Inquilab Logo Happiest Places to Work

وسئی: ۴؍منزلہ غیرقانونی عمارت کا حصہ منہدم ،۱۷؍افراد ہلاک

Updated: August 28, 2025, 11:22 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

۹؍افراد کوبچالیاگیا۔بلڈرگرفتار۔ راستہ تنگ ہونے سے فائربریگیڈ کوجائے حادثہ تک پہنچنے میں تاخیر ہوئی۔ عمارت کمزور ہونے کی علامتیں ظاہر نہیں ہوئی تھیں: بچ جانے والوں کا دعویٰ

The view after the rear part of Ramabai Apartment collapsed.
رمابائی اپارٹمنٹ کا عقب کا حصہ منہدم ہونے کے بعدکا منظر

یہاں مشرقی جانب سوامی سمرتھ نگر میں واقع غیر قانونی ۴؍ منزلہ رما بائی اپارٹمنٹ کا پچھلا حصہ منگل کی شب ۱۲؍ بجے اچانک منہدم ہوگیا جس کی وجہ سے اب تک ۱۷؍ افراد کی موت ہوچکی ہے۔ اس عمارت تک پہنچنے کا راستہ انتہائی تنگ ہونے کی وجہ سے فائر بریگیڈ کو پہنچنے میں تاخیر ہوئی جس کی وجہ سے راحت کاری دیر سے شروع ہوئی ۔ اسی وجہ سے جانی نقصان بڑھ گیا۔ اگرچہ اس عمارت کا حصہ متصل وجے نگر چال پر گرا تھا لیکن وہ پہلے سے خالی تھی۔
 جس وقت حادثہ پیش آیا اس وقت اُتکرشا نامی ایک بچی کی پہلی سالگرہ منائی جارہی تھی۔ اس حادثہ میں اتکرشا اور اس کی ۲۴؍ سالہ والدہ آروہی جوویل کاانتقال ہوگیا جبکہ اس کے والد اومکار کے ملبہ میں دبے ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ’نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس(این ڈی آر ایف)، فائر بریگیڈ اور پولیس راحت کاری میں مصروف ہے۔ البتہ خبر لکھے جانے تک مہلوکین کی تعداد ۱۷؍ ہوچکی تھی جبکہ ۹؍ دیگر افراد کو ملبہ سے زندہ نکالنے میں کامیابی حاصل کی گئی تھی لیکن ان میں اومکار جوویل شامل نہیں تھا۔
 حادثہ میں زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ بچی کی سالگرہ منائی جارہی تھی اس لئے ناچ گانا چل رہا تھا۔ رات کو تقریباً ۱۲؍ بج کر ۵؍ منٹ پر اچانک عمارت تاش کے پتوں کی طرح گر گئی جس کی وجہ سے جشن ماتم میں تبدیل ہوگیا۔ خوشی کا شور خوفناک چیخوں میں بدل گیا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ عمارت منہدم ہونے سے قبل اس میں دراڑیں پڑنے جیسی علامتیں ظاہر نہیں ہوئی تھیں اس لئے لوگ بے فکر تھے۔
 میونسپل کارپوریشن کی شکایت پر مقامی پولیس نے بدھ کو نیتّل سانے  نامی ۴۷؍بلڈر کو غیرارادی قتل کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ اس بلڈر پر الزام ہے کہ اس نے ۲۰۱۲ء میں غیرقانونی طور پر یہ عمارت تعمیر کی تھی لیکن محض ۱۳؍ برس   ہی میں ’وسئی ویرار میونسپل کارپوریشن(وی وی ایم سی) نے اسے رہنے کیلئے خطرناک قراردے دیا تھا۔ کچھ عرصہ قبل اس کی سیڑھیوں کا کچھ حصہ منہدم ہوگیا تھا، اس کے باوجود لوگ اس میں رہائش پذیر تھے۔ اس عمارت میں ۵۰؍ فلیٹ تھے جن میں سے ۱۲؍ فلیٹ اس حصہ میں واقع تھے جو اچانک منہدم ہوگیا۔
  این ڈی آر ایف کے سربراہ وویکانند کدم کے مطابق ملبہ ہٹانے کا کام تقریباً مکمل ہوچکا ہے تاہم بچے ہوئے حصہ میں کوئی دبا ہوا نہ ہو اس لئے راحت کاری مزید چند گھنٹوں تک جاری رکھی جائے گی۔
 مقامی ذرائع کے مطابق جابجا تعمیرات وغیرہ کی وجہ سے جائے حادثہ تک پہنچنے کا راستہ اتنا تنگ تھا کہ فائر بریگیڈ اور دیگر بڑی گاڑیوں کا وہاں پہنچنا دشوار ہوگیا تھا نتیجتاً   راستہ بنانے میں تاخیر ہوگئی۔ بہر حال بعد میں ملبہ ہٹانے کیلئے بڑی مشینیں بھی استعمال کی گئیں۔رات کے وقت بجلی منقطع ہوجانے سے بھی راحت کاری میں اڑچن پیدا ہوئی تھی۔ 
 حادثہ سے دوچارعمارت سے متصل عمارتوں کو خالی کرواکر مکینوں کو چندن سر سماج مندر میں منتقل کیا گیا ہے جہاں میونسپل اہلکار انہیں کھانا ، پانی اور طبی امداد فراہم کر رہے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK