سفید پوشوں کو بچانے کیلئے وکاس کو قتل کردیاگیا ، عدالتی جانچ ضروری

Updated: July 12, 2020, 11:35 AM IST | Jeelani Khan Aleeg | Lucknow

میرٹھ کےسماجوادی لیڈر ابھشیک سوم کی ہائی کورٹ میں پٹیشن، نوتن ٹھاکر نے حقوق انسانی کمیشن کا دروازہ کھٹکھٹایا، پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کیا

Vikas Dubey - Pic : INN
وکاس دبے ۔ تصویر : آئی این این

وکاس دوبے کے انکائونٹر پر سوالوں کا جو سلسلہ چل پڑا ہے وہ اب عدالتوں تک پہنچ گیا ہے۔الہٰ آباد ہائی کورٹ میں بھی اس تعلق سے ایک عرضی داخل کی گئی ہے جس میں انکائونٹر اور پولیس کی پوری کہانی کو من گھڑت اور فرضی بتاتے ہوئے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
  یہ عرضی میرٹھ سے تعلق رکھنے والے سماجوادی لیڈر ابھشیک سوم نے دائر کی ہے۔ تاہم، تادم تحریر یہ صاف نہیں ہوپایا ہے کہ عدالت عالیہ نے اسےمنظور کیا ہے یا مسترد کر دیا  ہے اور اس پر سماعت کرے گی یا نہیں۔ادھر، نیشنل آر ٹی آئی فورم کی سرپرست  اور سماجی کارکن نوتن ٹھاکرپہلے ہی قومی انسانی حقوق کمیشن سے رجوع ہوکر اس پورےمعاملےمیں ریاستی پولیس کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے   تحقیقات کی مانگ کر  چکی ہیں۔علاوہ ازیں، وکیل گھنشیام اپادھیائے بھی سپریم کورٹ میں عرضی دائر کرچکے ہیں تاہم انہوں نے یہ پٹیشن وکاس کےانکائونٹرسے پہلے ہی یہ خدشہ ظاہر کرتے ہوئے داخل کیا تھا۔   
 سماجوادی پارٹی کے لیڈر ابھشیک سوم نے الہٰ آباد ہائی کورٹ میں جو عرضی داخل کی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ وکاس کا انکائونٹر مکمل طور پر فرضی ہے، اسے ایک سوچی سمجھی سازش اور منصوبہ کے مطابق مارا گیا ہے۔سوم کے مطابق، وکاس ان پولیس افسران اور سفید پوش لیڈروں کے نام اجاگر کرسکتا تھا، جن کی پشت پناہی اسے حاصل تھی۔ان میں برسرا قتدار جماعت کے کئی اہم چہرے بھی ہوسکتے تھے، اس لئے اسے انکائونٹر کے نام پر مار ڈالا گیا تاکہ ان لوگوں کی کرتوت بے نقاب نہ ہوسکے۔انہوں نے اپنی عرضی میں عدالت سے اپیل کی ہے کہ وہ معاملے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے۔سوم نےکہا ہے کہ وکاس کو یوپی پولیس اور ریاستی حکومت پر بھروسہ نہیں تھا اس لئے اس نے مدھیہ پردیش کے اجین میں ڈرامائی انداز  میںخودکو گرفتار کرایا تھاتاہم وہاں کی پولیس نے اسے یوپی ایس ٹی ایف کے حوالے کردیا، جو اس کے انکائونٹر کا منصوبہ پہلے ہی بنا چکی تھی۔ایس پی لیڈرکا کہنا ہے کہ پورے معاملے کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہئے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ اس کے مددگار کون تھے ۔ان کا کہنا ہے کہ اقتدار میں ایسے لوگ بھی ہوسکتے ہیں جو ان کی مدد کر رہے تھے اورجن کےکہنے پر اس نے ہتھیار ڈالے تھے۔ سوم نے اس کیلئے  غیر جانبدارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
 ادھر، اپنی شکایت میں سماجی کارکن نوتن ٹھاکر نے بھی اس انکائونٹر اور پولیس کے طریق کارپر سوال اٹھاتے ہوئےکہا ہے کہ اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے۔ان کے مطابق، یہ انکائونٹر غیر قانونی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ وکاس دوبے ایک خونخوار مجرم تھا،اس نے گھنائونے جرائم کئے اور اسے سخت سے سخت سزا ملنی چاہئے تھی مگر یہ سزا عدالت دیتی نا کہ پولیس، جس نے اسے غیر قانونی طریقہ سے موت کے گھاٹ اتاردیا۔نوتن کا کہنا ہے کہ پولیس کی کارروائی بھی قابل مذمت اور قابل تفتیش ہے۔سماجی کارکن کا یہ بھی الزام ہے کہ پولیس نے وکاس کے ماما پریم پرکاش پانڈے اور اتل دوبےکو بھی انکائونٹر میں ہلاک کردیا ہے، مگر یہ دونوں ہی بے قصور تھے۔ان کا پولیس اہلکاروں کے قتل میں کوئی رول نہیں تھا ۔اسی طرح ، بھاری پولیس فورس کی موجودگی میں اس کے ساتھیوں پربھات مشرا ، پروین دوبے اور اب وکاس دوبے کی ہلاکت کی جو اسٹوری پیش کی جارہی ہے اس پر کوئی بھی یقین نہیں کرسکتا۔ نوتن کے بقول،پولیس کی کہانی میں  بہت ساری خامیاں ہیں ۔اسی طرح، انہوں  نے وکاس کے گھر کومنہدم کردینے کی کارروائی پر بھی سوال اٹھایا ہے۔انہوں نے پوچھا ہے کہ یہ کس کی ہدایت پر کی گئی اور اس کا قانونی جواز کیا ہے؟،یہ بھی تفتیش کرائی جائے۔
 غور طلب ہے کہ نوتن آئی پی ایس افسر امیتابھ ٹھاکر کی اہلیہ ہیں جنہوں نے خود بھی اس انکائونٹر پر سوال اٹھایا ہے۔انہوں نے ایک ٹوئٹ میں سوال کیا ہے کہ ـاتنی جلدی کیا تھی؟انکائونٹر سے پہلے بھی امیتابھ ٹھاکر نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ عین ممکن ہے وکاس کسی انکائونٹر میں مار دیا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK