تل ابیب کے میئر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران جنگ کے سبب تل ابیب کے ۱۰۰۰؍ سے زائد گھر رہائش کے قابل نہیں رہے، جبکہ اسرائیلی حکام نے ایران اور لبنان کے ساتھ۴۰؍ روزہ جنگ کی لاگت کا تخمینہ تقریباً۱۷؍ اعشاریہ ۵؍ ارب ڈالر لگایا ہے۔
EPAPER
Updated: April 19, 2026, 10:17 PM IST | Tel Aviv
تل ابیب کے میئر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران جنگ کے سبب تل ابیب کے ۱۰۰۰؍ سے زائد گھر رہائش کے قابل نہیں رہے، جبکہ اسرائیلی حکام نے ایران اور لبنان کے ساتھ۴۰؍ روزہ جنگ کی لاگت کا تخمینہ تقریباً۱۷؍ اعشاریہ ۵؍ ارب ڈالر لگایا ہے۔
تل ابیب کے میئر رون ہلڈائی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ کے نتیجے میں شہر کے ۱۰۰۰؍سے زائد مکانات رہائش کے قابل نہیں رہے۔اسرائیلی چینل۱۲؍ نے ہولڈائی کے حوالے سے بتایا کہ ’’ایرانی میزائلوں اور ڈرون سے ہونے والے نقصان کی وجہ سے تل ابیب میں۱۰۰۰؍ سے زائد اپارٹمنٹ اب رہنے کے قابل نہیں ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے دوران، جو۲۸؍ فروری کو شروع ہوئی، تہران نے ایرانی سرزمین پر بڑے پیمانے پر حملوں کے جواب میں اسرائیل کے بڑے شہروں پر بار بار میزائل اور ڈرون حملے کیے۔کچھ میزائل اور حملوں کو ناکام بنانے کی کوششوں کے دوران گرنے والے ملبے نے تل ابیب، رامات گان اور بنی براک میں عمارتوں کو نشانہ بنایا، جس سے درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے،اس کے علاوہ مکانات، گاڑیوں اور شہری نظام کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
بعد ازاں چینل ۱۲؍ نے اس ہفتے کے شروع میں خبر دی کہ اسرائیلی حکام نے ایران اور لبنان کے ساتھ ۴۰؍ روزہ جنگ کی لاگت کا تخمینہ تقریباً ۱۷؍ اعشاریہ ۵؍ ارب ڈالر لگایا ہے۔ تاہم اس رقم میں تعمیر نو کے اخراجات یا لڑائی کے دوران اسرائیلی معیشت کی جزوی بندش سے ہونے والے نقصانات شامل نہیں ہیں۔ بعد ازاں اسرائیلی میڈیا کے مطابق، تقریباً۳۰؍ ہزار اسرائیلیوں نے اسرائیلی ٹیکس حکام کے معاوضہ فنڈ میں براہ راست املاک کے نقصان کے دعوے دائر کیے ہیں، جن میں عمارتوں سے متعلق ۱۸۴۰۸؍ دعوے، آلات سے متعلق۲۵۹۴؍، اور گاڑیوں سے متعلق۶۶۱۷؍ دعوے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: طاقت کے قانون پر قانون کی طاقت کا غلبہ ضروری: انتونیو غطریس
اسرائیلی معاشی ویب سائٹ کالکلست نے گزشتہ ہفتے خبر دی تھی کہ گزشتہ جون میں ایران کے خلاف ۱۲؍ روزہ جنگ کے دوران کاروباروں کو دئے معاوضے کی تقریباً۷۵۳؍ ملین ڈالر کی لاگت آئی تھی۔ جبکہ مالی وزارت کا تخمینہ ہے کہ۲۸؍ فروری سے۸؍ اپریل کے درمیان لڑی گئی جنگ سے معاوضے کی لاگت۲؍ اعشاریہ ۲؍ ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستانی دارالحکومت میں ہونے والی بات چیت جنگ ختم کرنے کے حتمی معاہدے پر نہیں پہنچ سکی، تاہم۸؍ اپریل کو عارضی جنگ بندی نافذ ہوگئی۔