہی ہوئی لیکن ان کے والدین افریقہ سے وہاں گئے تھے جبکہ ان کے دادا گجرات سے افریقہ منتقل ہوئے تھے تو بنیادی طور پر محمد بوبات کا تعلق گجرات سے ہے۔
انگلینڈ کے ورلڈ کپ ماڈل کو آر سی بی تک لانے والے شخص
محمد بوبات نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) میں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزارا ہے۔ ان کے دور میں انگلینڈ نے ۲۰۱۹ء کا ون ڈے ورلڈ کپ اور۲۰۲۲ءکا ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ جیتا۔ انہوں نے ۲۰۱۷ء میں انگلش ٹیم کی کمان سنبھالی تھی ۔ وہ ٹیم کے حکمت عملی منیجر تھے اور کہا جاتا ہے کہ ۲۰۱۷ء سے انگلش ٹیم جس جارحانہ اور بے خوف انداز میں کھیل رہی ہے اس کی اصل وجہ محمد بوبات ہی ہیں۔ جارحانہ کرکٹ، ڈیٹا پر مبنی فیصلے اور واضح منصوبہ بندی انگلش ٹیم کی پہچان بن گئی ہے۔ یہی فلسفہ وہ آر سی بی میں بھی لے کر آئے، جہاں ٹیم نے صرف بڑے ناموں پر انحصار کرنے کے بجائے ایک متوازن اسکواڈ بنانے پر توجہ دی۔
آر سی بی کی فتوحات میں پس پردہ حکمت عملی
ماضی میںآر سی بی کی سب سے بڑی کمزوری یہ سمجھی جاتی تھی کہ ٹیم چند سپر اسٹارس کے گرد گھومتی تھی۔ لیکن محمد بوبات کی آمد کے بعد اسکواڈ کوطاقتور بنانے اور آل رائونڈ قابلیت کو نکھارنے کے ساتھ ساتھ جارحانہ کرکٹ کھیلنے پر خاص توجہ دی گئی۔ کھلاڑیوں کی نیلامی، بیک اپ آپشنز، نوجوان ٹیلنٹ کی شناخت اور مختلف حالات کے مطابق ٹیم کی تشکیل میں ان کا کردار نمایاں رہا۔بنگلور کی حالیہ کامیابیوں میں صرف وراٹ کوہلی یا رجت پاٹیدار یا دوسرے ستاروں کی کارکردگی ہی شامل نہیں تھی بلکہ اس کے پیچھے ایک منظم منصوبہ بندی بھی تھی۔ محمد بوبات نے ایسے کھلاڑیوں کو منتخب کرنے پر زور دیا جو مخصوص کردار ادا کرسکیںجس سے ٹیم کا توازن بہتر ہوا اور آر سی بی مسلسل پلے آف کی دوڑ میں مضبوط نظر آنے لگی۔
اینڈی فلاور کے ساتھ کامیاب شراکت
آر سی بی کے ہیڈ کوچ اینڈی فلاور اور محمد بوبات ایک دوسرے کے کام کرنے کے انداز سے بخوبی واقف ہیں۔ دونوں نے انگلینڈ کرکٹ میں ساتھ کام کیا اور کامیابیاں حاصل کیں۔ یہی ہم آہنگی آر سی بی میں بھی دکھائی دی جہاں کوچنگ اور انتظامی فیصلوں میں ایک واضح سمت نظر آئی۔کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ آر سی بی کی بہتر منصوبہ بندی، میچ کی تیاری اور اسکواڈ مینجمنٹ میں فلاور اور بوبات کی جوڑی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
نوجوان کھلاڑیوں پر خصوصی توجہ
مو بوبات صرف تیار ستارے خریدنے کے قائل نہیں ہیں بلکہ وہ مستقبل کے کھلاڑیوں میں سرمایہ کاری پر یقین رکھتے ہیں۔ انگلینڈ میں ان کے دور میں جو روٹ، بین اسٹوکس، جوس بٹلر اور ہیری بروک جیسے نام نکھر کر سامنے آئے۔آر سی بی میں بھی انہوں نے نوجوان ہندوستانی کھلاڑیوں کی شناخت اور انہیں مواقع دینے پر زور دیا۔ فرنچائز کی کوشش رہی کہ صرف ایک سیزن نہیں بلکہ آنے والے کئی برسوں کے لئے مضبوط بنیاد تیار کی جائے۔ یہی سوچ کسی بھی کامیاب فرنچائز کی پہچان ہوتی ہے۔
جدید کرکٹ کے پروفیسر
مو بوبات کا پس منظر روایتی کرکٹر کا نہیں بلکہ اسپورٹس سائنس اور تعلیم کا ہے۔ وہ اسپورٹس ٹیچر اور لیکچرر بھی رہ چکے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ کرکٹ کو صرف جذبات کے بجائے تحقیق، اعداد و شمار اور طویل مدتی منصوبہ بندی کے زاویے سے دیکھتے ہیں۔آج کی فرنچائز کرکٹ میں یہی انداز کامیابی کی کنجی بنتا جا رہا ہے۔ آر سی بی نے بھی اسی سوچ کے تحت انہیں اہم ذمہ داری دی ۔
آر سی بی کے خواب کی تعبیر
رائل چیلنجرس بنگلور کے مداح برسوں سے آئی پی ایل ٹرافی کا انتظار کر رہے تھے۔محمد بوبات کی آمد کو اسی خواب کی تکمیل کی ایک بڑی کوشش سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے ۲۳ء کےنہایت خراب سیزن کے بعد ٹیم کی کمان سنبھالی۔ وہ کھلاڑیوں کے ’’آکشن‘‘ میں بھی موجود رہے اور ٹیم انتظامیہ نے انہی کی حکمت عملی پر کام کرتے ہوئے ایسے کھلاڑیوں پر توجہ دی جو کرکٹ سرکٹ میں بہت معروف تو نہیں تھے لیکن جن کا کھیل بہت اچھا تھا ۔ انہی کوششوں کی وجہ سے۲۰۲۴ء میںآر سی بی بالکل نئی ٹیم بن کر ابھری جبکہ ۲۰۲۵ء میں اس نے اپنا پہلا ٹائٹل جیت کر محمد بوبات کے تجربات کو درست ثابت کردیا۔ انہوں نے ٹیم میں نظم و ضبط، طویل مدتی سوچ اور سائنسی منصوبہ بندی کو فروغ دیا ہے۔ میدان میں چھکے اور وکٹیں شائقین کو نظر آتی ہیں لیکن ان کامیابیوں کے پیچھے بیٹھے ہوئے دماغ کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ مو بوبات انہی خاموش معماروں میں شامل ہیں جنہوں نے آر سی بی کو صرف ایک اسٹار ٹیم نہیں بلکہ ایک منظم کرکٹ ادارہ بنانے کی سمت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔