ڈنمارک کے معروف مصنف ہینس کرسچین اینڈرسن کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی فر ٹری‘‘ The Fir Treeکا اردو ترجمہ۔
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 8:05 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai
ڈنمارک کے معروف مصنف ہینس کرسچین اینڈرسن کی شہرہ آفاق کہانی ’’دی فر ٹری‘‘ The Fir Treeکا اردو ترجمہ۔
گھنے اور خاموش جنگل کے درمیان ایک ننھا سا صنوبر کا درخت تھا۔ اس کے گرد آسمان سے باتیں کرتے قد آور درخت تھے جن کی گھنی شاخیں سورج کی تیز روشنی کو زمین تک پہنچنے سے روک دیتی تھیں۔ ہر صبح شبنم کے قطرے درختوں کے پتوں پر موتیوں کی طرح چمکتے اور شام ہوتے ہی سرد ہوا پورے جنگل میں سرگوشیاں کرنے لگتی۔ اس خوبصورت ماحول میں وہ ننھا صنوبر بھی موجود تھا، مگر وہ اپنے اردگرد کی خوبصورتی سے خوش نہیں تھا۔ اسے ہر وقت یہی احساس رہتا کہ وہ بہت چھوٹا ہے۔ جب بھی وہ لمبے اور مضبوط درختوں کو دیکھتا تو دل ہی دل میں افسوس کرتا کہ کاش وہ بھی ان جیسا بلند و بالا ہوتا۔ اسے لگتا کہ اس کی زندگی بے معنی ہے کیونکہ نہ اس کی اونچائی دوسروں جیسی ہے اور نہ ہی کوئی اس کی طرف خاص توجہ دیتا ہے۔ جنگل کے پرانے درخت اکثر ہوا کے جھونکوں کے ساتھ آہستہ آہستہ جھومتے اور یوں محسوس ہوتا جیسے وہ برسوں کی کہانیاں ایک دوسرے کو سنا رہے ہوں۔ ننھا صنوبر ان کی باتیں بڑی غور سے سنتا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ دنیا جنگل سے باہر کیسی ہے۔ اسے یقین تھا کہ اصل زندگی کہیں دور شروع ہوتی ہے، جہاں بڑے بڑے شہر ہیں، شاندار عمارتیں ہیں اور وہ حیرت انگیز چیزیں ہیں جن کے بارے میں اسے صرف پرندوں اور مسافروں سے سننے کو ملتا تھا۔ روزانہ جنگل میں لکڑہارے آتے اور سب سے اونچے اور مضبوط درختوں کو کاٹتے اور انہیں گھوڑا گاڑیوں پر لاد کر لے جاتے۔ ننھا صنوبر حیرت سے یہ منظر دیکھتا۔ وہ کئی بار پرندوں سے پوچھتا، ’’یہ درخت کہاں جاتے ہیں ؟‘‘ ایک چڑیا نے بتایا، ’’انہیں شہروں میں لے جاتے ہیں۔ وہاں ان سے بڑے بڑے جہاز بنتے ہیں جو سمندروں میں سفر کرتے ہیں۔ ‘‘
یہ سن کر صنوبر کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ ’’کتنی خوش قسمت زندگی ہوگی ان درختوں کی!‘‘ اس نے سوچا، ’’وہ دنیا دیکھتے ہوں گے، نئے نئے ملکوں میں جاتے ہوں گے، جبکہ میں یہاں اسی جگہ کھڑا رہوں گا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انمول رتن
کچھ عرصے بعد بہار آئی۔ ننھے درخت کی شاخوں پر نئی کونپلیں نکل آئیں اور اس کا قد بھی پہلے سے کچھ بڑھ گیا۔ جنگل کے جانور اسے دیکھ کر خوش ہوتے، خرگوش اس کے قریب کھیلتے اور ہرن اس کے سائے میں چند لمحے آرام کرتے۔ لیکن صنوبر کو ان باتوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ ہر وقت اپنی بڑھتی ہوئی عمر کا حساب لگاتا رہتا اور بے صبری سے اس دن کا انتظار کرتا جب وہ بھی اتنا بڑا ہو جائے گا کہ لکڑہارے اسے کاٹ کر دنیا کی سیر کیلئے لے جائیں۔ موسم پھر بدلا۔ خزاں آئی اور پھر سخت سردی نے پورے جنگل کو اپنی سفید چادر میں لپیٹ لیا۔ برف ہر شاخ پر موتیوں کی طرح جم گئی۔ انہی دنوں ایک عجیب واقعہ ہوا۔ لکڑہارے اس مرتبہ صرف تناور درخت ہی نہیں بلکہ کچھ خوبصورت اور متناسب صنوبر بھی چُن رہے تھے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ ان کے تنے نہیں کاٹتے تھے اور نہ ہی انہیں تختوں میں تبدیل کرتے تھے بلکہ پوری احتیاط سے انہیں جوں کا توں گاڑیوں پر رکھ کر لے جاتے تھے۔ ننھے صنوبر نے ایک فاختہ سے پوچھا، ’’یہ درخت کہاں جا رہے ہیں ؟‘‘
فاختہ نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، ’’انہیں گھروں میں سجایا جائے گا۔ سردیوں کے ایک خاص تہوار پر لوگ انہیں خوبصورت کھلونوں، موم بتیوں اور ستاروں سے سجاتے ہیں۔ بچے ان کے گرد خوشیاں مناتے ہیں اور ہر شخص انہیں محبت سے دیکھتا ہے۔ ‘‘
یہ سنتے ہی صنوبر کا دل زور سے دھڑکنے لگا، ’’تو دنیا میں ایسی زندگی بھی ہوتی ہے!‘‘ اس نے حیرت سے سوچا، ’’کتنا اچھا ہو اگر ایک دن میری قسمت بھی ایسی ہی ہو۔ میں بھی سجایا جاؤں، سب کی توجہ کا مرکز بنوں اور لوگ مجھے دیکھ کر خوش ہوں۔ ‘‘ اس دن کے بعد اس کی بے قراری پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی۔
اب اسے بہار اچھی لگتی نہ گرمی، نہ خزاں اور نہ ہی جنگل کی خاموش خوبصورتی۔ اس کی ایک ہی خواہش تھی۔ جلد از جلد بڑا ہونا، اور جنگل سے نکل جانا۔ وقت گزرتا رہا، اور صنوبر کا قد بڑھتا گیا۔ اب وہ پہلے جیسا ننھا پودا نہیں رہا تھا۔ اس کی شاخیں گھنی ہونے لگی تھیں، تنا مضبوط ہو گیا تھا۔ لیکن صنوبر خوش ہونے کے بجائے بےصبر ہوگیا تھا۔ اسے ہر صبح یہی محسوس ہوتا کہ وہ ابھی بھی اتنا بڑا نہیں ہوا جتنا ہونا چاہئے۔ وہ اپنی ہر نئی کونپل کو دیکھنے کے بجائے صرف اس دن کا انتظار کرتا تھا جب لکڑہارےاسے کاٹ کر لے جائیں۔
یوں ایک اور سال بیت گیا۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی جنگل میں پھر لکڑہاروں کی آوازیں گونجنے لگیں۔ برف سے ڈھکے درخت خاموشی سے کھڑے تھے اور ہر طرف کلہاڑیوں کی ٹھک ٹھک سنائی دے رہی تھی۔ اچانک چند آدمی صنوبر کے قریب آ کر رکے۔ انہوں نے اسے چاروں طرف سے غور سے دیکھا۔ ایک لکڑہارے نے اس کے تنے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا، ’’یہ بالکل مناسب ہے۔ نہ زیادہ بڑا، نہ زیادہ چھوٹا۔ شاخیں بھی متوازن ہیں۔ ‘‘ دوسرے نے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’ہاں، یہی چاہئے۔ ‘‘ یہ سنتے ہی صنوبر کے دل میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ’’آخرکار وہ دن آ ہی گیا!‘‘
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: خدا کے یہاں دیر ہے اندھیر نہیں
چند لمحوں بعد کلہاڑی اس کے تنے پر پڑی۔ ہر ضرب کے ساتھ اس کا وجود لرز اٹھتا، مگر اس کے دل میں درد سے زیادہ خوشی تھی۔ آخرکار وہ زمین پر آ گرا۔ برسوں سے جس مٹی میں اس کی جڑیں پیوست تھیں، وہ اس سے جدا ہو گئی۔ ایک لمحے کیلئے اسے عجیب سا خلا محسوس ہوا، لیکن اس نے خود کو تسلی دی۔ ’’یہی تو میں چاہتا تھا۔ ‘‘
لکڑہاروں نے اس کی شاخیں صاف کیں، اسے گاڑی پر رکھا اور گھوڑے شہر کی طرف روانہ ہو گئے۔ راستے بھر صنوبر پہلی بار جنگل سے باہر کی دنیا دیکھتا رہا۔ برف سے ڈھکے کھیت، چھوٹے چھوٹے گاؤں، دریا، پل اور دور دور تک پھیلے میدان اسے حیرت میں ڈال رہے تھے۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کا خواب حقیقت بن چکا ہے۔ شام کے وقت گاڑی ایک بڑے شہر میں داخل ہوئی۔ اسے ایک کشادہ اور خوبصورت مکان میں لے جایا گیا۔ گھر کے اندر غیر معمولی چہل پہل تھی۔ بچے خوشی سے دوڑ رہے تھے، بڑے مختلف تیاریوں میں مصروف تھے اور ہر طرف تہوار کی رونق دکھائی دے رہی تھی۔ صنوبر کو ایک بڑے کمرے کے وسط میں مضبوطی سے کھڑا کر دیا گیا۔ پھر اس کی سجاوٹ شروع ہوئی۔
اس کی شاخوں پر رنگ برنگی ربنیں باندھی گئیں۔ چمکتے ہوئے شیشے کے کھلونے لٹکائے گئے۔ سنہری اور چاندی جیسی جھالریں اس پر سجائی گئیں۔ مٹھائیاں، اخروٹ اور سیب بھی اس کی شاخوں پر ٹانگ دیئے گئے۔ سب سے اوپر ایک سنہرا ستارہ نصب کیا گیا جو دور ہی سے چمک رہا تھا۔ آخر میں اس کی شاخوں پر بے شمار ننھی موم بتیاں روشن کر دی گئیں۔ جب تمام شمعیں ایک ساتھ جلیں تو پورا کمرہ روشنی سے بھر گیا۔ صنوبر حیرت سے خود کو دیکھنے لگا۔ ’’یہی وہ زندگی ہے جس کا میں خواب دیکھتا تھا!‘‘ اس نے خوشی سے سوچا۔
’’اب یقیناً سب لوگ میری تعریف کریں گے۔ ‘‘ اسی وقت دروازہ کھلا۔ بچوں کا ایک غول خوشی سے چلاتا ہوا اندر داخل ہوا۔ وہ تالیاں بجاتے، ہنستے اور صنوبر کے گرد ناچنے لگے۔ ان کی آنکھوں میں حیرت تھی اور چہروں پر بے ساختہ خوشی۔ صنوبر کو لگا جیسے اس کی تمام خواہشیں پوری ہو گئی ہوں۔ صنوبر اپنے وجود پر سجی ہوئی رنگ برنگی آرائش کو دیکھ کر خوشی سے جھوم اٹھتا۔ اسے محسوس ہو رہا تھا کہ آخرکار اس کی زندگی کا مقصد پورا ہو گیا ہے۔ وہی لمحہ جس کیلئے وہ برسوں جنگل میں بے صبری سے انتظار کرتا رہا تھا، اب اس کے سامنے تھا۔ بچوں نے اس کے گرد ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر گیت گائے۔ پھر ایک ایک کر کے اس کی شاخوں پر لٹکی ہوئی مٹھائیاں، اخروٹ اور رنگین کھلونے اتارنے لگے۔ ان کی معصوم خوشی دیکھ کر گھر کے بڑے بھی مسکرا رہے تھے۔ صنوبر کو یہ سب اچھا لگ رہا تھا۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ وہ واقعی اس محفل کی جان بن گیا ہے۔ جب کھیل ختم ہوا تو بچوں میں سے ایک نے کہا، ’’اب کہانی سنائی جائے!‘‘
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: صحرا کےتین خواب
سب بچے فوراً خاموش ہو کر بیٹھ گئے۔
گھر کے بزرگ نے ایک آرام دہ کرسی سنبھالی اور کہانی سنانا شروع کی۔ بچے پوری توجہ سے سن رہے تھے۔ کبھی وہ حیرت سے آنکھیں پھیلا لیتے، کبھی ہنس پڑتے اور کبھی کسی غمگین منظر پر خاموش ہو جاتے۔ صنوبر بھی پوری دلچسپی سے کہانی سننے لگا۔ اس نے سوچا، ’’کتنی خوبصورت بات ہے! شاید اب ہر رات یہی محفل سجے گی۔ بچے آئیں گے، مجھے دیکھیں گے، میرے گرد کھیلیں گے اور نئی نئی کہانیاں سنیں گے۔ میری زندگی تو اب پہلے سے بھی زیادہ خوبصورت ہونے والی ہے۔ ‘‘
اسی امید میں اس نے پوری رات گزار دی۔ اگلی صبح سورج کی روشنی کھڑکیوں سے اندر آئی تو صنوبر نے بے تابی سے انتظار کیا کہ بچے دوبارہ آئیں گے اور اس کے گرد خوشیاں منائیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ گھر کے ملازم آئے اور اس کی شاخوں سے بچ جانے والی سجاوٹ اتارنے لگے۔ صنوبر حیرت سے یہ سب دیکھتا رہا۔
’’یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ اس نے دل ہی دل میں سوچا۔ ’’شاید یہ لوگ مجھے کسی اور، اس سے بھی بڑی محفل میں لے جا رہے ہوں۔ ‘‘ مگر ایسا نہیں تھا۔ چند آدمیوں نے اسے اٹھایا اور سیڑھیاں چڑھتے ہوئے گھر کی بالائی منزل تک لے گئے۔ وہاں ایک تاریک اور گرد آلود کوٹھری تھی جہاں پرانی کرسیاں، ٹوٹے ہوئے صندوق، بے کار برتن اور دوسری ناکارہ چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے صنوبر کو ایک کونے میں کھڑا کیا اور دروازہ بند کر کے چلے گئے۔ کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
صرف ایک چھوٹی سی کھڑکی سے دھندلی روشنی اندر آ رہی تھی۔ صنوبر کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ کل تک جو درخت پورے گھر کی زینت تھا، آج اسے ایک بھولی بسری چیز کی طرح اس اندھیری کوٹھری میں چھوڑ دیا گیا ہے۔ پہلے دن وہ خود کو تسلی دیتا رہا۔ ’’شاید یہ عارضی بات ہو۔ شاید اگلے تہوار پر مجھے پھر نیچے لے جایا جائے۔ ‘‘ مگر دن گزرتے گئے۔ کوئی نہ آیا۔
کوٹھری میں صرف چوہوں کی آہٹ سنائی دیتی اور کبھی کبھار کوئی مکڑی اپنی باریک جالیاں بنتی دکھائی دیتی۔ تنہائی میں کھڑے کھڑے صنوبر پہلی بار اپنے ماضی کے بارے میں سوچنے لگا۔ اسے جنگل یاد آیا۔ وہ ٹھنڈی ہوائیں، پرندوں کی چہچہاہٹ، صبح کی شبنم، ہرنوں کے قدموں کی چاپ، خرگوشوں کی دوڑ اور وہ بوڑھے درخت، جو اسے صبر کا درس دیتے تھے۔ اب اسے احساس ہوا کہ جس زندگی کو وہ معمولی سمجھتا تھا، دراصل وہی اس کی سب سے بڑی نعمت تھی۔ وہ لمحے جنہیں وہ جلدی جلدی گزار دینا چاہتا تھا، حقیقت میں اس کی زندگی کے سب سے خوبصورت دن تھے۔ اس نے اپنے آپ سے کہا، ’’کاش!میں اس وقت خوش رہنا سیکھ لیتا جب میرے پاس خوش ہونے کی بے شمار وجوہات موجود تھیں۔ ‘‘
لیکن وقت کبھی نہیں لوٹتا۔ کوٹھری میں دن، ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدلنے لگے۔ صنوبر خاموشی سے ایک کونے میں کھڑا رہتا۔ کبھی کھڑکی سے آنے والی ہلکی سی دھوپ اس کی سوکھی ہوئی شاخوں پر پڑتی اور کبھی سرد ہوا کا جھونکا گرد کے ذروں کو اڑا دیتا۔ اب اس کی ہری سوئیاں آہستہ آہستہ جھڑنے لگی تھیں اور وہ پہلے جیسا تازہ اور خوشنما نہیں رہا تھا۔ اس کی تنہائی کو صرف چوہوں کی آمد و رفت توڑتی تھی۔ رات میں دو چھوٹے چوہے اپنے بل سے نکلتے اور اس کے قریب آ بیٹھتے۔ ’’دادا درخت!‘‘ وہ کہتے، ’’ہمیں کوئی کہانی سناؤ۔ ‘‘ پہلے پہل صنوبر خاموش رہتا مگر پھر اسے احساس ہوا کہ شاید اپنی یادیں سنانا ہی اس کی آخری خوشی ہے۔ وہ انہیں جنگل کے قصے سناتا۔ وہ بتاتا کہ صبح کے وقت سورج کی پہلی کرن کس طرح اس کے پتوں پر پڑتی تھی، پرندے کس طرح اس کی شاخوں پر گھونسلے بناتے تھے، ہرن اس کے پاس سے گزرتے تھے اور ٹھنڈی ہوا کس طرح پورے جنگل میں خوشبو بکھیرتی تھی۔ وہ بچوں کی اس محفل کا بھی ذکر کرتا جہاں وہ روشنیوں اور ستاروں سے سجا کھڑا تھا۔
چوہے حیرت سے سنتے رہتے۔
یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: سخی درخت
’’کتنی خوبصورت زندگی تھی تمہاری!‘‘ وہ کہتے۔
صنوبر جواب دیتا، ’’ہاں ! لیکن مجھے اس وقت اس کی قدر نہیں تھی۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے اس کے دل میں ایک کسک اٹھتی۔ اب اسے سمجھ آ چکا تھا کہ خوشی ہمیشہ کسی آنے والے کل میں نہیں ہوتی۔ اکثر وہ انہی لمحوں میں موجود ہوتی ہے جنہیں انسان معمولی سمجھ کر گزر جانے دیتا ہے۔ یوں ہی کئی مہینے گزر گئے۔
ایک دن کوٹھری کا دروازہ کھلا۔ چند نوکر اندر آئے۔ انہوں نے ادھر اُدھر پڑا پرانا سامان اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ پھر ان کی نظر صنوبر پر پڑی۔
’’یہ اب کسی کام کا نہیں رہا، ‘‘ ایک نے بے پروائی سے کہا۔ دوسرے نے سر ہلایا۔
’’اسے باہر لے چلو۔ ‘‘ کچھ ہی لمحوں بعد صنوبر کو گھسیٹتے ہوئے گھر کے پچھلے صحن میں لے جایا گیا۔ وہاں لکڑیوں کا ایک ڈھیر لگا ہوا تھا۔ اسے انہی لکڑیوں کے اوپر پھینک دیا گیا۔ صنوبر نے آخری بار آسمان کی طرف دیکھا۔ بہار آ چکی تھی۔ ہوا میں تازہ پھولوں کی خوشبو تھی۔ درختوں پر نئی کونپلیں نکل رہی تھیں۔ نگاہ دوڑاتے ہوئے اسے ایک لمحے کیلئے اپنے پرانے جنگل کی یاد آئی۔ وہ چاہتا تھا کہ ایک بار پھر ٹھنڈی ہوا اس کی شاخوں کو ہلائے، کوئی چڑیا آ کر اس پر بیٹھے یا کوئی ہرن اس کے سائے میں آرام کرے۔
لیکن اب یہ سب صرف یادیں تھیں۔ چند ہی دیر بعد ایک نوکر نے آگ جلائی۔ شعلے آہستہ آہستہ لکڑیوں کو اپنی لپیٹ میں لینے لگے۔ صنوبر بھی جلنے لگا۔ آگ کی لپٹیں بلند ہوتی گئیں۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کی پوری زندگی ایک ایک کر کے اس کی آنکھوں کے سامنے گزر رہی ہو۔
جنگل...پرندے...شبنم...بوڑھے درخت... بچوں کی ہنسی...روشن موم بتیاں ... اور پھر وہ تاریک کوٹھری...سب کچھ دھوئیں کی طرح فضا میں تحلیل ہونے لگا۔ چند لمحوں بعد اس کا وجود راکھ میں بدل چکا تھا۔ ہوا کا ایک جھونکا آیا اور اس راکھ کو آہستہ آہستہ بکھیر کر اپنے ساتھ لے گیا۔ گھر کے اندر زندگی معمول کے مطابق چلتی رہی۔ بچے نئے کھیلوں میں مصروف ہو گئے۔ تہوار کی خوشیاں بھی یادوں کا حصہ بن گئیں۔ کسی کو شاید یہ بھی یاد نہ رہا کہ چند ماہ پہلے یہی صنوبر پورے گھر کی رونق تھا۔