ولادیمیر پوتن کی ریفرنڈم کے ذریعے تاحیات روسی صدر بننے کی کوشش

Updated: June 27, 2020, 3:53 AM IST | Moscow

پچیس؍تا ۳۱؍ جون ہونے والی عوامی رائے شماری میں کامیاب ہونے پر پوتن کو مزید ۲؍ میعاد کیلئے صدارتی الیکشن لڑنے کی اجازت ہوگی ۔

Vladimir Putin. Photo: INN
ولادیمیر پوتن۔ تصویر: آئی این این

 پوتن کے بغیر روس کا وجود ناممکن ہے۔اس خیال کا اظہار روسی وزارت دفاع کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف نے کیا اور اسی کی گونج روس کے ان لاکھوں لوگوں کی آواز میں سنائی دے گی جو پوتن کو صدر یا وزیرِ اعظم کے طور پر کئی دہائیوں سے دیکھتے آرہے ہیں ۔اور ان لوگوں کا روسی صدر پوتن پر اعتماد یکم جولائی کے ریفرنڈم میں ایک مرتبہ پھر دہرایا جائے۔ اس ریفرنڈم کے ذریعے روسی آئین میں ترمیم کے ذریعے پوتن آئندہ چھ چھ برس کی دو مزید مدتوں کے لئے صدر کا اتنخاب لڑنے کے قابل ہو جائیں گے۔ ان کی صدارت کی موجودہ مدت ۲۰۲۴ء میں ختم ہو جائے گی۔ اس طرح اگر وہ اگلے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں تو ۲۰۳۶ءتک روس کے صدر رہ سکتے ہیں ۔ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں روس کی وکٹری ڈے پریڈ کے اگلے روز ریفرنڈم ہوگا۔ ۷۵؍ برس پہلے روس نے ہٹلر کی جرمن نازی طاقت کو دوسری عالمی جنگ کے دوران یورپ میں شکست دی تھی۔ماسکو کے ریڈ اسکوائر میں کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کے خاتمے کے فوراً بعد فوجی پریڈ یقیناً روسی عوام میں جذبہِ حب الوطنی کو بہت زیادہ بیدار کرے گی۔
 اس پریڈ کی وجہ سے ماسکو کے میئر نے ایک ہفتہ قبل لاک ڈاؤن ہٹانے کا اعلان کردیا ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن ہٹانے کا مقصد ہی یہ ہے کہ صدر پوتن کو فائدہ پہنچایا جائے۔
ریفرنڈم کی ضرورت کیوں پڑی؟
 اس برس جنوری میں روسی صدر نے ملک کے آئین میں عوامی حمایت کے ساتھ ترمیم کی ایک تجویز دی تھی۔ترمیم کیلئے ریفرنڈم میں ایک اہم نکتہ صدر پوتن کے آئندہ دو مرتبہ چھ چھ برس کی دو مدتوں کیلئے صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت دینا ہے۔ دراصل یہ ریفرنڈم ۲۲؍ اپریل کو ہونا تھا لیکن کورونا وائرس کے لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسے یکم جولائی تک موخر کردیا گیا تھا۔سماجی فاصلوں کی شرط کی وجہ سے روس بھر میں ریفرنڈم ۲۵؍ جون سے شروع ہو چکا ہے جو یکم جولائی کو مکمل ہوگا اور ان میں وہ خطے بھی شامل ہیں جو کورونا و سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ٍہر پولنگ سٹیشن پر ایک ہی وقت میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد کی ایک حد ہو گی اور ماسکو کی طرح کچھ علاقوں میں الیکٹرانک ووٹنگ کا نظام بھی قائم کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK