مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی کےدوران امریکہ ایک بڑے معاشی بحران کا شکار ہو گی۔ امریکی خام تیل کے مجموعی ذخائر تشویشناک حد تک گر کر گزشتہ ۴۵؍ سال کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 7:16 PM IST | Washington
مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی کےدوران امریکہ ایک بڑے معاشی بحران کا شکار ہو گی۔ امریکی خام تیل کے مجموعی ذخائر تشویشناک حد تک گر کر گزشتہ ۴۵؍ سال کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں ایران سے بڑھتی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہو گئے، جو ۱۹۸۳ء کے بعد کم ترین سطح ہے۔ تفصیلات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی کےدوران امریکہ ایک بڑے معاشی بحران کا شکار ہو گی۔ امریکی خام تیل کے مجموعی ذخائر تشویشناک حد تک گر کر گزشتہ ۴۵؍ سال کی کم ترین سطح پر آ گئے ہیں، جس نے امریکی انتظامیہ کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:تھلاپتی وجے کی ’’جنا نائیگن‘‘ نے پہلے دن ہندوستان میں ۴۱؍ کروڑ روپے کی کمائی
معروف مالیاتی ادارے بینک آف امریکہ کی جاری کردہ حالیہ رپورٹ میں بتایا گیا امریکہ کے پاس موجودہ تیل کے ذخائر اب اتنے کم رہ گئے ہیں کہ وہ صرف ۴۳؍ دن کی ملکی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ تیل کے ذخائر میں اتنی بڑی کمی اس سے قبل ۱۹۸۳ء میں دیکھی گئی تھی، جس کے بعد یہ اب تک کی سب سے خطرناک ترین سطح ہے۔
رپورٹ میں کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کی وجہ سے امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو مسلسل شدید دباؤ کا شکار ہے اور خام تیل کا حجم تیزی سے کم ہو رہا ہے، اس وقت امریکہ کے پاس تجارتی خام تیل کے ذخائر صرف ۴۰۹؍ ملین بیرل رہ گئے جبکہ اسٹریٹیجک ذخائر گر کر محض ۳۱۶؍ ملین بیرل پر آ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:فولارین بالوگن کی معطلی ختم کرنے پر فیفا کے خلاف شکایت پر غور
امریکہ کے پاس کل ذخائر تقریباً ۷۳۱؍ ملین بیرل ہیں، جو گزشتہ ۴۵؍ برسوں میں سب سے کم ترین حجم ہے۔ بین الاقوامی دفاعی اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگی ماحول اور آبنائے ہرمز جیسی اہم ترین آئل سپلائی لائنز پر بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث اگر امریکہ نے اپنے اسٹریٹیجک ذخائر کو فوری طور پر بحال نہ کیا، تو عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں یکدم آسمان کو چھو سکتی ہیں، جس کا اثر براہِ راست پوری دنیا کی معیشت پر پڑے گا۔