Inquilab Logo Happiest Places to Work

میں اپنی شرائط پر زندہ ہوں، اکیلے رہنا میری پسند ہے: دیویا د تہ

Updated: March 18, 2026, 2:45 PM IST | Mumbai

اداکارہ دویا د تہ پردے پر جتنے مضبوط انداز میں ہر کردار کو پیش کرتی ہیں، حقیقی زندگی میں بھی اپنی بے باکی اور سچائی سے بھرپور باتوں کے لیے جانی جاتی ہیں۔ اسی سلسلے میں دویا نے سماج کی پرانی اور مردانہ حکمرانی والی سوچ پر کھل کر بات کی۔

Divya Dutta.Photo:INN
دویا دتہ۔ تصویر:آئی این این

اداکارہ دیویا د تہ پردے پر جتنے مضبوط انداز میں ہر کردار کو پیش کرتی ہیں، حقیقی زندگی میں بھی اپنی بے باکی اور سچائی سے بھرپور باتوں کے لیے جانی جاتی ہیں۔ اسی سلسلے میں دیویا نے سماج کی پرانی اور مردانہ حکمرانی والی سوچ پر کھل کر بات کی۔
 ایک انٹر ویو کے دوران دیویا نے اکیلے رہنے، شادی اور مادریت کے حوالے سے سماج کی توقعات پر کھل کر اپنی رائے پیش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی انسان کی زندگی کو ایک ہی ترازو میں نہیں تولا جا سکتا اور ہر کسی کی کہانی الگ ہوتی ہے۔
دیویا سے جب پوچھا گیا کہ آج کے دور میں اکیلے رہنا کتنا مشکل ہے اور کیا سماج اب بھی یہ مانتا ہے کہ کوئی عورت شادی یا بچوں کے بغیر مکمل نہیں ہوتی تو انہوں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہاکہ ’’چاہے میرے پاس پارٹنر ہو یا میں اکیلی ہوں، میں اپنی زندگی کا لطف اٹھاتی ہوں اور یہی سب سے زیادہ اہم ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہر انسان کی کہانی الگ ہوتی ہے۔ یہ عام رائے بنانا کہ پارٹنر ہونا اچھا ہے یا اکیلے رہنا اچھا ہے، کسی کے لیے بھی درست نہیں۔ جو آپ کے لیے صحیح کام کرتا ہے، وہ سب سے بہترین ہے۔ میرے لیے یہ صحیح ہے اور میں اس سے خوش ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:کون ہیں’’سرکے چنر‘‘فیم منگلی؟ نغمہ نگار رقیب عالم کا ’’ڈبل میننگ‘‘ گانوں سے پرانا تعلق


انہوں نے آگے کہا کہ ’’میرا واضح ماننا ہے کہ لوگوں کو دوسروں کی زندگی کے فیصلوں پر رائے نہیں دینی چاہیے۔ اگر کسی کو اچھا پارٹنر مل گیا، تو یہ ان کے لیے صحیح ہے۔ اگر نہیں ملا تو انہیں جو صحیح لگے، وہ کرنا چاہیے۔ آپ کسی کی زندگی کو ایک ہی ترازو میں نہیں تول سکتے۔ میری زندگی ایسی ہی رہی ہے اور میں اس کا لطف اٹھاتی ہوں۔ اس لیے جو بھی فیصلے میں نے لیے، ان پر مجھے فخر ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ایپل کے سی ای او ٹم کک نے استعفیٰ کی خبروں کو افواہ قرار دیا

سماج میں آج بھی موجود مردانہ حکمرانی والی سوچ پر بات کرتے ہوئے دیویا نے کہاکہ ’’ترقی کے باوجود یہ پرانی سوچ برقرار ہے۔ تعلیم کا اس سے کوئی تعلق نہیں، یہ بس ایک سوچ ہے۔ ہر انسان کا سفر الگ ہوتا ہے اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے، نہ کہ موازنہ۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK