ہندوستان پر گیہوں کی برآمدات سے پابندی ہٹانے کا امریکی دباؤ

Updated: May 23, 2022, 1:52 PM IST | Agency | New Delhi

ان ممالک کی تجاویز پر ہندوستان زیادہ ہمدردی سے غور کر رہا ہے جنہیں غذائی تحفظ کیلئے گندم کی ضرورت ہے

India has indicated that it will continue to export wheat under certain circumstances.Picture:INN
ہندوستان نے مخصوص حالات میںگیہوں کی برآمدات جاری رکھنے کا ا شارہ دیا ہے ۔ تصویر: آئی این این

گندم کی برآمدات کے حوالے سے ہندوستان پر بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یورپی ممالک کے بعد اب امریکہ نے بھی ہندوستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ ہندوستان کے موقف سے واضح ہے کہ وہ گندم کی برآمد کے معاملے میں سفارتی مفادات کا خیال رکھے گا۔ جن ممالک اور علاقوں کو گیہوں سپلائی کیاجائے گا ان کا فیصلہ عالمی نظام میں ان کی پوزیشن کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس وقت یوکرین روس جنگ کی وجہ سے کئی بڑے ممالک میں گیہوں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ ایسے میں دنیا کے دوسرے سب سے بڑے پروڈیوسر ہندوستان کو اہم سپلائر کے طور پر دیکھا جا رہا تھا لیکن ہندوستان نے صرف کچھ خاص معاملات میں برآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نجی شعبے کی برآمدات پر پابندی لگا دی گئی ہے جس سے بین الاقوامی منڈی میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انڈونیشیا، ترکی، مصر جیسے بڑے ممالک کے تاجر پوری دنیا میں جہاں کہیں سے گندم خرید رہے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ دو طرفہ بات چیت میں کئی ممالک کے  لیڈروں نے آنے والے دنوں میں گندم کے عالمی بحران کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ گزشتہ دنوں اقوام متحدہ میں امریکی نمائندہ لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کہا تھا کہ `ہمیں ہندوستان سے گندم کی برآمدات پر پابندی کی اطلاع ملی ہے۔ ہم ہر ملک سے اپیل کریں گے کہ وہ ایسا قدم نہ اٹھائے۔ اس سے عالمی سطح پر بحران بڑھے گا۔
برآمدمکمل طور پر نہیں روکی گئی
  اس دوران   حکومت ہند کی جانب سے ایک وضاحت سامنے آئی ہے کہ گندم کی برآمد کو مکمل طور پر روکا نہیں گیا بلکہ اسے محدود کیا گیا ہے۔  برآمدات کا فیصلہ حکومتی سطح پر ہو گا۔ حکومتی ذرائع نے بتایا ہے کہ عالمی منڈی میں ہر ملک ایسا کرتا ہے۔ انڈونیشیا سے گندم کے بدلے پام آئل کی ڈیل کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندوستان ان ممالک کی تجاویز پر زیادہ ہمدردی سے غور کرے گا جنہیں غذائی تحفظ کے لیے گندم کی ضرورت ہے۔
 واضح رہےکہ جی ۷؍ ممالک نے گیہوںکی برآمد پر پابندی کے ہندوستان کے فیصلے کی مذمت کی ہےا ور اس پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔دوسری جانب ذرائع اور تفصیلات بتاتی ہیںکہ ہندوستان عالمی سطح  پرغذائی تحفظ کا ایک نہیںبلکہ دوبڑے پروگرام چلا رہا ہےاورملکی سطح پر پردھان منتری غریب کلیان ا نّ یوجنا کے تحت ۸۰۰؍ ملین افراد کو مفت اناج تقسیم کررہا ہےاوریہ آبادی جی ۷؍ ممالک کی مجموعی آبادی سے زیادہ  ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK