Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس ریت کی دیوار تھی؟

Updated: June 09, 2026, 8:42 AM IST | New Delhi

مغربی بنگال اسمبلی میں ۶۰؍ اراکین اسمبلی کے مخالف تیوروں کے بعد ٹی ایم سی کو لوک سبھا میں چیلنج، پارٹی کے ۲۸؍ میں سے ۲۰؍ اراکین پارلیمان نے بغاوت کردی

Mamata Banerjee knew since Sunday night that the party was going to break up in the Lok Sabha too. (Photo: PTI)
ممتا بنرجی کو اتوار کی رات سے ہی اس بات کا علم تھا کہ لوک سبھا میں بھی پارٹی ٹوٹنےوالی ہے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

 پیر کو جب ’’انڈیا‘‘ کے بینر تلے اپوزیشن کی پارٹیاں بی جےپی کے خلاف خود کو متحد رکھنے کیلئے میٹنگ کررہی تھیں،اسی وقت مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کی رہائش گاہ پرمیٹنگ میں  ٹی ایم سی  میں  پھوٹ کی بنیاد رکھی جارہی تھی۔ بنگال کے وزیراعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کی موجودگی میں ہونے  والی اس میٹنگ میں  ٹی ایم سی کے ۲۸؍ میں  سے ۲۰؍ اراکین پارلیمان نے الگ گروپ بنا کر این ڈی اے کی حمایت کافیصلہ کیا اور  ذرائع کے حوالے سے ملنےوالی اطلاعات کے مطابق اس ضمن  میں لوک سبھا کے اسپیکر کو مکتوب بھی روانہ کردیا ہے۔  
کاکولی گھوش باغیوں کی لیڈر
 لوک سبھا اسپیکر کو این ڈی اے کی حمایت کا مکتوب ٹی ایم سی کی سینئر لیڈر کاکولی گھوش دستیدار کی جانب سے بھیجا گیا ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے  کہ ۲۰؍ اراکین پر مشتمل ان  کا گروپ بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کا حصہ بننا چاہتا  ہے  اور ابھیشیک بنرجی کی قیادت والی ٹی ایم سی  پارلیمانی پارٹی سے الگ ہونا چاہتاہے۔بردھمان پوربا سے ترنمول کی رکن پارلیمنٹ اور باغی گروپ میں شامل شرمیلا سرکار نے  میڈیا سے گفتگو کی اور بتایا کہ ’’ہم نے ایک میٹنگ کی۔ ہم الگ بیٹھنا چاہتے ہیں۔ میں دیدی (ممتا بنرجی) کا احترام کرتی ہوں۔  میں کام کرنا چاہتی تھی لیکن نہیں کر سکی۔ ہم نے مل کر کاکولی دی کی قیادت میں الگ بلاک بنایا  ہے۔ اس سے بنگال کی ترقی میں مدد ملے گی۔‘‘
 انہوں نے بتایا کہ ’’ہم۲۰؍ اراکین   پارلیمان ہیں۔ بھوپیندر یادو کی رہائش گاہ پر وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کی موجودگی میں ہماری میٹنگ ہوئی۔ بنگال کی ترقی کیلئے ہمیں این ڈی اے کی حمایت کرنی ہوگی۔ کاکولی دی نے خط جمع کرادیا ہے۔ فی الحال وہی ہمارے گروپ کی قیادت کر رہی ہیں۔‘‘
ٹی ایم سی ریت کی دیوار 
 مغربی بنگال اسمبلی  الیکشن میں شکست کے بعد ممتا بنرجی کیلئے اپنے اراکین اسمبلی و پارلیمان  کو متحد رکھنا مشکل ہورہاہے۔ پارٹی ریت کی دیوار کی طرح ڈھے رہی  ہے۔ اس سے قبل بنگال اسمبلی کیلئے ٹی ایم سی کے ٹکٹ پر منتخب ہونےوالے  ۸۰؍ اراکین  میں سے ۶۰؍  نے سووندیب چٹوپادھیائے    کے  اپوزیشن لیڈر کےطور پر  انتخاب کو قبول کرنے سے انکارکرتےہوئے بغاوت کی اور اپنا الگ گروپ بنا لیا۔ اب یہ بحران دہلی تک پہنچ گیا ہے  جس کے بعد یہ سوال پیدا ہوگیا ہے کہ کیا باغی اراکین پارٹی کے نام اور انتخابی نشان پر بھی دعویٰ  کریںگے؟ اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو کیاشیوسینا اور این سی پی کی تاریخ دہرائی جائے گی۔
 راجیہ سبھا میں بھی’ بغاوت‘
 راجیہ سبھا میں ترنمول کے اراکین کا مستقبل ابھی واضح نہیں ہے تاہم پارٹی کے سینئر لیڈر اور ایوانِ بالا کے رکن سکھندو شیکھر رائے نے پیرکو راجیہ سبھا کی رکنیت اور ٹی ایم سی کی بنیادی رکنیت  سے استعفیٰ دے دیا۔ لوک سبھا میں ٹی ایم سی کے ۲۸؍ اور  راجیہ سبھا   میں ۱۳؍ اراکین ہیں۔  
ممتا خاموش، مہوا موئترا کا باغیوں کو چیلنج
  ممتا بنرجی جو دہلی میں ہی ہیں، لوک سبھا میں  پارٹی   کے ٹوٹنے کےخبر پر خاموش ہیں تاہم ان کی شعلہ بیان لیڈر مہوا موترا نے این ڈی اے کا ساتھ دینےوالے اراکین کو چیلنج کیا ہے کہ وہ استعفیٰ دیں  اور نئے سرے سے الیکشن لڑ کر کامیابی حاصل کریں۔ انہوں نے ایکس پر کئے گئے ایک پوسٹ میں  لکھا ہے کہ ’’تمام لالچی اور ذاتی مفاد کیلئے کام کرنے والے غداربلا جھجھک بی جے پی میں شامل ہو جائیں لیکن اپنی نشستوں سے استعفیٰ دیں اور بی جے پی کے ٹکٹ پر دوبارہ انتخاب لڑیں۔ پھر دیکھتے ہیں کہ آپ کتنے بڑے ہیرو ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK