دہلی پولیس نے ان کی بس کو مختلف مقامات پر روک کر آگے نہیں بڑھنے دیا، جس کے بعد اپوزیشن لیڈران پیدل ہی مارچ کرتے ہوئے گاندھی اسمرتی تک پہنچے
EPAPER
Updated: July 24, 2026, 8:26 AM IST | New Delhi
دہلی پولیس نے ان کی بس کو مختلف مقامات پر روک کر آگے نہیں بڑھنے دیا، جس کے بعد اپوزیشن لیڈران پیدل ہی مارچ کرتے ہوئے گاندھی اسمرتی تک پہنچے
لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں انڈیا اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ نے طلبہ کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے گاندھی اسمرتی(برلا ہائوس) پہنچ کر مرکز کو شدید تنقیدوں کا نشانہ بنایا۔ اپوزیشن نے طلبہ پر تشدد، تعلیمی نظام میں بے ضابطگیوں اور تنازعات پر وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی دہرایا۔
راہل گاندھی کی قیادت میں انڈیا اتحاد کے متعدد اراکین پارلیمنٹ جمعرات کو گاندھی اسمرتی جانے کے لئے روانہ ہوئے، تاہم راستے میں دہلی پولیس نے ان کی بس کو مختلف مقامات پر روک دیا۔ اپوزیشن لیڈروں کا الزام ہے کہ پولیس نے بیریکیڈنگ اور سرکاری بسیں کھڑی کرکے انہیں آگے بڑھنے سے روکنے کی کوشش کی۔ کچھ دیر کی رکاوٹ کے بعد انہیں آگے جانے کی اجازت دی گئی اور وہ گاندھی اسمرتی پہنچ گئے، جہاں انہوں نے قومی ترانہ بھی گایا۔
گاندھی اسمرتی پہنچنے کے بعد راہل گاندھی نے کہا کہ اسی مقام پر مہاتما گاندھی کو قتل کیا گیا تھا اور آج مودی حکومت ملک میں جمہوریت کا قتل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت طلبہ پر ظلم کر رہی ہے، انہیں احتجاج کرنے پر مارا پیٹا جا رہا ہے ، اپوزیشن اس صورتحال کو قبول نہیں کریگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی کو وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا چا ہئے اور ملک کے طلبہ سے معافی مانگنی چا ہئے۔اس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ جب ملک کے طلبہ سڑکوں پر ہیں تو اپوزیشن جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ نے بھی ان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارا یہ احتجاج ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ہی تھا ۔