Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ-ایران جنگ کے باعث چین مہنگائی کی لپیٹ میں آ سکتا ہے: رپورٹ

Updated: March 22, 2026, 10:02 AM IST | Beijing

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے چین ڈیفلیشن (کساد بازاری جیسی صورتحال) سے تو نکل سکتا ہے، لیکن وہ ’لاگت پر مبنی مہنگائی‘ کی ایک خطرناک حالت میں داخل ہو سکتا ہے۔

China Market.Photo:INN
چین کا مارکیٹ۔ تصویر:آئی این این

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے چین ڈیفلیشن (کساد بازاری جیسی صورتحال) سے تو نکل سکتا ہے، لیکن وہ ’لاگت پر مبنی مہنگائی‘ کی ایک خطرناک حالت میں داخل ہو سکتا ہے۔ یورپ میں قائم ماڈرن ڈپلومیسی کی ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں اضافے سے چین میں پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے  جبکہ اندرونی طلب اب بھی کمزور ہے۔ اس صورتحال میں کمپنیاں قیمتوں میں زیادہ اضافہ نہیں کر پا رہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ توانائی اور خام مال کی بڑھتی ہوئی لاگت کمپنیوں کے منافع کو مزید کم کرے گی۔ کمپنیاں ان اضافی اخراجات کو صارفین پر منتقل کرنے کے بجائے خود برداشت کریں گی، جس سے تنخواہوں اور نئی بھرتیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔چین کا مینوفیکچرنگ سیکٹر پہلے ہی کم منافع پر کام کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً ایک چوتھائی کمپنیاں خسارے میں ہیں، جس کی وجہ زیادہ پیداواری صلاحیت اور سخت مقابلہ ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لوگوں کی آمدنی میں اضافہ سست ہو گیا ہے اور نصف سے زیادہ ملازمین کو گزشتہ سال تنخواہ میں اضافہ نہیں ملا۔ کچھ کو تو تنخواہ میں کٹوتی کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ نوجوانوں میں بے روزگاری بھی زیادہ ہے اور کئی افراد سیکڑوں درخواستیں دینے کے باوجود ملازمت حاصل نہیں کر پا رہے۔ تنخواہوں کے جمود کی وجہ سے لوگوں کے اخراجات بھی کم ہو رہے ہیں، جس سے چین میں طلب کمزور رہتی ہے اور کمپنیوں کے لیے ترقی کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:امریکی محکمہ انصاف کا ہارورڈ پر مقدمہ، سام دشمنی کا الزام


چین کی معیشت بڑی حد تک برآمدات پر منحصر رہی ہے، لیکن توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث عالمی طلب میں کمی سے برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اگر تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھتی ہیں تو اس کا اثر چین کی جی ڈی پی کی شرح نمو پر بھی پڑے گا اور اس میں کمی آ سکتی ہے۔ تاہم، الیکٹرک گاڑیوں اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کی وجہ سے چین کو کچھ مسابقتی فائدہ مل سکتا ہے، لیکن عالمی طلب میں کمزوری ان فوائد کو کم کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:امریکہ روس کو تمام توانائی کے بازاروں سے باہر نکالنے کی کوشش کر رہا ہے: لاوروف


مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث توانائی کی فراہمی اور تجارتی راستوں میں رکاوٹ بھی چین کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے،’’اگر یہ توانائی کا بحران طویل عرصے تک جاری رہا تو چین ایسی صورتحال میں پھنس سکتا ہے جہاں نہ مکمل ڈیفلیشن ہوگا اور نہ ہی صحت مند مہنگائی، بلکہ سست رفتار ترقی اور بڑھتی ہوئی لاگت کا ایک طویل دور دیکھنے کو مل سکتا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK