Inquilab Logo Happiest Places to Work

وال اسٹریٹ جرنل رپورٹ: ٹرمپ کی سخت بیانیہ پالیسی دراصل نفسیاتی حکمتِ عملی

Updated: April 20, 2026, 9:00 PM IST | Washington

امریکی اخبار دی وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جارحانہ پالیسی بظاہر سخت مگر اندرونی طور پر محتاط حکمتِ عملی پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ عوامی بیانات اور بند کمرہ فیصلوں میں واضح فرق موجود ہے، جبکہ اصل مقصد جنگ نہیں بلکہ سفارتی ’’ڈیل‘‘ حاصل کرنا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکی جریدے دی وال اسٹریٹ جرنل نے ڈونالڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی، خصوصاً ایران کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ان کی حکمتِ عملی کے دو مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی عوامی تقاریر اور بیانات میں جہاں سختی، دھمکی آمیز لہجہ اور جارحانہ انداز نمایاں ہوتا ہے، وہیں بند کمرہ ملاقاتوں میں وہ کسی بڑی جنگ کے نتائج سے محتاط اور پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ اخبار نے اس تضاد کو ’’جارحیت اور خوف کا امتزاج‘‘ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل زمین ہڑپنے کیلئے سلامتی کو بہانہ بنا رہا ہے: ترک وزیر خارجہ

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کا سخت بیانیہ دراصل ایک سوچی سمجھی نفسیاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایران پر دباؤ ڈال کر اسے مذاکرات کی میز پر لانا اور ممکنہ رعایتیں حاصل کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ طرزِ عمل روایتی سفارت کاری سے ہٹ کر ہے، جہاں بیانات کو بطور ’’پریشر ٹول‘‘ استعمال کیا جا رہا ہے۔ مزید انکشاف کیا گیا کہ صدر ٹرمپ کسی بھی ایسی براہِ راست زمینی فوجی کارروائی سے گریز کرنا چاہتے ہیں جس سے امریکی فوج کو جانی نقصان ہو یا امریکہ کی معیشت پر بھاری بوجھ پڑے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی ترجیح مکمل جنگ کے بجائے محدود دباؤ اور مذاکراتی برتری حاصل کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کے سبب تل ابیب کے ۱۰۰۰؍ سے زائد گھر ناقابل رہائش: میئر کا انکشاف

رپورٹ میں ایک واقعے کا بھی ذکر کیا گیا جس میں ایران کی جانب سے امریکی طیارہ گرائے جانے کے بعد ٹرمپ شدید ردعمل کا شکار ہوئے اور اپنے مشیروں پر ناراضی کا اظہار کیا۔ اس واقعے کو اس بات کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا کہ بظاہر سخت مؤقف کے باوجود اندرونی سطح پر دباؤ اور غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس رپورٹ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کا اصل ہدف جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ ایک بہتر سفارتی معاہدہ حاصل کرنا ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ کا ’’پبلک امیج‘‘ اور حقیقی پالیسیوں کے درمیان فرق ایک ایسی حکمتِ عملی کی نشاندہی کرتا ہے جس میں سخت بیانات کو مذاکراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے امکانات زیر غور ہیں، جس سے اس تجزیے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK