’’امریکہ چینی سائنسدانوں کو گرفتار اور طلبہ کو ہراساں کرنا بند کرے‘‘

Updated: August 05, 2020, 10:46 AM IST | Agency | Beijing

چینی وزارت خارجہ نے الزام لگایا کہ امریکہ میں چینی طلبہ اور ریسرچ اسکالروں کی سخت نگرانی کی جا رہی ہے

China Foreign Minister Spokesperson
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژائو لی ژیان

 چین  اور امریکہ کے درمیان جاری چپقلش اور الزام تراشی کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔ اب چینی وزارت خارجہ نے وہائٹ ہاؤس انتظامیہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ امریکہ چینی سائنس دانوں، محققین اور طلبہ کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بند کرے۔‘‘
 ایک نیوز ایجنسی کے مطابق چين کی وزارت خارجہ کی جانب سے  بیان جاری کرکے  الزام عائد کيا گیا ہے کہ امريکہ ميں چينی طلبہ اور محققين کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے اور انہيں مسلسل ہراساں کيا جا رہا ہے جبکہ ۳؍ محققین کو غیر قانونی طور پر حراست میں بھی رکھا گیا ہے۔
 چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان ژائو لی ژیان نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ رياست کيلي فورنيا ميں ايک چينی نژاد محقق يوآن ٹينگ کی ضمانت پر رہائی کی درحواست کو بھی حال ہی ميں مسترد کر دیا گیا ہے جس سے امریکہ کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ چین اپنے طلبہ اور محققین کی زندگیوں کی حفاظت کے لئے ہر ضروری قدم اُٹھائے گا۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور ریسرچ کی غرض سے امریکہ میں مقیم چینی شہریوں کو ہراساں کرنے کا عمل بند کیا جائے اور تمام گرفتارشدگان کو فوری طور پر رہا کیا جائے ورنہ چینی حکومت اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے کوئی بھی قدم اُٹھانے کے لئے آزاد ہوگی۔
   واضح رہے کہ چین اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے دوران دونوں ممالک نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف  مسلسل الزام تراشی کر رہے ہیں بلکہ  ایک دوسرے کے خلاف اقدامات بھی کر رہے ہیں۔ حال ہی میں دونوں اپنے اپنے ملک  میں ایک دوسرے کا قونصل خانہ بند کروا چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK