ہنر مند اور عملی کاموں کی قدر بڑھ رہی ہے۔ صارفین نے کہا کہ پلمبنگ، الیکٹریشن، بڑھئی اور میکانک جیسے پیشوں کی ہمیشہ مانگ رہتی ہے۔
ایک پلمبر اپنا کام کرتے ہوئے۔(علامتی تصویر)- تصویر:آئی این این
ممبئی میں ایک پلمبر کے ساتھ ہونے والی ایک سادہ سی گفتگو نے آمدنی اور کامیابی کے بارے میں حیران کن حقیقت ظاہر کی۔ تقریباً۱۸؍ لاکھ روپے سالانہ کمانے والا یہ پلمبر روایتی کریئر سوچ کو چیلنج کر رہا ہے اور ہندوستان میں ہنر مند کاموں کی مضبوط کمائی کی صلاحیت کو دکھا رہا ہے۔کبھی کبھی ایک معمولی گفتگو بھی گہرا اثر چھوڑ جاتی ہے۔انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ممبئی کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلمبنگ کے کام دوران پلمبر اور شخص کے درمیان ہونے والی مختصر بات چیت وائرل ہو گئی، نہ کہ مرمت کی وجہ سے بلکہ اسلئےکہ اس نے آمدنی، مہارت اور آج کی بدلتی ہوئی کامیابی کی تعریف کو بے نقاب کیا۔ممبئی کے ایک رہائشی نے حال ہی میں اپنا تجربہ آن لائن شیئر کیا۔اس نے پلمبر سے ہونیوالی گفتگو کے حصے ’ریڈاِٹ‘ پوسٹ میں شیئر کئے ۔ یہ گفتگو تب ہوئی جب پلمبر علاقے میں کام کررہاتھ۔ معمولی گفتگو جلد ہی کام، گاہکوں اور روزمرہ زندگی پر بحث میں بدل گئی۔پلمبر حقیقت میں کتنا کما رہا تھا؟تجسس کے تحت رہائشی نے سیدھا سوال کیا: ایک پلمبر سال میں کتنی کمائی کرتا ہے؟ جواب حیران کن تھا۔پلمبر نے بتایا کہ مختلف سوسائٹیز اور پروجیکٹس سے کام لے کر وہ سالانہ تقریباً۱۸؍ لاکھ روپے کما لیتا ہے۔
شروع میں رہائشی کو لگا کہ شاید یہ مبالغہ ہو، لیکن جب پلمبر نے اپنے کام کی مقدار اور فیس کی تفصیلات بتائیں تو یہ رقم حقیقت پسندانہ معلوم ہوئی۔اس انکشاف کو مزید حیران کن کیا چیز بنا رہی تھی؟صرف آمدنی ہی نہیں، بلکہ پلمبر کا طرزِ زندگی بھی توجہ کا مرکز بنا۔بتایا گیا کہ اس کے پاس نئی ہنڈائی کریٹا کار ہے، اپنے گاؤں میں گھر بنا چکا ہے، اور زرعی زمین میں بھی سرمایہ کاری کی ہے۔یہ سب مالی استحکام اور ترقی کی نشانیاں تھیں، جس نے رہائشی کو اپنی لریئر کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا۔کیا ہنر مند پیشے آج زیادہ منافع بخش ہو رہے ہیں؟یہ کہانی تیزی سے آن لائن پھیل گئی اور لوگوں نے اس پر اپنی رائے دی۔ ایک عام بات سامنے آئی: ہنر مند اور عملی کاموں کی قدر بڑھ رہی ہے۔کئی صارفین نے کہا کہ پلمبنگ، الیکٹریشن، بڑھئی اور مکینک جیسے پیشوں کی ہمیشہ مانگ رہتی ہے۔ ان کاموں میں جسمانی موجودگی اور عملی مہارت درکار ہوتی ہے، اسلئے یہ آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت سے کم متاثر ہوتے ہیں۔کچھ لوگوں نے یہ بھی بتایا کہ ایسے پیشوں میں لوگ مختلف گاہکوں کے ساتھ کام کر کے، اپنی ساکھ بنا کر، اور فی کام یا فی گھنٹہ فیس لے کر اپنی آمدنی بڑھا سکتے ہیں۔کیا یہ صرف ایک مثال ہے یا ایک بڑا رجحان؟بہت سے ردعمل سے یہ ظاہر ہوا کہ یہ کوئی ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک وسیع رجحان ہے:ایئر کنڈیشننگ جیسے موسمی کام کرنے والے ٹیکنیشن چند مہینوں میں اچھی خاصی کمائی کر لیتے ہیںہنر مند افراد شہروں میں کام کے ساتھ ساتھ اپنے گاؤں میں سرمایہ کاری یا زراعت بھی کرتے ہیںشہری آبادی میں اضافے کے ساتھ قابلِ اعتماد سروس فراہم کرنے والوں کی مانگ بڑھ رہی ہےنتیجہ واضح تھا: تجربہ اور اچھے نیٹ ورک کے ساتھ بلیو کالر کام بھی انتہائی منافع بخش ہو سکتا ہے۔
یہ جدید کیریئر کے انتخاب کے بارے میں کیا بتاتا ہے؟
یہ وائرل کہانی اس لیے اہم بنی کیونکہ یہ پرانے تصورات کو چیلنج کرتی ہے۔ برسوں سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ ڈگری اور دفتری ملازمت ہی کامیابی کا راستہ ہیں، لیکن ایسی حقیقی مثالیں اس سوچ کو بدل رہی ہیں۔آج کے دور میں مہارت، مستقل مزاجی اور حالات کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت رسمی تعلیم جتنی، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم ہو سکتی ہے۔کیا ہم کامیابی کی نئی تعریف کر رہے ہیں؟یہ واقعہ یاد دلاتا ہے کہ کامیابی کا کوئی ایک راستہ نہیں ہوتا۔ تیزی سے بدلتی دنیا میں روایتی کیریئر کے پیمانے بدل رہے ہیں اور عملی مہارتوں کو دوبارہ اہمیت دی جا رہی ہے۔جو ایک عام پلمبنگ کا کام لگ رہا تھا، وہ دراصل ایک سوچنے کا موقع بن گیا ہےصرف ایک شخص کے لیے نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں کے لیے جنہوں نے یہ کہانی دیکھی۔ یہ ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتا ہے۔