اُترپردیش کا پہلا ڈٹینشن سینٹرجلد شروع ہوسکتا ہے،ریاستی حکومت نےمرکز کو خط لکھا

Updated: September 18, 2020, 8:43 AM IST | Jeelani Khan Aleeg | Lucknow

غازی آباد میں سینٹر تیار ، اجازت کا انتظار،مایا وتی برہم، کہا:ایس سی اور ایس ٹی طلبہ کےہاسٹل کو ڈٹینشن سینٹر میں تبدیل کردیناسرکار کی دلت مخالف پالیسی کا واضح ثبوت

Yogi Adityanath - Pic : INN
یوگی آدتیہ ناتھ ۔ تصویر : آئی این این

اتر پردیش کا پہلا ڈٹینشن سینٹر اب پوری طرح تیار ہے۔ ریاستی حکومت نے مرکزی وزارت داخلہ کو اس تعلق سے ایک خط بھیجا ہے جس میں اس سینٹر کو شروع کرنے کی اجازت طلب کی گئی ہے۔ جیسے ہی مرکزی حکومت سےاجازت مل جائے گی اس میںان ’غیر ملکیوں‘ کو رکھا جائے گا، جنہیں واپس ان  کے وطن بھیجنا ہوگا۔ حالانکہ، بی ایس پی سپریمو مایاوتی نے اس سینٹر کے قیام پر سخت برہمی کا  اظہار کرتے ہوئے اسے واپس طلبہ کے ہاسٹل کے طور پر برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔
 قومی راجدھانی نئی دہلی سےمتصل غازی آباد واقع ایس سی؍ ایس ٹی امبیڈکر ہاسٹل کو یوگی سرکار نے ڈٹینشن سینٹر کے طور پر تبدیل کیا  ہے۔اس میں ضروری تبدیلیاں کی گئی ہیں اور ریاستی حکومت کے دعوے کے مطابق یہ مکمل طور پر ’مکینوں‘کیلئے تیار ہے۔ محکمہ سماجی فلاح وبہبودنے اسے تیار کیا ہے۔حکومت کے منصوبے کے مطابق، اس سینٹر میں ان ’غیر ملکیوں‘ کو رکھا جائے گا جوریاست کی جیلوں میں بند ہیں اور رہائی ملنے پر واپس وطن بھیجنے میں ضروری کارروائیوں میں تاخیر کے دوران یہاں قیام کریں گے۔اس سینٹر میں وہ ’غیر ملکی‘ بھی ہوں گےجو ہندوستانی شہریت ثابت کرنے میں ناکام ہوں گے اور انہیں ’ان کے وطن‘ واپس بھیجنا ہوگا۔
 محکمہ سماجی فلاح وبہبودکے ذرائع کے مطابق،یہ سینٹر ایسے تقریباً ۱۰۰؍افراد کا قیام گاہ ہوسکتا ہے، جو اوپن جیل کی طرح ہوگا۔ اس میں تمام ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں گی  تاہم یہ ایک جیل کی طرح ہی ہوگا، جہاں رہنے والوں کیلئے چند شرائط، ہدایات ، اصول و ضوابط بھی ہوں گے۔
 خیال رہے کہ غازی آباد کے نند گرام میں واقع یہ سینٹر درا صل وہی دو ایس اسی ؍ایس ٹی امبیڈکر طلبا ہاسٹل ہیں جوبی ایس پی کے دور حکومت میں تعمیرکئے گئے تھے مگر یہ ایک لمبے عرصہ سے بند پڑے ہیں۔پارلیمانی انتخابات ۲۰۱۹ءکے بعد ہی سے بی جے پی کے تئیں نرم رخ رکھنے والی بی ایس پی سپریمو مایاوتی کو ان ہاسٹلوں کوڈٹینشن سینٹر کے طور پر تبدیل کرنا پسند نہیں آرہا ہے۔انہیں ڈٹینشن سینٹر کے قیام سے کوئی قباحت نہیں اور انہیں بی جے پی کی مسلم مخالف پالیسی پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے بلکہ یہ ایس سی، ایس ٹی طلبہ کیلئے بنائے گئے ہاسٹلوں کوڈٹینشن سینٹر میں تبدیل کردیا گیا ہے، اسلئے انہیں غصہ آرہا ہے۔انہوں نے یوگی حکومت پر اس کیلئے سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس کی دلت مخالف پالیسی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسے واپس ہاسٹل بنایا جائے تاکہ دلت طلبہ اس میں رہ سکیں۔
 دراصل، شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی معاملے میں مودی حکومت کے رخ کے بعد سے ملک کی کئی ریاستوں میں ڈٹینشن سینٹر قائم کرنے کی ہدایت مرکزکے ذریعہ دی گئی تھی۔آسام میں سب سے زیادہ چھ ایسے سینٹر آپریشنل بھی ہیں جہاں بڑی تعداد میں ’غیر ملکیوں‘ کو رکھا جارہا ہے۔حال ہی میں کرناٹک اور گوامیں بھی ایسے سینٹر بنائے جانے کی خبریں میڈیا میں گشت کررہی تھیں۔مانا جارہا ہے کہ ان تمام سینٹروں میں ان مسلمانوں کو رکھا جائے گا جنہیں ریاستی اور مرکزی حکومتیں ہندوستانی نہیں مانتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK