کوزی کوڈ کے وڈاکارا شہر کی رہنے والی اس بلند حوصلہ دوشیزہ کا کہنا ہے کہ ’’نابینا ہونا میری پہچان نہیں ہے، بلکہ میرا حوصلہ اور حصولیابی ہی میری شناخت ہے۔‘‘
جسیلہ جنت جنہوں نے تیسری کوشش میں یہ مشکل امتحان کامیاب کیا ہے- تصویر:آئی این این
کیرالا کی رہنے والی جسیلہ جنت جو ۴۰؍فیصد بصارت سے محروم ہے نے سول سروس امتحان ۲۰۲۵ء میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ ۳۰؍سالہ جسیلہ بنیادی طور پر کوزی کوڈ ضلع کے چھوٹے سے شہر وڈکارا سے تعلق رکھتی ہیں۔ جسیلہ کی والدہ کا نام زینب ہے اور والد کا نام کنج عبداللہ پی مرحوم ہے۔ جسیلہ نے اپنے تیسرے اٹیمپٹ میں ۳۹۷؍واں رینک حاصل کیا ہے۔ اپنی اس حصولیابی کے ذریعہ نہ صرف وہ اپنی ریاست بلکہ ملک بھر کے طلبہ کیلئے ایک بڑی مثال بن گئی ہیں۔
ماتربھومی کی رپورٹ کے مطابق جسیلہ اسکولی دنوں سے ہی ذہین طالبہ رہی ہیں۔ انہوں نے ویلیاپلی اسکول سے دسویں جماعت اور ہائر سیکنڈری کے امتحانات شاندار نمبروں کے ساتھ پاس کئے۔ اس کے بعد انہوں نے دیواگیری سینٹ جوزف کالج سے انگریزی ادب میں گریجویشن مکمل کی۔ ’ڈیلی ہنٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق جسیلہ جنت نے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز،ممبئی سے سوشل ورک میں ماسٹرز کیا ہے۔ ان کا اسپیشلائزیشن ’خواتین پر مرکوز سماجی عمل‘ میں ہے۔ اپنے تعلیمی پس منظر اور سماجی مسائل میں دلچسپی کی وجہ سے انہوں نے امتحان میں سوشیولوجی کو آپشنل مضمون کے طور پر منتخب کیا۔ مکمل وقت امتحان کی تیاری شروع کرنے سے پہلے جسیلہ نے۲۰۲۱ء سے۲۰۲۲ء کے درمیان پراجیتھا فاؤنڈیشن میں پروجیکٹ اسوسی ایٹ کے طور پر کام کیا۔
سول سروس امتحان کی تیاری کیسے کی؟
جسیلہ نے یو پی ایس سی کے وسیع نصاب کو سمجھنے کیلئے آڈیو پر مبنی تعلیمی مواد، وائس ٹو ٹیکسٹ ٹیکنالوجی اورگروپ ڈِسکشن کا سہارا لیا۔ جسیلہ نے اپنی کامیابی کے بارے میں کہاکہ ’’نابینا ہونا میرے لیے ایک امتحان ضرور تھا، لیکن اس نے کبھی میری شناخت متعین نہیں کی۔‘‘انہوں نے بتایا کہ ذاتی رہنمائی اور ٹیکنالوجی کی مدد سے تعلیم ان کی کامیابی میں بہت اہم ثابت ہوئی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سول سروس میں آ کر معذور افراد کے حقوق اور فلاح کے لیے کام کرنا چاہتی ہیں۔انہوں نے اپنی تیاری کے دوران ایک سال تک ژائلم آئی اے ایس میں خصوصی کوچنگ بھی حاصل کی اور۲۰۲۵ء کے سول سروس بیچ کا حصہ رہیں۔ اس ادارے کے۲۹؍طلبہ نے اس سال کے نتائج میں رینک حاصل کیا ہے۔ تعلیم کے علاوہ جسیلہ کو فنون لطیفہ سے بھی دلچسپی رہی ہے۔ اسکول کے زمانے میں انہوں نےمِمکری، لوک گیت اور روایتی ملیالم شاعری میں نمایاں کارکردگی دکھائی تھی۔